سی ڈی اے کی ”کفالت شعاری“ ایوان صدر کے طوطوں کیلئے بیس لاکھ پنجرے

سی ڈی اے کی ”کفالت شعاری“ ایوان صدر کے طوطوں کیلئے بیس لاکھ پنجرے

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

لگتا ہے ملک کے طول و عرض میں سادگی اور کفایت شعاری کی جس مہم کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے اور بچہ بچہ جس سے باخبر ہے۔ دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کو اس کی خبر نہیں اور اگر خبر ہے توپروا نہیں، کیونکہ یہ ادارہ ایوان صدر کو ایسے وقت میں آراستہ و پیراستہ کر رہا ہے  جس میں طوطوں کے لئے پنجرے بنائے جا رہے ہیں۔ جب بجٹ میں نئے ٹیکسوں کی بھرمار کر دی گئی ہے۔ بجٹ ابھی منظور ہوا نہیں اور مہنگائی کا جن آدم بو، آدم بو کرتا ہوا مارکیٹوں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھر رہا ہے اور ہر چیز پر مہنگائی کا فسوں پھونکتا چلا جا رہا ہے اور یہ بھی نہیں دیکھ رہا کہ حکومت نے تو بجٹ عوام دوست بنایا ہے وہ کیوں اسے دشمنی میں تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے، لیکن جنوں پر انسانوں کی حکومت تو نہیں چلتی،البتہ  بعض جن ایسے ہوتے ہیں جن کی جان طوطوں میں ہوتی ہے ممکن ہے ایوان صدر کے یہ طوطے ایسے ہی قیمتی ہوں،  بات سی ڈی اے کی ہو رہی ہے جس نے کفایت شعاری کی پروا نہ کرنے کا بالکل درست فیصلہ کیا ہے اور  ایوان صدر کو  صاحب صدر اور ملک و ملت کے شایان شان بنانے کا فیصلہ کیا ہے،  طوطے کے پنجروں پر ہی 20لاکھ روپے خرچ کر ڈالنے کا پروگرام ہے۔  جو بظاہر بڑی رقم تو نظر آتی ہے لیکن یہ ایوان صدر کے طوطے اور ایوان صدر کے پنجرے ہیں۔ کوئی ہما شما کا گھر تو نہیں ہے، ممکن ہے کبھی کسی غیر ملکی مہمان کو بھی  پنجرے اور  طوطے دکھانا پڑ جائیں، اگر کوئی معمولی طوطا پنجرے میں قید ہوگا تو مہمان کیسے متاثر ہوگا۔ ایک زمانے میں جب فاروق لغاری اس بڑے ایوان میں رہتے تھے تو انہوں نے چند اخبار نویسوں کو یاد کیا اور انہیں  اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کی شاہ خرچیوں کی کہانیاں سنانے لگے۔ انہیں خاص اعتراض اس بات پر تھا کہ وہ ملک بھر میں موٹرویز کا جال کیوں بچھا رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان سے اس موضوع پر بات کی تو انہوں نے مجھے بھی پیشکش کردی کہ ڈیرہ غازی خان تک بھی ایک موٹروے بنائی جاسکتی تھی، لغاری صاحب  اس پیشکش پر خوش نہیں ہوئے، کیونکہ جاگیردارانہ مزاج میں ایسے منصوبوں کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہوتی، جن سے عوام بھی مستفید ہوں۔  وہ چاہتے ہیں کہ ان کے علاقے بھلے سے پسماندہ رہیں لیکن ان کی  ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں اور حویلیاں دور ہی سے دیکھنے والوں کے دل دہلاتی رہیں۔ ایک اخبار نویس نے ان پر پوچھا کہ سنا ہے آپ نے بھی ایوان صدر میں خطیر رقم خرچ کرکے ایک سوئمنگ پول بنایا ہے۔ جس پر ان کا جواب تھا کہ وہ تو سوئمنگ نہیں کرتے، البتہ غیر ملکی معزز مہمانوں کے لئے ایسا کرنا پڑا، پھر انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ ایرانی صدر پاکستان کے دورے میں ایوان صدرمیں ٹھہرے تو انہوں نے سوئمنگ کی خواہش ظاہر کی۔  جو سوئمنگ پول پہلے سے  موجود تھا اس میں غالباً جلدی میں صاف پانی نہیں بھرا گیا یا کوئی اور وجہ ہوئی کہ سوئمنگ کے بعد ان کے جسم پر غیر صاف پانی میں تیرتی ہوئی چیزیں جم گئیں۔  لغاری صاحب نے ملک کی اس ہتک کو محسوس کیا کہ اس کے ایوان صدر میں کوئی ڈھنگ کا سوئمنگ پول بھی نہیں ہے۔ اس لئے انہوں  جو خجالت محسوس کی اس کا ازالہ بعدمیں اس شکل میں کیا کہ ان دنوں کے حساب سے خطیر رقم خرچ کرکے سوئمنگ پول کو ری ماڈل کیا اور یہ اہتمام بھی کیا کہ اس کا پانی صاف اور غیر ملکی معزز مہمانوں کے استعمال کے قابل ہو۔ ویسے بھی جو حکمران ان بڑے ایوانوں میں رہتے ہیں ان کے کوئی نہ کوئی شوق تو ہوتے ہیں۔ آصف زرداری جب ایوان وزیراعظم کے مکین تھے تو  انہوں نے  وہاں اپنی پسند کے جانور رکھے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے انسان ہو یا جانور اس کی دیکھ بھال تو کرنی پڑتی ہے اور اگر کوئی جانور کسی بڑے آدمی کے زیر کفالت ہو تو اس کی خدمت بھی اسی حساب سے ہوتی ہے۔ جب بینظیر بھٹو کی حکومت خود فاروق لغاری نے ختم کی تو زرداری کے خلاف ایوان  وزیراعظم میں جانور رکھنے پر بھی  ایک ریفرنس دائر ہوگیا، وہ پانچ برس ایوان صدر میں بھی رہے اور وہاں بہت سی تقریبات بھی ہوتی رہیں۔ معلوم نہیں ان  پر بھی کوئی ریفرنس بنایا نہیں، کیونکہ ان پر بھی خرچ تو اٹھتا ہے۔ ویسے صدر عارف علوی نے بھی چند ماہ قبل ایوان صدر میں ایک مشاعرہ کرایا تھا جس پر 38لاکھ روپے خرچ ہوگئے۔ جن شاعروں نے شرکت کی انہیں ظاہر ہے سفر خرچ اور مشاعرے کی فیس تو دینی ہی تھی، کھانا بھی کھلانا تھا کہ شاعر خالی چائے پر تو نہیں ٹرخائے جاسکتے تھے۔ سناہے کھانے پر 10لاکھ کا خرچا اٹھ گیا۔ بعض ”آؤٹ کلاس“ شعرا کو اس مد میں زیادہ فراخ دلی سے ادائیگی کردی گئی، ممکن ہے کسی کو اس مشاعرے پر خرچ ہونے والی رقم پر اعتراض ہو، لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ رقم کچھ زیادہ نہیں تھی۔ معترضین نے خواہ مخواہ اعتراض کردیا، غالباً اس وقت تک طوطے اور پنجرے کا معاملہ سامنے نہیں تھا ورنہ خدا لگتی کہیئے کہ اگر صرف چند طوطوں کی خاطر 20لاکھ کے پنجرے بنائے جاسکتے ہیں  تو 40,30شاعروں کے لئے 38لاکھ روپے خرچ کردینا کوئی مہنگا سودا تو نہیں۔ ویسے بھی ایوان صدر کو تو یونیورسٹی وغیرہ بنانے کا اعلان کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ یہ سعادت تو صرف وزیراعظم ہاؤس کو ملنے والی تھی۔  معلوم نہیں یہ کام کس مرحلے میں ہے، لیکن یونیورسٹی بنانے سے پہلے اس ہاؤس کو دوبار  تزئین و آرائش کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔ اتفاق سے یہ دونوں مراحل دو شہزادوں کے لئے طے کرنے پڑے، کیونکہ انہیں ٹھہرانے کے لئے کوئی دوسری جگہ دستیاب نہیں تھی۔ ایک شہزادے تو یہاں قیام کرکے اتنے خوش ہوئے کہ وہ ورزش کی جو قیمتی مشینیں  اور دوسرا سامان اپنے دو روزہ دورے میں استعمال کے لئے بڑے اہتمام سے ساتھ لائے تھے وہ یہیں چھوڑ گئے۔ اب سنا ہے کہ اتنے عالیشان ایوان کو یونیورسٹی کے قیام کے لئے غیر مناسب سمجھا گیا ہے، لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یونیورسٹی یہاں بن کے رہے گی، بلکہ چند ماہ بعد یہاں داخلے بھی شروع ہونے والے ہیں، لیکن ہمیں یہ بات ایک لطیفہ محسوس ہوئی جو تفننِ طبع کے لئے یہاں درج کردیا ہے، کسی کی دل آزاری  مقصود نہیں۔

20لاکھ کا پنجرے

مزید : تجزیہ