سمیع ابراہیم کو خود ہی تھپڑ مار کر فواد چوہدری نے واقعے کو افسوسناک قرار دے دیا

سمیع ابراہیم کو خود ہی تھپڑ مار کر فواد چوہدری نے واقعے کو افسوسناک قرار دے ...
سمیع ابراہیم کو خود ہی تھپڑ مار کر فواد چوہدری نے واقعے کو افسوسناک قرار دے دیا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اینکر سمیع ابراہیم کوتھپڑ مارنے کا واقعہ افسوسناک ہے مگر سمیع ابراہیم تمام حدیں پار کر چکے تھے اور میرے پاس کوئی اور چارہ بھی نہ تھا ۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ’’لائیو وِد نصر اللہ ملک‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہناتھا کہ جو لوگ بھی مجھے جانتے ہیں وہ اس بات سے واقف ہیں کہ میں سخت سے سخت تنقید بھی بڑے حوصلے سے برداشت کرتا ہوں اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید کبھی میرا ایشو نہیں رہا ،سمیع ابراہیم کا معاملہ بالکل مختلف ہے ، چند ماہ قبل جب میں وزیر اطلاعات تھا اور ہم نے ٹی وی چینلز کو چار کیٹگریز میں تقسیم کیا اور 70 فیصد ریٹس کم کئے تو سمیع ابراہیم اپنے مالک اور سی ای او کو لے کر میرے پاس آئے اور کہا کہ ہمارے ٹی وی کی اے کیٹگری کر دیں،جس پر میں نے انہیں کہا کہ ایسے نہیں ہو سکتا ،کیٹگریز تو ریٹنگ کے اوپر ہیں اور آپ کا چینل تو ریٹنگ میں کہیں ہے ہی نہیں ،میں اگر آپ کے ٹی وی چینلز کی کیٹگری اے کر دوں گا تو پھر عملی طور پر کیٹگریز ختم ہی ہو جائیں گی،اس موقع پر انہوں نے کچھ اور مطالبات بھی کئے ،جس کے بعد ایک چپقلش شروع ہو گئی ،اسی دوران بول ٹی وی کے ایک سینئر رپورٹر نے مجھ سے رابطہ کیا اور  کہا کہ میری بیوی بیمار ہے اور بول ٹی وی والوں نے میرے ڈھائی لاکھ روپے دینے ہیں لیکن وہ مجھے چالیس ہزار روپیہ بھی نہیں دے رہے،جس پر میں نے پیمرا کو لکھا کہ اگر بول ٹی وی اپنے ملازم کو چالیس ہزار روپیہ بھی نہیں دے سکتے تو پھر یہ ٹی وی چینل کیسے چلا رہے ہیں ؟جس ٹی وی چینل میں ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل رہیں اور انتظامیہ بالکل بھی تعاون نہیں کر رہی اس پر پیمرا ریگولیشن بنائے،میری اس ہدایت پر جب پیمرا نے بول ٹی وی کو نوٹس جاری کیا تو اُنہوں نے گذشتہ پانچ ماہ سےمیرے خلاف باقاعدہ مستقل مہم شروع کر دی جسے میں برداشت کر رہا ،پھر میں نے ایف آئی اے اور پیمرا میں درخواست دی،اب آ کر انہوں نے مجھے کہا کہ میں ’’را‘‘ کا ایجنٹ ہوں اور را کے لئے کام کر رہا ہوں  ،آپ ایک وفاقی وزیر کو یہ کہیں کہ یہ را کا ایجنٹ ہے تو اس سے زیادہ توہین آمیز بات ہو ہی نہیں سکتی،گذشتہ  رات میاں حنیف کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں یہ واقعہ نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن سمیع ابراہیم نے میرے سامنے آ کر بد تمیزی کی کوشش کی لیکن زیادہ لوگوں کی وجہ سے میں نے کہا کہ میں اس بدتمیزی کی اجازت نہ ہی دوں ۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مجھے تھپڑ مارنے کی بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہئے تھا لیکن میں اب تک ہر جگہ گیا ہوں،میں پیمرا میں گیا ہوں ،میں ایف آئی اے میں گیا ہوں لیکن کسی ادارے کے سر پر جوں نہیں رینگی ،میں ایک وفاقی وزیر ہوں لیکن کسی نے اب تک کچھ نہیں کیا ،یہیں سے آپ اندازہ کر لیں کہ ملک میں احتساب کی کیا حالت ہے؟کوئی ادارہ بھی کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ، روز لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں،کوئی ادارہ یہاں پر فنگشنل ہی نہیں ہے ،پھر آپ کریں کیا ؟ان حالات میں دو ہی آپشن بچتے ہیں یا تو آپ خود ان کو سبق سکھا لیں یا پھر  بے عزتی برداشت کر لیں اور خاموش ہو کر بیٹھ جائیں ۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہتک عزت کا قانون مذاق بنا ہوا ہے ،ججز بھی اس معاملے کو سنجدہ نہیں لے رہے ،بول ٹی وی نے پوری  سوشل میڈیا ٹیم ہائر کی اور میرے خلاف منظم مہم  شروع کی ،سوشل میڈیا میں پیڈ گروپس ہیں جو 15 ہزار روپیہ لے کر ٹرینڈ بناتے ہیں،یہی گروپ سوشل میڈیا پر پیسے لے کر دوسروں کی ماں بہن ایک کرتے ہیں ،سیاسی جماعتوں کے بھی بڑے بڑے گروپس ہیں ،یہ گروپس اس لئے ہیں کہ عدالتیں ہتک عزت قانون پر ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہی ہیں اور کسی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ صحافتی تنظیمیں کیا بڑے  بڑے اینکرز کے تحفظ کے لئے بنی ہیں یا یہ اپنے ورکرز کے لئے بنی ہیں ؟جن صحافیوں کو آٹھ آٹھ ماہ سے تنخواہ نہیں مل رہی یہ صحافٹی تنظیمیں اس پر تو بولتی نہیں ہیں،ہر ایک کی زندگی میں کئی لڑائیاں ہوتی ہیں اور بعد میں سوچا جاتا ہے کہ یہ لڑائی نہ ہی ہوتی تو اچھا تھا ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد