ریٹائرمنٹ کی عمر:وزرائے اعلیٰ سے تجاویز طلب

ریٹائرمنٹ کی عمر:وزرائے اعلیٰ سے تجاویز طلب
 ریٹائرمنٹ کی عمر:وزرائے اعلیٰ سے تجاویز طلب

  


وزیراعظم پاکستان کے دفتر سے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وزراء اعلیٰ کو ”انتہائی جلدی“ (MOST-IMMEDIATE) کے ٹیگ کے ساتھ ایک ڈائریکٹو بعنوان ”تجویز برائے ریٹائرمنٹ کی عمرمیں اضافہ“ جاری کیا گیا ہے، جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ اگر سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو 60سال سے بڑھایا یا کم کر دیا جائے تو اس کے ممکنہ قانونی، مالی اور انتظامی اثرات کے بارے میں رپورٹ دی جائے۔

ڈائریکٹومیں وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان معاملات پر دو دن کے اندر اندر چھان بین کر کے اپنی سفارشات وزیراعظم آفس کو روانہ کریں۔ ہم ا س مو ضوع کی حقانیت کے بارے میں اپنے پچھلے کالم (شائع کردہ 2 1 جون بروز بدھ) بعنوان ”سرکاری ملازمین کی مدت ریٹائرمنٹ 63سال کرنے کی تجویز“ میں لکھ چکے ہیں۔ وزیراعظم آفس کی طرف سے جاری کردہ ڈائریکٹو سے ہماری تجویز کی تائید ہوتی ہے کہ حکومت جاری مالی بحران سے نمٹنے کے لئے جو مثبت اقدامات اٹھا رہی ہے ان میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو 60 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کی تجویز منظوری کے مراحل تیزی سے طے کر رہی ہے اور ممکن ہے کہ ہمیں بہت جلد اس تجویز کی منظوری کی خبر بھی مل جائے۔

بجٹ 2019-20ء کی نقاب کشائی ہو چکی ہے، اخراجات بہت زیادہ ہیں اور یہ سارے اخراجات بھی ضروری ہیں ان سے بچنا مشکل ہے، بلکہ نا ممکن ہے سب سے پہلے ”قر ضے“ہیں ہمارے اندرونی اور بیرونی قرضوں کا حجم ناقابل ِ برداشت ہوچکا ہے، گزرے 10/11 سال کے دوران قرضوں کا حجم بہت تیزی سے بڑھا ہے اسی حوالے سے حکومت ایک اعلیٰ سطحی کمیشن بھی قائم کر رہی ہے تاکہ اس بات کی تحقیقات کی جا سکیں کہ یہ قرضے کہاں گئے، کن شرائط پر لئے گئے، لینا ضروری بھی تھا کہ نہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ تو ہوتا رہے گا،لیکن سردست ہمارے اخراجات کی فہرست میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خرچ اسی مد میں درکار ہے۔

ہماری قومی اقتصادیات پر اسی قرضے کا بوجھ سب سے زیادہ ہے پریشان کن ہے۔ ناقابل ِ برداشت ہے ہماری تمام تر صلاحیتیں اسی مرض سے نمٹنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ دوسری بڑی مد ”دفاعی اخراجات“ہیں جن کے ”اہم“اور ”انتہائی ضروری“ ہونے کے بارے میں قطعاًدو آراء نہیں پائی جاتی ہیں ہم جس علاقائی اور عالمی صورتِ حال میں رہ رہے ہیں دشمن جس طرح کھلے اور چھپے ہمارے خلاف مصروف ِ عمل ہیں اس کو دیکھتے ہوئے دفاعی اخراجات پر سوال اور جواب کرنا یا انہیں کم کرنے کی کوشش کرنا قومی خود کشی ہی ہو گی۔

اخراجات کی فہرست میں تیسری بڑی مد سرکاری اخراجات ہیں،یعنی سرکاری اداروں کو چلانے کے اخراجات، تنخواہیں، پنشن وغیرہ یہ بھی انتہائی ضروری اخراجات ہیں۔کار سرکار کو جاری وساری رکھنے کے لئے ان اخراجات سے فرار ممکن نہیں ہے افسران و اہلکاروں کی تنخواہوں، عمارات کی مرمت تک، ایسے اخراجات ہیں جنکی ادائیگی کرنا ہی ہوتی ہے۔

2018-19ء کے بجٹ میں درج سرکاری اخراجات کی مد میں 342ارب روپے پنشنرز کی ادائیگیوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ 2019-20ء کے بجٹ میں یہ خرچ بڑھ کر 421 ارب روپے ہوگیا ہے گزشتہ برس کی نسبت، ان اخراجات میں 23فیصد اضافہ ہوا ہے، یعنی حکومت کو رواں سال 79ارب روپے اضافی خرچ کرنا ہوں گے۔ پنشن کی ادائیگی ایک ”لازمی خرچ“ہے، جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ حکومت نے بجٹ 2019-20ء میں ٹیکس و صو لیوں کو بڑھانے کی حکمت ِ عملی اختیار کی ہے، یعنی بڑھے ہوئے اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے لئے آمدنی میں اضافہ کرنا شروع کردیا ہے، کیونکہ بھاری اور ضروری اخراجات سے عہدہ براء ہونے کے لئے یہ ضروری ہے یہ الگ بات ہے کہ ایسی وصولیوں کے شہریوں /عوام پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے، عمو می معاشی صورتِ حال کس طرف جائے گی وغیرہ وغیرہ۔

وزیراعظم کی طرف سے قائم کردہ ”ٹاسک فورس برائے انسٹی ٹیوشنل ریفارمز“کی طرف سے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال سے بڑھا کر 63سال کرنے کا آئیڈیا پیش کیاگیا ہے۔ ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر عشرت حسین کا خیال ہے کہ یہ پہلے قدم کے طور پر وفاقی سیکرٹریوں پر لاگو کیا جائے، لیکن ٹاسک فورس کے دیگر ممبران کے خیال میں اس طرح کنفیوژن پیدا ہونے کے امکانات ہیں اس لئے اسے مکمل طور پر نافذ کرنے کے لئے وزیراعظم آفس نے منسٹری آف فنانس کو بھی کہا ہے کہ اس تجویز کو نافذ کرنے کے حوالے سے ہوم ورک مکمل کرے۔

وزرائے اعلیٰ کو لکھے گئے خط کا بھی یہی مقصد نظر آرہا ہے کہ حکومت اس تجویز کو نافذ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔جاری معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ انتہائی صائب نظر آرہا ہے اگر یہ فیصلہ نافذ کر دیا جائے تو اس سے حکومت کو نہ صرف کارآمد اور تجربہ کار افراد کی خدمات میسر آجائیں گی، بلکہ پنشن کی ادائیگیوں کا کچھ نہ کچھ بوجھ ضرور کم ہوگا۔

مزید : رائے /کالم