اب ایک لاک ڈاؤن حکومتی وزراء کی زبانوں پر بھی لگنا چا ہیے جنہوں نے کورونا کو بھی ۔۔۔سینیٹر سراج الحق کا حکومت کو مشورہ

اب ایک لاک ڈاؤن حکومتی وزراء کی زبانوں پر بھی لگنا چا ہیے جنہوں نے کورونا کو ...
 اب ایک لاک ڈاؤن حکومتی وزراء کی زبانوں پر بھی لگنا چا ہیے جنہوں نے کورونا کو بھی ۔۔۔سینیٹر سراج الحق کا حکومت کو مشورہ

  

 کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نےکہاہےکہ کورونا وائرس کی وبامیں کراچی پربڑادباؤ ہے، کراچی کو میگاسٹی کا درجہ دے کر مکمل اختیارات اور وسائل دیے جائیں تاکہ کورونا کی وبا اور دیگر مسائل حل کیے جاسکیں ، وفاقی و صوبائی حکومتوں کاایک مؤقف نہ ہونے کی وجہ سے کورونا کو فائدہ اور عوام کو نقصان ہورہا ہے،ایک لاک ڈاؤن حکومتی وزراء کی زبانوں پر بھی لگنا چاہیئے جنہوں نے کورونا کو بھی سیاست زدہ کردیا ہے،کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی اعداد وشمار مشکوک ہیں،حکومت کو دس کروڑ ماسک عوام میں مفت تقسیم کرنے چاہیئے تھے تاکہ عوام کو کچھ فائدہ ہوتا،پی ٹی آئی حکومت کا بجٹ معاشی بدحالی اور بے روزگاری کا سونامی ہے، بجٹ کے اعداد و شمار کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے،ملک میں میثاق جمہوریت تو بہت سے ہوئے لیکن اب حالات ہم سے ایک میثاق معیشت پر متفق ہونے کا تقاضہ کررہے ہیں،اس وقت بنیادی نوعیت کے اہم فیصلے کوئی ایک جماعت تنہا نہ کرسکتی ہے نہ کرنے چاہیئے،وقت کے تقاضوں کے مطابق اہم فیصلے کرنے میں ہم پہلے ہی خاصا وقت ضائع کرچکے ہیں مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہوسکتے،بجٹ کے اعداد و شمار کبھی اہمیت کے حامل نہیں رہے کیونکہ انہیں پیش کرنے میں غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے، اپنے معاشی فیصلے دوسروں کے حوالےکرنےکانتیجہ ہےکہ ہماری قومی آمدنی مسلسل کم ہورہی ہے،بجٹ میں حکومت نےعوام اورملکی مفاد کی بجائے صرف آئی ایم ایف کے مفادات کو مد نظر رکھا، ہم بجٹ کو مسترد کرتے ہیں،حکومت بجٹ پر نظر ثانی کرے،اپوزیشن کے ساتھ مل کر بجٹ کے حوالے سے مشترکہ مؤقف اپنائیں گے،پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور جے یو آئی سے رابطے میں ہیں،موجودہ حکومت کا 22 ماہ کاسفرخوداپنےاعلانا ت اور وعدوں کےبرخلاف الٹاسفرہے،اس حکومت کےآنےکےبعدملکی معیشت اور عوام کی حالت زارمزید خراب ہوگئی ہے، کورونا کی وبا تو صرف ایک بہانہ ہے۔

ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس میں سینیٹر سراج الحق نےکورونا وائرس کی وبااوراس حوالےسےوفاقی وصوبائی حکومتوں اور این ڈی ایم اے کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورونا مریض، ڈاکٹر اور عام آدمی سخت مشکلات میں ہیں،ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور طبی عملے کو وہ سہولیات نہیں دی گئی جودینی چاہیئے تھیں،کراچی ملک کی معاشی اور نظریاتی شہہ رگ ہے لیکن یہاں کے عوام علاج معالجے کی سہولیات سے محروم ہیں،کراچی میں اندرون سندھ،جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے لوگ بھی آتے ہیں اس لیے اس شہر کو زیادہ سہولیات اور وسائل دینے چاہیئے تھے مگر نہیں دیے گئے،کراچی کے اسپتالوں میں کم ازکم تین ہزاربیڈز فراہم کیےجائیں اورسرکاری ہسپتالوں کواَپ گریڈ کیاجائے،آکسیجن سیلینڈرزمیں اضافہ کیا جائے،حکومت ڈاکٹر طاہر شمسی کی پلازمہ کے حوالے سےتجاویز پرغورکرےاورضروری ہوتو قانون سازی بھی کرے،الخدمت پلازمہ بنک قائم کرناچاہتی ہےجسکےلیے حکومت کی اجازت اور تعاون کی ضرور ت ہے۔

سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے اس بار بھی آئی ایم ایف کے احکامات کے مطابق بجٹ بنایااور اس کی تمام شرائط تسلیم کیں،بجٹ میں عام آدمی کے لیے کچھ نہیں ہے،حکومت کو اپنی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنا چاہیئے تھا مگر ایسا نہیں کیاگیا،بجٹ میں پوسٹ کورونا اکانومی کو زیر بحث نہیں لایاگیا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیا،تعلیمی بجٹ میں کمی کی گئی ہے،دینی مدارس جن میں 31لاکھ طلبہ ہیں،کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا، حکومت کے مطابق ایک کروڑ 70لاکھ افراد بے روزگار ہوئے لیکن بجٹ میں ان بے روزگاروں کے لیے کچھ انتظام نہیں کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کا دعویٰ کرنےوالی حکومت نےاس بجٹ میں بھی سودی نظام کوبرقراررکھاہے،ہمارا 40 فیصد تو سود کی ادائیگی میں چلاجاتا ہے،کورونا وبا کے بعد ہیلتھ سیکورٹی بہت اہم ہوگئی ہے لیکن اس شعبے کے لیے بھی بجٹ میں کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے،اووسیز پاکستانیوں اور قبائلی علاقوں کے لیے بھی کوئی اسکیم نہیں،بلوچستان،گلگت و بلتستان کے لیے بھی بجٹ میں کمی کی گئی ہے جس سے ان کے اندر مایوسی پھیل رہی ہے،صوبوں کے لیے بھی اپنا بجٹ بنانا مشکل ہو گیا ہے، وزیر اعظم کےمطابق ملک میں65فیصد نوجوان ہیں جو ملک اورقوم کا اثاثہ ہیں لیکن ان کےلیے صرف 2ارب روپے رکھے گئے ہیں اتنی بڑی تعداد کے لیے اس رقم سے کیاسکیمیں بنیں گی؟بجٹ کی تیاری میں حکومت نے اپوزیشن،تاجروں اور مزدور یونینز سمیت کسی سے مشورہ نہیں لیا،صرف آئی ایم ایف سے ہی مشورہ لیا گیا اور مزید ٹیکس لگائے گئے،بجٹ کی منظوری سےقبل ہی مہنگائی کی ایک نئی لہر آگئی ہے اور خوراک کی اشیاکی قیمتوں میں 15سے20فیصد اضافہ ہوگیا ہے،یہ بجٹ این ایف سی کے بغیر تیار کیا گیا ہے۔

سراج الحق نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دونوں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی ہیں،ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والی حکومت لوگوں کو بے روزگار کررہی ہے،سٹیل مل کے 9ہزا ر ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ 5ہزار ریٹائرڈ ملازمین اپنے واجبات کےلیےپریشان ہیں،جماعت اسلامی سٹیل مل کی نجکاری اورہزاروں ملازمین کی برطرفی کے خلاف ہرسطح اور ہرفورم پر آواز اٹھائے گی،ہم مزدوروں اور مظلوموں کے حقوق کے ترجمان اور پاسبان ہیں۔سراج الحق نے کہاکہ وزیر اعظم کی جانب سے عالمی مالیاتی اداروں سے ملک کے قرضے ری شیڈول کرانے کی اپیل کی گئی اب پاکستان کو چاڈ اور کانگو سمیت افریقی ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے یعنی ان کی نظر میں ہماری معیشت ان ممالک کی معیشت جیسی ہوگئی ہے،حکومت نے آئی ایم ایف کے حکم پر معاشی پالیسیاں بنائیں جن کی وجہ سے ملک اور عوام کو مشکلات پیش آئیں،آئی ایم ایف کےحکم پرروپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 40فیصد تک کمی کی گئی اور افراط زر میں اضافہ کیا گیا،ہماری فی کس آمدنی میں کمی آرہی ہے،چھوٹے صنعتی یونٹ بند ہورہے ہیں،بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے، 1950سے اب تک 1965کی جنگ اور 1971کے سانحے اور المیے کے موقع پر بھی ہماری شرح نمو کم نہیں تھی لیکن آج یہ شر ح نمو 0.4فیصدپر آگئی ہے جو انتہائی تباہ کن اور خطرناک ہے،ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کبھی کسی ملک کو ترقی اور خوشحالی نہیں دیتے،ترقی اور خوشحالی کے لیے حکمرانوں کو جرات مندانہ فیصلے کرنے ہوتے ہیں،آج کے حکمران اقتدار میں آنے سے قبل آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضوں کوخود کشی کہتے تھے مگر انہوں نے بھی مزید قرض لیا۔

سراج الحق نے کہاکہ ٹڈی دل کی وجہ سے 5کروڑ ایکٹر اراضی متاثر ہوئی ہے ایک سو ارب سے زیادہ نقصان ہوا ہے،جاپان او رچین کی مدد سے ابھی تک صرف5لاکھ ایکٹر اراضی پر اسپرے کیا گیا ہے،بڑی تباہی اور بربادی کا خطرہ ہونے کے باوجود حکومتی سطح پر قبل از وقت کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اب اس کے خاتمے کے لیے ٹائیگر فورس کی باتیں کی جارہی ہیں،حکومت خیالوں کی دنیاسے نکلے،شہزادوں کی طرز حکمرانی آج کے دور میں نہیں چل سکتی،اس طرح کورونا کی وبا سے بچاؤ کے لیے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے فیصلے اور اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ مرض مسلسل بڑھ رہا ہے،خطرا ت میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو کوئی غم نہیں ہے اور حکومت صرف ون ویلنگ کر رہی ہے۔

مزید :

قومی -