وفاق  کا رویہ انتہائی  افسوس ناک اور غیر ذمہ دارانہ، 10 سال سے بجٹ بنا رہا ہوں ، لیکن  اس طرح کی  صورتحال  کبھی پیش  نہیں آئی:سید مراد علی شاہ

وفاق  کا رویہ انتہائی  افسوس ناک اور غیر ذمہ دارانہ، 10 سال سے بجٹ بنا رہا ہوں ...
وفاق  کا رویہ انتہائی  افسوس ناک اور غیر ذمہ دارانہ، 10 سال سے بجٹ بنا رہا ہوں ، لیکن  اس طرح کی  صورتحال  کبھی پیش  نہیں آئی:سید مراد علی شاہ

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے   شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق  کا رویہ انتہائی  افسوس ناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے،وفاقی بجٹ سے قبل آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا اور سندھ کے بجٹ کے دن فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا، سیاسی انتقام کی مخالفت کرتے ہیں، میں گذشتہ 10 سال سے بجٹ بنا رہا ہوں ، لیکن  اس طرح کی  صورتحال  کبھی پیش  نہیں آئی، میں حزب اختلاف  کی  سخت  الفاظ  میں مذمت کرتا ہوں، جس طرح انہوں نے احتجاج کیا وہ ناقابلِ برداشت  تھا، اپوزیشن  اصل میں بجٹ کی منظوری  میں حصہ لینا نہیں  چاہتی،موجودہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وفاقی حکومت کی ناتجربہ کاری کی سزا عوام بھگت رہے ہیں

کراچی میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاق  کا رویہ انتہائی  افسوس ناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے، ہمیں  30 مئی کو بتایا گیا   کہ ہم سندھ کو 666 بلین روپے دیں گے،پھر 4 جون  ایک خط  لکھا کہ 662 بلین روپے دیں گے اور پھر وفاقی  بجٹ  میں 631 بلین روپے کا اعلان کیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ میں گذشتہ 10 سال سے بجٹ بنا رہا ہوں ، لیکن  اس طرح کی  صورتحال  کبھی پیش  نہیں آئیمیں اپوزیشن  کو اپنی رائے پیش کرنے کا موقع ضرور دوں گا،  اپوزیشن سیاسی میدان میں  نااہل ہے  لیکن اْن کے غلط رویوں پر بھی ہم صبر کا دامن تھامے ہوئے  ہیں کیونکہ ہماری لیڈر شپ نے ہمیں  منع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال  18ـ2017  میں سندھ حکومت  نے ڈپویلپمنٹ میں  ریکارڈ  سرمایہ کاری  کی تھی،ہمارے ترقیاتی بجٹ کا سائز  18ـ2017  میں  274 بلین روپے تھا جبکہ ہم اسے 252  بلین روپے پر لے آئے  ہیں  ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 30 اپریل 19ـ2018 سندھ نے 137 بلین روپے  خرچ  کیے  جبکہ پنجاب نے 389 بلین روپے استعمال کیے اور رواں سال 19ـ2018 میں ہم نے 80.5 بلین روپے   استعمال  کیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک متوازن بجٹ بنایا ہے،ہمارے بجٹ میں خسارہ ہے اور  نہ کوئی  اضافہ ،یہ بالکل معیاری بجٹ ہے،میں 25 فیصد  تنخواہیں  بڑھانا  چاہتا تھا لیکن فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے 15 فیصد  بڑھائیں، تنخواہ دار  طبقہ بہت پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ  کے پیسے  سٹیٹ بینک  میں رکھیں گے تو اْس پر منافع نہیں ملتا اور اگر قرض لیں تو اس پر  سود لیتے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزیراعظم کے ہر اجلاس   میں ایک نیا تجربہ ہوتا ہے،وفاقی حکومت کا پی ایس ڈی پی 951 بلین روپے ہے جس میں سندھ  کو کْل  3.5 فیصد  حصہ دیا گیا ہے،  2011 میں 18 ویں آئینی ترمیم  کے بعد وفاقی حکومت کے بجٹ کے بعد  یہ بتایا گیا کہ  وفاقی حکومت  نے این آئی سی وی ڈی ، جے پی ایم سی، اور این آئی سی ایچ  کے فنڈز  نہیں رکھے۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی ییلو  لائن 438 ملین ڈالر کا منصوبہ ورلڈ بینک کے تعاون سے  شروع  کرنے جارہے ہیں جبکہ ریڈ لائن  بھی 561 بلین ڈالر  سے  شروع  کرنے جارہے ہیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی