فواد چوہدری نے دراصل تھپڑ کیوں مارا ؟ بالآخر سمیع ابراہیم کا موقف بھی سامنے آگیا

فواد چوہدری نے دراصل تھپڑ کیوں مارا ؟ بالآخر سمیع ابراہیم کا موقف بھی سامنے ...
فواد چوہدری نے دراصل تھپڑ کیوں مارا ؟ بالآخر سمیع ابراہیم کا موقف بھی سامنے آگیا

  


فیصل آباد (ویب ڈیسک)  فواد چوہدری اور سینئر صحافی سمیع ابراہیم سمیت ملک کی اہم شخصیات فیصل آباد میں نجی ٹی وی چینل’’ 92 نیوز‘‘ کے مالک میاں حنیف کی صاحبزادی کی شادی کی تقریب میں شریک تھے جہاں دونوں میں تلخ کلامی ہوئی اور بات اس حد تک بڑھ گئی کہ وفاقی وزیر نے سینئر صحافی کو تھپڑ مار دیا۔ واقعہ پیش آنے پر فواد چوہدری تقریب سے چلے گئے تاہم  شادی کی تقریب میں موجود لوگ اکٹھے ہوگئے، اس موقع پر وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے سینئر صحافی سے معذرت بھی کی۔

اب اس بارے میں خبررساں ایجنسی’’ آئی این پی‘‘ سمیع ابراہیم کا موقف بھی سامنے لے آئی ہے ۔ ایجنسی کے مطابق تقریب میں موجود لوگوں نے سمیع ابراہیم سے دریافت کیا کہ ایسا کیوں ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے پروگراموں میں ان پر تنقید کی تھی جب کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی ایک ایسا ٹوئٹ کیا تھا جس میں میں نے انکشاف کیا تھا کہ فواد چوہدری تحریک انصاف کے اندر ایک گروپ بنا رہے ہیں جس کو  وہ پیپلز پارٹی سے ملوانا چاہتے ہیں جس پر فواد چوہدری نے مجھے دھمکیاں بھی دی تھی اور اب تقریب میں انہوں نے ایسے طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

یادرہے کہ  فیصل آباد کے تھانہ منصورآباد میں اندراج مقدمہ کیلئے سینئر صحافی نے درخواست بھی دیدی جس میں   سمیع ابراہیم نے موقف اپنایا کہ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے وہ اپنے دوستوں ارشد شریف، رئووف کلاسرا، ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن اور پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فرخ حبیب کے ہمراہ آئے تھے ، اس دوران وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ان پر حملہ کردیا، انہیں تھپڑمار ا اور گالیاں دیں، سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں لہٰذا مقدمہ درج کیاجائے ۔

مزید : قومی