بلڈ ڈونر ڈے…… ”بلڈ ڈونر تیری عظمت کو سلام“

بلڈ ڈونر ڈے…… ”بلڈ ڈونر تیری عظمت کو سلام“

خون اور اجزائے خون کا استعمال انسانی زندگیاں بچانے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جہاں خون کا بروقت انتقال انسانی زندگیاں بچا سکتا ہے وہاں خون کا مکمل طور پر سکرین شدہ ہو نا بھی انتہائی ضروری ہے۔ غیر سکرین شدہ خون انسانی جسم کو مختلف قسم کے امراض میں مبتلا کر سکتا ہے یہی وجہ سے کہ اِس سال ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے کا موضوع بھی "Safe Blood for All"یعنی ”محفوظ خون سب کے لئے “ اِس موضوع کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ خون کو بیماریوں سے مکمل طور محفوظ کیا جائے اور پھر استعمال میں لایا جائے۔

ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے اُن آٹھ(08) دونوں میں سے ایک دِن ہے جو ہرسال WHO کی طرف منایا جاتا ہے۔ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے کا مقصد لوگوں میں خون دینے کی آگاہی اور شعور پیدا کرنا ہے۔عطیہ کئے گئے خون سے ضرورت مند لوگوں کی جانیں بچائی جاتی ہیں، یہ دن سب سے پہلے 2004ء میں منایا گیا اِس دن کو ہر سال 14 جون کو نوبل انعام یافتہ سائنس دان کارل لینڈ سٹینر (Karl Landsteiner)کی پیدائش (14 جون 1868ء) کی مناسبت سے منایا جاتا ہے،جنہوں نے A,B,O بلڈ گروپنگ سسٹم کو دریافت کیا، جسکے نتیجے میں 1907ء میں ریوبن اُٹن برگ(Reuben Ottenberg) نے ماؤنٹ سینین ہسپتال نیو یارک (Mount Sinain Hospital New Yark) میں پہلی مرتبہ بلڈ ٹرانسفیوژن کا تجربہ کیا اس تجربہ کی کامیابی کے بعد بے شمار مریضوں کی زندگیاں بچانا ممکن ہُوا۔

اس دِن کو منانے کا مقصد بلڈ ڈونرز کی حوصلہ افزائی کر نا ہے جو بلامعاوضہ خون عطیہ کرکے دوسرے لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہیں اِس کے ساتھ ساتھ دوسرے انسانوں کی جان بچانے کے لئے صحت مند خون اور خون کی فراہمی کی اہمیت پر زور دینا بھی ہے۔خون کا عطیہ دینے والوں شکریہ ادا کرنا اور عطیہ خون کے لئے آگاہی دینا ہے۔

ہر صحت مند انسان تین ماہ بعد خون کا عطیہ دے سکتا ہے، سائنسی تحقیق کے مطابق یہ قدرتی عمل ہے کہ 90 سے 120 دن کے اندر سرخ خلئے (Red Blood Cells) ختم یا ضائع ہو جاتے ہیں تو پھر کیوں نہ ہم یہ عطیہ کردیں تاکہ اس سے قیمتی انسانی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال دُنیا میں 112.5 ملین خون اکٹھا کیا جاتا ہے اِس میں سے 47فیصد خون ترقی یافتہ ممالک میں اکٹھا ہوتا ہے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا میں 57فیصد ملکوں میں 100فیصد خون بلامعاوضہ خون عطیہ کرنے والے لوگوں سے لیا جاتا ہے۔ عطیہ کیے گئے خون کے ایک بیگ سے تین اجزاء تیار کئے جاتے ہیں جو مختلف مریضوں کو لگائے جاتے ہیں اور اس طرح خون کا ایک بیگ عطیہ کر کے تین انسانی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ قرآنی آیت ہے کہ ”جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اُس نے پوری انسانیت کی جان بچائی“ پاکستان میں روزانہ 8000 خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ کُل آبادی کا صرف ایک فیصد (01%) لوگ خون کا عطیہ کرتے ہیں جو کہ نا کافی ہے، جبکہ عطیہ کردہ خون کا 60فیصد تھیلے سیمیا کے مریض بچوں کے استعمال میں آتا ہے باقی دیگر عطیہ کیا گیا خون بہت سی طبی پیچیدگیوں، قدرتی آفات اور عمل جراحی کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔اگر پاکستان میں عطیہ خون کا تناسب 04-05 فیصد تک ہوجائے تو بہت سی قیمتی انسانی زندگیوں کے چراغوں کو روشن رکھا جا سکتا ہے جو کہ عطیہ خون کی عدم دستیابی کی وجہ سے زندگی کے چراغ گُل ہوجاتے ہیں۔

اِس دن کی مناسبت سے قومی و صوبائی سطح پر بلڈ ڈونرز کی تعداد بڑھانے کے لئے ضروری کے بلڈ ڈونیشن کے رجحان میں اضافہ کرنے کے لئے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر آگاہی مہم چلائی جائے اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے تاکہ عوام میں بلڈ ڈونیشن کے شعور کو اُجاگر کیا جا سکے۔

میری رائے کے مطابق بلڈ ڈونیشن کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور بلڈ ڈونرز کی وفاقی و صوبائی سطح پر پذیرائی کی جائے اور ان کو تعریفی اسناد اور سرٹیفکیٹ سے نوازا جائے۔ ریگولر بلڈ ڈونرز کو کالجز اور یونیورسٹیوں کی فیسوں میں خصوصی طور پر ریلیف دیا جائے۔

وفاقی و صوبائی سطح پر گورنر ہاؤسز، وزارئے اعلیٰ ہاؤسز، پرائم منسٹر ہاؤس اور پریزیڈنٹ ہاؤس میں سرکاری طور پر اس قسم کی تقریبات کا انعقاد کیا جائے اوران کی حوصلہ افزائی کی جائے توعوام میں خون عطیہ کرنے کا شعور پیدا ہوگا، جس سے قیمتی انسانی زندگیا ں بچانے میں مدد ملے گی۔

اس ضمن میں یہ بات آپ علم میں لانا چاہتا ہوں جو کہ بہت ہی خوش آئند ہے کہ سُندس فاؤندیشن نے ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے منانے کی تقریب کے حوالے سے چودھری محمد سرور گورنر پنجاب سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے بلا تا خیر گورنر ہاؤس میں اس تقریب کو منعقد کرنے کی نا صرف اجازت دی، بلکہ میزبانی کی پیشکش کی جو کہ بلڈڈونرز اور سُندس فاؤنڈیشن کے لئے قابل ستائش ہے۔ چوہدری محمد سرور گورنر پنجاب کا یہ عمل مستقبل میں دوسروں کے لئے مشعل راہ ثابت ہو گا۔

پاکستان میں بہت سے فلاحی ادارے خون کی فراہمی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اِ ن میں سے ایک نام سُندس فاؤندیشن کابھی ہے جو جدید طریقے سے خون اور اجزائے خون کی ترسیل کے لئے اپنی مثال آپ ہے سُندس فاؤنڈیشن نہ صرف اپنے رجسٹرڈ تھیلے سیمیا، ہیمو فیلیا و بلڈ کینسر کے مریضوں کو، بلکہ سرکاری و نجی ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو بھی صاف اور صحت مند خون مفت مہیا کر تا ہے۔

”بلڈ ڈونر تیری عظمت کو سلام“

مزید : رائے /کالم