وکلاء برادری، پہلی بار تو تقسیم نہیں ہوئی!

وکلاء برادری، پہلی بار تو تقسیم نہیں ہوئی!
 وکلاء برادری، پہلی بار تو تقسیم نہیں ہوئی!

  


ایسا کوئی پہلی بار تو نہیں ہوا، وکلاء بھلے زیادہ پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہی میں سے منصف بھی بنتے ہیں،لیکن یہ ہیں تو اسی معاشرے کا حصہ،جو سیاسی، مادی اور مفاداتی حوالے سے تقسیم ہو چکاہے، سو وکلاء بھی اس سے مبرا نہیں ہیں، اور اب تو جو تقسیم ہوئی ہے وہ اگرچہ خالص ایک آئینی مسئلہ کی بناء پر ہے تاہم اسے اب مختلف رنگ میں دیکھا گیا ہے، وکلاء حضرات اگر آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس مسئلہ پر کسی فیصلے یا نتیجے پر پہنچنا چاہتے تو ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی،ان کی تنظیموں کے اجلاس بلا لئے جاتے اور وہاں زور دار طریقے ہی سے سہی، تھوڑے شور اور ہنگامے کے بعد ہی اکثریت رائے سے فیصلہ ہو جاتا تو بہتر تھا ایسا نہ ہونا بدقسمتی ہے اور اگر گستاخی نہ ہو تو یہ طرزِ عمل دورِ آمریت کی نشانی ہے،جس کا آغاز بھی ایوبی آمریت سے ہوا جب لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن باقاعدہ دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔

پھر جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی اسے آزمایا گیا اور اب پھر یہ صورت پیدا ہو گئی ہے،کہا تو یہ جا رہا ہے کہ یہ آئینی مسئلہ ہے،لیکن بدقسمتی سے یہ علاقائی رنگ میں بھی رنگا جا چکا ہے، یہ کیسی تقسیم ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری مدمقابل ہیں، نعرہ بازی اپنی جگہ یہاں تو دھکم پیل بھی ہوئی ہے اور یہ ملک و قوم کے لئے کوئی مثبت بات نہیں۔

بات بظاہر معمولی اور بہت گہری ہے۔ مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک بڑے اور متمول خاندان کے فرد ہیں۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ ان کے والدکا تعلق قیام پاکستان اور بانیئ پاکستان سے کتنا قریبی تھا اور ان کی خدمات کیا ہیں، قاضی فائز عیسیٰ عدالت عظمیٰ میں بعض فیصلوں کے حوالے سے اپنے اختلافی نوٹس کی وجہ سے روشنی میں آئے اور انہوں نے تو محترم سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ہی کے دور میں بعض اہم ریمارکس دیئے تھے، اسی دور میں ریفرنس کی بات ہو رہی تھی تاہم معاملہ ٹل گیا،لیکن اب حکومت کی طرف سے ان کے خلاف باقاعدہ قواعد و ضوابط کے سہارے آئینی راستہ اختیار کر کے ریفرنس دائر کر دیا گیا اور شاید برابر، برابر والی اصطلاح کے تحت سندھ ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس کے کے۔ آغا کے خلاف بھی ریفرنس دائر ہو گیا۔

اگرچہ دونوں فاضل جج حضرات کا تعلق دو مختلف صوبوں سے ہے۔قاضی فائز عیسیٰ بلوچستان اور کے کے۔ آغا کا سندھ سے ہے۔ تازہ ترین صورتِ حال تو یہ ہے کہ گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل کا جوا جلاس طلب کیا گیا اس میں یہ ریفرنس بھی ایجنڈے میں رکھ لئے گئے۔ یہ بالکل ابتدائی سماعت تھی اور کونسل نے فیصلہ کرنا تھا کہ ریفرنس قابل ِ سماعت بھی ہیں یا نہیں؟تاہم ریفرنسوں کے مخالف وکلاء حضرات نے براہِ راست کہہ دیا کہ ان کو واپس لیا جائے کہ یہ محترم مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ماضی قریب کے فیصلوں کی وجہ سے ہے،جو بعض مقتدر حلقوں کو ناگوارگزرے تھے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کنرانی کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں بلوچستان سے صرف ایک جج ہیں،جو سینیارٹی کے حوالے سے چیف جسٹس کے عہدہ جلیلہ پر بھی فائز ہوں گے، اور یہ بات گوارا نہیں اور ریفرنس ان کو روکنے کے لئے ہے۔ ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا کہ ریفرنس دائر کرتے وقت اس کی خبر بھی لیک کی گئی،جس سے قاضی فائز عیسیٰ(فاضل جج)کی پوزیشن متاثر ہوئی۔ بہرحال جو بھی ہو، جتنی بھی محاذ آرائی ہو جائے، اب معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے اور فیصلہ اسی کا ہو گا۔

ہم نے یہ ذکر اِس لئے کیا کہ وکلاء میں ہر سیاسی جماعت کے لائرز ونگ ہیں، جتنی بڑی جماعت ہے اتنے زیادہ وکلاء اس طرف ہوتے ہیں، اور یوں اب یہاں بھی مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے علاوہ انصاف لائرز ونگ بھی ہے اور حکومت تحریک انصاف کی ہے،چنانچہ اس حصے کی طرف سے حکومتی موقف کی بھی سمجھ آتی ہے،جہاں تک مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو دونوں جماعتوں نے مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے موقف کی کھلی حمایت کی ہے تو ان جماعتوں کے وکلاء کا رجحان بھی اسی طرف ہوتا تھا، لیکن یہاں عاصمہ جہانگیر اور پروفیشنل گروپ کے اندر بھی تقسیم ہو گئی ہے۔

تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کئی وکلاء نے اس اقدام کو غیر مناسب اور حکومت کے لئے خطرناک قرار دیا ہے، جبکہ سنجیدہ فکر طبقہ تو یوں بھی اب بار رومز کی ہنگامہ خیز سیاست سے دور رہتا ہے۔ تاہم یہ سب جو اب بزرگ بھی ہیں بہت فکر مند ہیں، ان کے نزدیک وکلاء اور عدلیہ میں کسی بھی قسم کی تقسیم بہت غلط ہے۔ یہی وکلاء برادری تقسیم در تقسیم ہونے کے باوجود پروفیشنل اداروں (بار ایسوسی ایشنز) کی حد تک الگ الگ نہیں اور انتخابات کے ذریعے ہی اپنی حمایت کا فیصلہ کرتی ہے، تاہم موجودہ صورتِ حال کو تشویش سے دیکھتے ہیں، بہتر عمل اب بھی یہی ہے کہ اب تک جو ہوا سو ہوا آئندہ کے لئے محاذ آرائی اور ہنگامہ آرائی کی بجائے جمہوری طرزِ عمل اختیار کیا جائے کہ قومی تقسیم مستقبل کے لئے بھی درست نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم