کرکٹ ورلڈ کپ اور سیاسی حالات

کرکٹ ورلڈ کپ اور سیاسی حالات
کرکٹ ورلڈ کپ اور سیاسی حالات

  


پاکستان میں ورلڈکپ 2019ء کے میچز کو روایتی جوش و خروش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوام کی کرکٹ سے جنون کی حد تک محبت کی لاتعداد مثالوں کو پیش کیا جا سکتا ہے،مگر اس حوالے سے ایک بڑی مثال یہ ہے کہ آج پاکستان میں ایک ایسا شخص وزیراعظم ہے جس نے کئی برسوں تک زبردست کرکٹ کھیلی اور 1992ء میں پاکستان کو ورلڈکپ دِلا کر کروڑوں عوام کا ہیرو بنا۔عمران خان اپنی 22سالہ سیاست کے دوران اور پھر وزیراعظم بننے کے بعد بھی بار بار قوم کو یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ وہ ایک ایسے کپتان رہے ہیں جنہوں نے قوم کو ورلڈکپ جیت کر دکھایا۔ عمران خان کی تقر یروں اور جلسوں میں کرکٹ کی اصلاحات کا ذکر بھی اکثر ہو تا رہتا ہے۔

سابق کامیاب کرکٹر کے طور پر عمران خان اب بھی پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں بھر پور دلچسپی لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ورلڈکپ2019ء کے دوران بھی انہوں نے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر نظر رکھی ہوئی ہے۔کرکٹ ٹیم کی کارکردگی جب بھی خراب ہوتی تو عمران خان کرکٹ ٹیم کی اس کارکردگی کو ملکی سیاسی صورتِ حال کے ساتھ وابستہ کر کے دیکھتے عمران خان کا موقف رہا کہ اگر ملک میں سیاسی حالات درست ہوں اور ملکی قیادت میرٹ کا خیال رکھے تو کرکٹ ٹیم کی کار کر گی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ ورلڈکپ کے ان دِنوں میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا کسی ملک کے سیاسی حالات کا اثر اس ملک کے کھیلوں پر بھی پڑتا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لئے ہم دُنیا کے کئی ممالک کی مثالوں کا جائزہ لیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کھیلوں کی کارکردگی کو ملکی سیاسی و معاشی حالات کے ساتھ وابستہ کر کے دیکھنے کا تصور صرف پاکستان میں ہی نہیں، بلکہ دُنیا کے کئی ممالک میں پایا جاتا ہے۔ جیسے 2014ء میں فٹ بال کے ورلڈکپ ٹورنامنٹ میں برازیل کی فٹ بال ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تو برازیل کے میڈیا اور سماجی حلقوں کی جانب سے یہ رائے سامنے آئی کہ برازیل کی معاشی صورتِ حال خراب ہے اور کرپشن اس کے سیا سی اداروں میں سرایت کر چکی ہے،اِس لئے اس خراب معاشی اور ابتر سیاسی حالات کا اثر اس کی فٹ بال ٹیم پر بھی ہوا۔

اِسی طرح جب 1974ء میں بھارت کی کرکٹ ٹیم کو برطانیہ کی ٹیم سے ٹیسٹ سیریز میں 3-0سے شکست ہوئی تو بھارت کے کئی تجزیہ نگاروں کی جا نب سے یہ رائے سامنے آئی کہ بھارت میں اندرا گا ندھی کی حکمرانی کے باعث سیاسی ابتری کا دور دورہ ہے، معیشت تباہ حال ہے، کرپشن زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکی ہے بھارت کی اس سیاسی و معاشی صورتِ حال سے اس کی کرکٹ ٹیم بھی متاثر ہو رہی ہے اِس لئے بھارتی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بھی انتہائی خراب ہو چکی ہے۔الغرض ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں کسی ملک کے کھیلوں کی ٹیم کی کارکردگی کو اس ملک کے سیاسی و معاشی حالات کے ساتھ وابستہ کر کے دیکھا جاتا ہے۔

جزوی طور پر یہ بات درست ہے کہ کسی ملک کے سیاسی یا معاشی حالات جہاں ہر شعبے پر اپنا اثر قائم کر رہے ہوتے ہیں وہاں کھیل بھی اس اصول سے مبرا نہیں ہوتے،مگر کیا کلی طور پر کسی ملک کے کھیلوں کی ٹیم کی کارکردگی کو اس ملک کی سیاسی و معاشی صورتِ حال کے ساتھ وابستہ کرنا ایک منطقی رویئے کا اظہار ہے؟ چلئے دُنیا کی مثالیں دینے سے پہلے ہم اپنے ملک کی ہی مثال سے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ پاکستان کے اکثر مورخین اور تجز یہ نگا ر اس امر پر متفق ہیں کہ پاکستان کو اس کی سیاسی تاریخ میں سب سے بڑے بحران کا سامنا 1971ء میں اس وقت کرنا پڑ رہا تھا جب اس کا اکثریتی حصہ (مشرقی پاکستان) اس سے الگ ہونے جا رہا تھا اور اسی سال 1971ء میں پا کستان کو صحیح معنوں میں ایک کلاسیکل خانہ جنگی کا سامنا بھی تھا۔

یہ استدلال کہ ملک کی سیاسی صورتِ حال کھیلوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اس کے مطابق تو 1971ء میں پاکستان کی سیاسی صورتِ حال کا اثر اس کے کھیلوں پر بھی ہونا چاہئے تھا، مگر اس تاریخی حقیقت سے ہم کس طرح منہ موڑیں گے کہ اسی سال 1971ء میں پاکستان نے ہاکی کا ورلڈکپ جیتا۔یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ یہ باقاعدہ طور پر ہاکی کا پہلا ورلڈکپ تھا،جو پاکستان نے اپنے نام کیا۔اب اگر کرکٹ کی مثالوں کی جانب آئیں تو کرکٹ کا پہلا ورلڈکپ (1975ء) اور دوسرا ورلڈکپ (1979ء)دونوں ہی مرتبہ ویسٹ انڈیز نے جیتا۔

1970ء کی دہائی میں Caribbean کے جزیروں پر مشتمل ریاستیں (ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا تعلق ان جزیروں پر مشتمل ریاستوں سے ہی ہے) شدید سیاسی ابتری کا شکار تھیں اس پوری دہائی میں آئے روز نت نئے مسلح فوجی انقلابات ان جزیروں کا مقدر بنے ہو ئے تھے۔ سیاسیات میں Banana Republic کی اصطلاح کافی حد تک Caribbean کے جزیروں پر مشتمل ان ریاستوں پر صادق آتی تھی۔

سیا سی مخالفین کو ختم کرنے کے لئے باقاعدہ طور پر جنگیں ہو رہیں تھیں۔اس انتہائی ابتر سیاسی صورتِ حال کے باوجود ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے اسی دہائی میں دو مرتبہ کرکٹ ورلڈکپ جیتا اور کئی سال تک وہ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کی بہترین ٹیم کے طور پر جانی جاتی رہی،بلکہ یہ ایک عجیب طرح کا تضاد ہی تھا کہ جب 1990ء کی دہائی میں Caribbean کے جزیروں پر مشتمل ان ریاستوں میں کسی حد تک سیاسی استحکام پیدا ہوا تو ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم زوال کا شکار ہو نے لگی۔اسی طرح اسی زمانے میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو بھی انتہائی مضبوط ٹیم مانا جاتا تھا۔

خاص طور پر 1977ء سے1979ء تک کے دو سال میں انگلش ٹیم نے آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز جیسی بڑی ٹیموں کو بھی بڑے بڑے مارجن سے شکست سے دوچار کیا،مگر دوسری طرف اگر اس وقت کے برطانیہ کی سیاسی صورتِ حال کو دیکھا جائے تو اس وقت برطانیہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد کے زمانے کے سب سے ابتر سیاسی اور معاشی صورتِ حال کا سامنا کر رہا تھا۔ برطانیہ میں بے روزگاری میں اضا فہ ہو رہا تھا ہڑتالیں روز کا معمول بن چکی تھیں، جبکہ اسی زمانے میں سیاہ فام اور ایشیائی باشندوں کے ساتھ برطانیہ کے سفید فام افراد کے جھگڑے بھی عام تھے،مگر اس سب کے باوجود برطانیہ کی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی قابل تحسین تھی۔1983ء کا کرکٹ ورلڈکپ جیتنے والا ملک بھارت تھا۔

یہ وہ دور تھا جب آج کے برخلاف بھارت کو دُنیا کا ایک انتہائی غریب ملک تصور کیا جاتا تھا۔ سب سے بڑھ کر اُس وقت بھارت میں علیحدگی کی درجنوں مسلح تحریکیں بھی مو جو دتھیں، مگر اس صورت حال کے باوجود بھارت 1983ء کا ورلڈکپ اپنے نام کرنے میں کامیا ب رہا اور بھارت کی یہ صورتِ حال اس کی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کے آڑے نہیں آئی۔اسی طرح جب سری لنکا کی ٹیم نے 1996ء میں قذافی سٹیڈیم لاہور میں ورلڈکپ جیتا،تو اس وقت سری لنکا داخلی سطح پر شدید مسائل میں گھرا ہوا تھا۔سری لنکا میں سیاسی عدم استحکام اور خراب معاشی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ تاملوں کی انتہا پسند مسلح تحریک LTTE سری لنکا کے استحکام اور امن کے لئے بہت بڑا چیلنج بنی ہوئی تھی۔ اس کے با وجود 1996ء میں کرکٹ کا تاج سری لنکا کے سر سجا۔

ایک کالم میں اتنی گنجائش مو جود نہیں ورنہ مزید مثالوں سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اس استدلال میں خاص وزن نہیں کہ کسی ملک کے سیا سی،داخلی اور معا شی حالات کسی ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں پر بھی مکمل طور پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مختلف ممالک کی ٹیموں کے مابین ہو نے والے مقابلے اپنے اندر بھرپور قومی تفاخر کا احساس لئے ہوتے ہیں۔ دُنیا بھر کے ماہرین عمرانیات اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ جذبہ حب الوطنی کو ابھارنے میں کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے ممالک جن کی داخلی،سیاسی اور معا شی صورتِ حال خراب ہو،ان کے کھیلوں کی ٹیمیں اس بنا ء پر بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ کسی اور میدان میں نہیں تو کھیل کے ہی میدان میں اپنے ملک کا لوہا منوایا جا ئے۔ اولمپیاء (قدیم یونان) میں صدیوں پہلے جب یونان کی حریف شہری ریاستوں کے درمیان ہر چار سال بعد کھیلوں کے مقابلے ہوتے تو ایسی ریاست کے کھلاڑی ایسی حریف ریاست کے کھلاڑیوں کے مقابلے میں جیتنے کے لئے جان تک کی بازی لگا دیتے جن ریاستوں نے ان کو جنگوں میں شکست دی ہوتی۔

شاید حالیہ عہد میں اس کی ایک بڑی مثال 1986ء کے فٹبال ورلڈکپ میں ارجنٹائن اور برطانیہ کے مابین کوارٹر فائنل کا میچ ہے۔یہ میچ برطانیہ اور ارجنٹائن کے مابین دس ہفتوں تک جاری رہنے والی فاک لینڈ جنگ کے صرف چار سال بعد ہوا۔ اس جنگ میں برطانیہ نے ارجنٹائن کو شکست دی،مگر چار سال بعد فٹ بال ورلڈکپ کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن نے برطانیہ کو شکست دی اور ارجنٹائن نے دعویٰ کیا کہ ہم نے برطانیہ سے جنگ کا بدلہ لے لیا ہے۔

مزید : رائے /کالم