پاکستان کا Divider-in-Chiefکون؟

پاکستان کا Divider-in-Chiefکون؟
 پاکستان کا Divider-in-Chiefکون؟

  


بھارتی انتخابات کے موقع پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ابھار کر ہندوقوم پرستوں کے ووٹ سمیٹنے پر مغربی میڈی نے نریندر مودی کو Divider-in-Chiefکا ٹائٹل دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں Divider-in-Chiefکا ٹائٹل کس کو دیا جا سکتا ہے؟

ا س وقت دیکھا جائے تو پاکستانی قوم بری طرح تقسیم ہے، ہر شعبہ ہائے زندگی میں بڑھتی خلیج لمحہء فکریہ بنتی جا رہی ہے، افسوس تو یہ ہے کہ عدلیہ کے ایک باوقار جج کے خلاف ریفرنس فائل ہونے پر وکلاء برادری بھی تقسیم کا شکار نظر آتی ہے۔ اگر یہ تقسیم فطری بنیادوں پر ہوتی تو کوئی مضائقہ نہ تھا، لیکن صورتِ حال کا عمیق جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس تقسیم کو manageکیا گیا ہے۔

یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ جب بھی بجٹ آتا ہے تو اپوزیشن لامحالہ احتجاج کرتی ہے اور حکومت اس احتجاج کو ٹالنے کے حربے اختیار کرتی ہے اور عوام کو اس پراپیگنڈے سے متاثر نہ ہونے کی سعی کرتی ہے،جو اپوزیشن کر رہی ہوتی ہے، مگر اس بار بجٹ پیش ہونے کے بعد جس طرح اپوزیشن قیادت کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی ہے وہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ حکومت تو احتجاج کو دبانے کے لئے (جو حکومت کے مطابق بجٹ پر احتجاج کے بجائے ملک میں کرپشن کے خاتمے کی مہم کے تحت) پکڑ دھکڑ دھکڑ کر رہی ہے اور دوسری جانب اپوزیشن کا احتجاج ہر آئے روز کے ساتھ التوا کا شکار ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ بجٹ کے اعلان سے قبل عوام کا تاثر یہ تھا کہ اپوزیشن بجٹ کے اعلان کا انتظار کر رہی ہے، لیکن اب جبکہ بجٹ کا اعلان ہو چکا اور اپوززیشن کی جانب سے احتجاج کی کال نہیں دی گئی ہے اور عوام میں یہ بحث عام ہے کہ اپوزیشن اِس لئے سڑکوں پر نہیں آرہی یا نہیں عوام کو نہیں لا پارہی کیونکہ ریاست کے تمام اہم ادارے حکومت کے ساتھ ہیں۔

اگر یہ تاثر درست ہے تو کیا مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا خاتمہ اس لئے ہوگیا تھا کہ ریاستی ادارے اس کے ساتھ نہیں کھڑے تھے؟ اس تاثر کا جواب ہی اس بات کا تعین کرے گا کہ ہمارے ریاستی ادارے میں تقسیم کا عمل کس قدر گہرائی اختیار کر چکا ہے، کیونکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ریاستی اداروں کی پسند اور ناپسندیدگی کے رویوں سے عوا م میں بددلی پیدا ہو رہی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ عوامی بددلی کا پہلا نشانہ سیاست دان ہیں، لیکن اگر ریاستی اداروں کو حکومتی بجٹ اقدامات کے ساتھ کھڑے ہونے کا تاثر گہرا ہوگیا تو یہ بددلی ریاستی اداروں کی دہلیز تک بھی پہنچ جا ئے گی اور نہ صرف سیاست، بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ بھی خراب ہوگی، کیونکہ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ریاستی ادارے بے اصولی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کے مسائل کے حل پر حکومت پر زور ڈالنے کی بجائے حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ وفاقی وزیر ٹیکنالوجی فواد چودھری پہلے ہی یہ کہہ کر بدنام ہو چکے ہیں کہ ریاستی ادارے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا ریاستی ادارے اس کے ساتھ کھڑے ہیں یا نہیں۔یہ تاثر معاشرے میں تقسیم کے عمل کو تیز تر کر سکتا ہے اِس لئے ریاستوں کی غیر جانبداریت کے تاثر کو اس طرح سے زائل نہیں ہونا چاہئے،جس طرح ان دنوں ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کو یقین ہے کہ ریاستی ادارے،چونکہ اس کے پشت پرکھڑے ہیں اِس لئے وہ الیکشن ہار کر بھی اقتدار میں آسکتے ہیں، ریاستی ادارے ان کی پشت پر ہیں اِس لئے جہانگیر ترین اور علیمہ خان اسی جرم کی پاداش میں بری ہو سکتے ہیں، جس کی سزانواز شریف اور آصف علی زرداری اور کے قریبی ساتھی بھگت رہے ہیں۔

اگر یہ تاثر گہرا ہوتا چلا گیا تو آدھی قوم اداروں کے ساتھ اور آدھی مخالفت میں کھڑی نظر آئے گی اور نقصان ریاستی اداروں کی بجائے معاشرے اور ملک کا ہوگا۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ حکومت مخالف سیاسی تحاریک کے چلنے کا دارومدار بھی ادارہ جاتی حمائت سے نتھی ہوتا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب اس سوال سے کہ اپوزیشن احتجاج کرپائے گی یا نہیں سے بڑا سوال یہ بن چکا ہے کہ آیا احتجاج ہونا بھی چاہئے یا نہیں، کیونکہ لوگ جہاں اپوزیشن سے توقع باندھے ہوئے ہیں وہیں اپوزیشن سے نالاں بھی ہیں۔

آخر میں ایک نکتہ اٹھانا ہے کہ آخر تحریک انصاف نے وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کے پیچھے گانے چلانے کیوں بند کر دیئے ہیں۔ خاص طورپر جب ان کا خطاب ٹی وی کے لئے ریکارڈ ہوتا ہے تو اس صورت میں تو گانے شامل کرنا بھی اور بھی آسان ہوجاتا ہے۔اِس لئے ہماری درخواست ہے کہ وزیراعظم کے قوم سے خطاب کے دوران بیک گراؤنڈ میوزک کا ضرور اہتمام کیا جایا کرے، کیونکہ اس کے بغیر ان کا پبلک امیج ادھورا ادھورا لگتا ہے۔

مزید : رائے /کالم