”جب ہم 1996ءکے ورلڈکپ میں بھارت سے ہار کر واپس آئے تھے تو۔۔۔“ عاقب جاوید نے تلخ حقیقت بتاتے ہوئے کھلاڑیوں کو اہم مشورہ دیدیا

”جب ہم 1996ءکے ورلڈکپ میں بھارت سے ہار کر واپس آئے تھے تو۔۔۔“ عاقب جاوید نے ...
”جب ہم 1996ءکے ورلڈکپ میں بھارت سے ہار کر واپس آئے تھے تو۔۔۔“ عاقب جاوید نے تلخ حقیقت بتاتے ہوئے کھلاڑیوں کو اہم مشورہ دیدیا

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کیلئے قومی ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی کی خوشگوار یادوں کے ساتھ میدان میں اترنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم کو نفسیاتی بلاکیج کو توڑنے کی کوشش کرنا ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ ورلڈکپ مقابلوں میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے حوالے سے ایک نفسیاتی بلاکیج ہے جسے توڑنے کی کوشش کرنا ہوگی مگر یہ کیسے ٹوٹے گا اس کا جواب مشکل ہی ملتا ہے البتہ جب یہ بلاکیج ٹوٹ گیا تو پاکستان جیتنا شروع کر دے گا۔

عاقب جاوید نے کہا کہ شارجہ میں ہم جیتا کرتے تھے لیکن ورلڈکپ میں ہم ہار جاتے ہیں، اب جونہی ورلڈ کپ میچ آتا ہے ہم کہتے ہیں کہ یہاں تو ہارنا ہی ہے، اب ہمیں اس چیز کو ختم کرنا ہو گا جس کیلئے اس مرتبہ کچھ الگ کریں۔عاقب جاوید نے اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ بھارت سے ہارنے سے زیرو تو ہوتے ہی ہیں اور مشکلات بھی بڑی ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1996ءکے ورلڈکپ میں بھارت سے شکست کے بعد جب وطن واپس آئے تو بڑے تلخ تجربات ہوئے، میں دو ماہ گھر سے باہر نہیں نکلا، ٹماٹر اور گندے انڈے پڑے، اس لیے بھارت سے جیت بہت ضروری ہے۔

سابق کرکٹر کا کھلاڑیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس خوف کے سا تھ میدان میں مت اتریں کہ یہاں تو ہارنا ہی ہے، چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم نے فائنل میں بھارت کو ہرایا اور کھلاڑی ان ہی خوشگوار یادوں کے ساتھ میدان میں اتریں، یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ شیکھر دھون کے نہ ہونے سے بھارت کو بہت فرق پڑے گا وہ دباو¿ میں ہوں گے اس لیے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔

مزید : کھیل