بلاول نے مریم نواز کی دعوت قبول کرلی

بلاول نے مریم نواز کی دعوت قبول کرلی
بلاول نے مریم نواز کی دعوت قبول کرلی

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان  پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زردار ی نے کہاہے کہ جتنے کیسز  بنانے ہیں بنا لیں،میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، فوجی عدالتوں اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے،ہماری قیادت اور کارکن پھانسیاں قبول کرتے ہیں لیکن نظریے پر مفاہمت نہیں کرتے،مریم نواز کی لنچ کی دعوت قبول کرلی ہے ، جلد ملاقات ہوگی، عوامی رابطہ مہم شروع کررہے ہیں، اپوزیشن کی اے پی سی بھی ہو رہی ہے جس میں اہم فیصلے ہوں گے ۔

نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہپاکستان پیپلزپارٹی نظریاتی جماعت ہے، ڈرنے والی نہیں، ہم یو ٹرن نہیں لیتے، ہماری قیادت اور کارکن پھانسیاں قبول کرتے ہیں لیکن نظریے پر مفاہمت نہیں کرتے، 18ویں ترمیم کو پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت نے پاس کیا، جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ،فوجی عدالتوں اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے،ہم نے کبھی کسی کو ضرورت سے زیادہ سپورٹ نہیں کیا، میں شہید بینظیر بھٹو،آصف علی زرداری اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نظریے پر قائم ہوں، پی ٹی ایم کے معاملے پر ہیومن رائٹس کی بات کر رہا ہوں، میں کہتا ہوں انہیں عدالت میں موقف بیان کرنے دیا جائے،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا الگ الگ نظریہ اور منشور ہے تاہم عوام اور ملکی مسائل کیلئے مل کر چلنے کیلئے تیار ہیں، ملکی مسائل زیادہ ہیں، کوئی پارٹی تنہا ملکی مسائل کوحل کرنے کے قابل نہیں ہے ۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کو معلوم تھا کہ آصف زرداری سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرکے مسائل سے نکال سکتے ہیں، اس لئے انہیں گرفتار کیا گیا، حکومت کا دباؤ صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں، سازش کے تحت عدلیہ پر حملے ہو رہے ہیں،چیئرمین نیب کیخلاف بھی سازش کی گئی، چیئرمین نیب ان کا ہر حکم مانتے تھے لیکن ایک بات پران پر بھی دباؤ ڈالا گیا، آصف زرداری اگر جیل میں ہوں گے تو تحریک انصاف کا بجٹ پاس کیسے ہو سکتا ہے؟ پہلے بھی ایسے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا اب بھی کریں گے، ہر ادارے کو دھونس اور دھاندلی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے اگر پارلیمنٹ کو اسی طرح چلایا گیا تو آمر اور نئے پاکستان میں کیا فرق ہے؟ جمہوری حقوق پر حملے ہو رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا موقف ہے پارلیمان کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے، کٹھ پتلی حکومت ملک کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ، پاکستان کے مسائل کا حل کوئی ایک آدمی نہیں نکال سکتا، سب کو مل کر پاکستان کے مسائل حل کرنا ہوں گے، (ن) لیگ کے ساتھ نظریاتی اختلاف ہے لیکن ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہیں، ہم سب کو مل کر آئی ایم ایف بجٹ کو روکنا ہے، مریم نواز نے لنچ کی دعوت دی ہے جسے قبول کیا ہے جلد ملاقات کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ آج ایک نہیں2 پاکستان ہیں، حکومت نے چوروں اور ڈاکوں کے لیے ایمنسٹی سکیم دی لیکن پاکستان کے غریبوں کے لیے کوئی ایمنسٹی سکیم نہیں، نئے بجٹ سے80لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے، عمران خان نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف جانے سے پہلے خودکشی کرلوں گا لیکن وہ آئی ایم ایف کے پاس جا کر پورے ملک کو خودکشی کروا رہے ہیں، پنجاب کا نوجوان ان کی معاشی دہشت گردی کا بوجھ اٹھائے گا،آصف زرداری کی گرفتاری کے باوجود ہم نے انہیں موقع دیا کہ عوام دوست بجٹ آیا تو اس کی حمایت کریں گے، ہم نے کہا تھا کہ اگرعوام دشمن بجٹ دیا توعید کے بعد عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صوبوں کے وسائل پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے، ہر صوبے کا بجٹ کاٹا جارہا ہے، یہ ظلم ہے، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں معاشی حملے ہو رہے ہیں، نئے پاکستان کے نئے پنجاب کی صورتحال آپ کے سامنے ہے، نالائق وزیراعظم نے سب سے بڑے صوبے کے لیے نالائق وزیراعلی چنا، پرانے پنجاب میں بجٹ 600 ارب ہوتا تھا آج 200 ارب ہے۔

مزید : قومی