اپوزیشن ٹھوس متبادل بجٹ تجاویز سامنے لائے

اپوزیشن ٹھوس متبادل بجٹ تجاویز سامنے لائے

  

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے صوبوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس ریونیو کے ہدف۔ 4963ارب روپے۔کو مدنظر رکھ کر اپنے صوبائی بجٹ نہ بنائیں کیونکہ انہیں یقین نہیں کہ یہ ہدف حاصل ہو پائے گا ان کا خیال تھا کہ اس کے باوجود ہمیں ہدف کے حصول کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی، پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں ان سے سوال کیا گیا تھا کہ اپنے اس دعوے کی موجودگی میں کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا حکومت رواں سال کے ٹیکس سے تقریباً 11سو ارب زیادہ کیسے حاصل کرے گی؟ ان کا کہنا تھا وفاقی بجٹ کوئی صحیفہء آسمانی نہیں کہ اس پر نظرثانی نہ ہو سکے کورونا کے پھیلاؤ کی مدت بڑھی تو اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا ہم نئے قرضے ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور سول حکومت کے لئے نہیں پرانے قرضے اتارنے کے لئے لے رہے ہیں، آئی ایم ایف اس لئے نہیں بنا کہ عوام پر ظلم کرے ہم اپنی مجبوریوں کے باعث ان کے پاس امداد کے لئے جاتے ہیں وہ جبراً ہمیں کچھ نہیں دیتے پاکستان اور آئی ایم ایف کے اچھے تعلقات ہیں حکومت نے ٹیکس وصولیوں کے نظام کی بہتری، ٹیکس کی وسعت میں اضافہ اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کے لئے اقدامات کئے ان اقدامات کی وجہ سے وصولیوں کی شرح میں 17فیصد اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوکریاں پیدا کرنے کے لئے 40سے 50ارب کی ڈیوٹیز ختم کی ہیں۔

بجٹ پیش کرنے کے اگلے ہی روز مشیر خزانہ کا یہ اعتراف کہ ٹیکس وصولی ہدف کا حصول مشکل ہے یہ عندیہ بھی دیتا ہے کہ حکومت بجٹ پر نظرثانی کرتے وقت ٹیکسوں میں اضافہ کر سکتی ہے یا نئے ٹیکس لگا سکتی ہے۔ مشیر خزانہ نے درست فرمایا کہ بجٹ صحیفہ آسمانی نہیں ہوتا لیکن یہ ریت کا گھروندہ بھی نہیں ہوتا کہ بجٹ پیش کرنے کے اگلے ہی روز محصولات کے اعداد و شمار کی وہ بنیاد ہی ڈھا دی جائے جس پر بجٹ کی پوری عمارت کھڑی ہے، صوبوں کے بجٹ تیار ہیں ان کی نوک پلک درست کی جا رہی ہے۔ پنجاب کا بجٹ آج پیش کیا جا رہا ہے۔ صوبے اپنی آمدنی کے لئے وفاق سے ملنے والی رقوم پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لئے اگر وفاق محصولات کا طے شدہ ہدف حاصل نہ کر پائے تو اس کا نقصان صوبوں کو بھی ہوتا ہے، ایک لحاظ سے یہ اچھا ہوا کہ مشیر خزانہ نے پہلے ہی خبردار کر دیا کہ صوبے اپنے اگلے بجٹ بناتے وقت یہ بات سامنے رکھیں کہ انہیں وفاق سے کم رقوم ملیں گی۔ عام طور پر ٹیکس وصولی کے ہدف میں مالی سال کے نصف آخر میں کمی کی جاتی ہے۔ رواں سال (جو 30جون کو ختم ہو گا) کے لئے بھی ہدف 5550ارب روپے رکھا گیا تھا لیکن اس پر نظرثانی کرکے کمی کر دی گئی، کورونا اور دیگر وجوہ کے باعث یہ نظرثانی شدہ ہدف بھی حاصل نہ ہو سکا، اب صوبوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق مالی وسائل بڑھائیں اور ایسے مقامات تلاش کریں جہاں سے انہیں زیادہ آمدنی حاصل ہو سکے تاکہ وہ وفاق سے ملنے والے متوقع طور پر کم محصولات کی کمی پوری کر سکیں۔

ماضی میں بھی منی بجٹ آتے رہے ہیں۔ اس لئے اگر اب ایسا ہوا تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے ویسے بھی یہ بجٹ کورونا سے براہ راست متاثر ہے اس لئے یہ وبا جتنا طول کھینچے گی اتنے ہی منفی اثرات بڑھتے رہیں گے ایسی صورت میں اثر ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں پر پڑتا ہے جن کی رقوم کم ہو جاتی ہیں اب بھی ایسا ہی ہوتا نظر آتا ہے اس لئے منی بجٹ بھی آئے گا اور نئے ٹیکسوں کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ حکومت کے حامی حلقے بجٹ کو ”متوازن اور عوام دوست“ قرار دے رہے ہیں تاہم ماہرین کے نزدیک بجٹ میں دیئے گئے اعداد و شمار غیر حقیقی ہیں اس لئے بجٹ پر نہ صرف نظرثانی کرنا پڑے گی بلکہ شائد اسے نئے سرے سے بھی بنانا پڑے۔ اپوزیشن جماعتوں نے تو بجٹ کی تفصیلات جانے بغیر ہی مسترد کر دیا تھا عموماً مخالف جماعتیں ایسے ہی کرتی ہیں تاہم ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں کے اقتصادی ماہرین کو میدان میں اتاریں جو بجٹ کی خوبیوں اور خامیوں کا عرق ریزی سے جائزہ لیں اور ان دعوؤں کو بھی پرکھیں جو حکومت اور اس کے مشیر کر رہے ہیں سچائی کہیں درمیان میں ملے گی کیونکہ نہ تو حکومت کے دعوے سو فیصد حقیقی ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کا بجٹ کو یک قلم مسترد کر دینا کوئی احسن رویہ ہے، بجٹ بنانا ایک مشقت طلب کام ہے حکومت کے سینکڑوں ادارے بجٹ سازی میں شریک ہوتے ہیں۔ ماہرین دنوں اور ہفتوں نہیں، مہینوں اس کی صورت گری کرتے رہتے ہیں تب کہیں جا کر اس کی دستاویزات کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ پھر بھی اس میں کوتاہیاں اور کمیاں رہ جاتی ہیں ایسی طویل مشقت جس میں براہ راست اور بالواسطہ ہزاروں لوگ کسی نہ کسی انداز میں شریک ہوتے ہیں کم از کم اتنی توجہ تو چاہتی ہے کہ اس کا مطالعہ دقتِ نظر سے کیا جائے اور سیاسی رہنما درست تناظر میں جائزہ لے کر اس پر کوئی رائے قائم کریں، سرسری سے مطالعے یا دوچار ٹاک شوز دیکھ کر جو رائے قائم کی جائے گی وہ نیم پختہ ہی رہے گی۔ اس وقت تک اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جو ردعمل آیا ہے وہ زیادہ تر یہی ہے کہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، حالانکہ یہ جماعتیں بھی اپنے اپنے ادوار میں اسی شفاخانے سے دوا کے لئے رجوع کرتی رہی ہیں، آئی ایم ایف پر نکتہ چینی اسی جماعت کو زیب دیتی ہے جس نے کبھی یا تو اس سے رجوع نہ کیا ہو یا کبھی اقتدار میں نہ رہی ہو، اقتدار میں رہنے والی جماعتیں اس ضمن میں زیادہ پاک دامنی کا مظاہرہ نہیں کر سکتیں، ڈاکٹر حفیظ شیخ تو اس کے عینی شاہد ہیں کیونکہ وہ ماضی کی حکومتوں میں بھی اپنی ماہرانہ خدمات ادا کر چکے ہیں او ران کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس ہم خود جاتے ہیں وہ ہمیں بلاتا نہیں ہے۔

آج سے قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث شروع ہو گی۔ قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف بحث کا آغاز کریں گے ان کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ بجٹ پر نہ صرف ٹھوس نکتہ چینی کریں بلکہ ایسی متبادل تجاویز بھی پیش کریں جو وفاقی وزیر کی تقریر سے بہتر ہوں اور کوشش کی جائے کہ ان تجاویز کو منظور بھی کرایا جائے تاکہ یہ نظر آئے کہ اپوزیشن نے بجٹ میں اپنا مثبت حصہ ڈال دیا ہے بجٹ جیسا بھی ہے منظور تو ہو ہی جائے گا کیونکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی انکشاف کر چکے ہیں کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر بجٹ منظوری کی حکمتِ عملی طے کر لی ہے اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اپوزیشن کے لئے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنی تجاویز بھی شامل کرانے پر زور دے بجٹ منظوری کی حکمت عملی سے کسی سودے بازی کی بُو نہیں آنی چاہیے۔ویسے بھی اگر اپوزیشن جماعتوں کو بجٹ پسند نہیں تو پھر کوشش تو یہ ہونی چاہیے کہ حکومت اسے منظور ہی نہ کرا سکے، خالی خولی استرداد تو کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن اگر اپوزیشن جماعتیں کسی مفاہمت کے تحت حکومت کو مشکل سے دوچار نہیں کرنا چاہتیں تو پھر کم از کم اتنا تو ہونا چاہیے کہ اپوزیشن کی چند تجاویز قبول کرلی جائیں۔ اگلے دو ہفتوں کے اندر بجٹ کی منظوری ضروری ہے کیونکہ یکم جولائی سے نیا مالی سال شروع ہوگا اس لئے اگر بجٹ میں کسی بہتری کی ضرورت اور گنجائش ہے تو فائدہ اٹھانے کا یہی وقت ہے۔ محض چند روزہ نکتہ چینیوں اور مخالفانہ بیان بازیوں سے بجٹ کا کچھ نہیں بگڑتا اور اسے طوعاً و کرہاً قبول کرنا پڑتا ہے۔ مشیر خزانہ نے یہ فراخ دلانہ اعتراف تو کر ہی لیا ہے کہ ٹیکس محصولات کا ہدف بہت مشکل ہے اس کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -