کورونا کے علاج والی ادویات کی بلیک مارکیٹنگ؟

کورونا کے علاج والی ادویات کی بلیک مارکیٹنگ؟

  

جوں جوں کورونا وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے توں توں مریضوں اور لواحقین کے مسائل میں بھی مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔ کورونا کے علاج کے لئے جو ادویات استعمال ہو رہی اور ایک حد تک موثر بھی ہیں، ان کی بلیک مارکیٹنگ شروع کر دی گئی ہے، جبکہ کراچی میں آکسیجن کی قلت پیدا ہو گئی۔ استعمال بڑھا ہے تو آکسیجن تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں نے تیاری بند کر دی ہے۔ کورونا کے علاج کے لئے اب تک دو مختلف ادویات، جن کا تجربہ امریکہ اور اٹلی میں ہوا، ایک تو ریمیڈی سیور ہے اور دوسرا ایکٹیمرا انجیکشن ہے۔ پہلی دوا تو اب تک درآمد کرکے استعمال کرائی جا رہی ہے جو اب پاکستان میں بھی تیار ی کا پروگرام ہے۔ اس کے لئے ملکی دوا ساز کمپنیوں کو لائسنس جاری کئے گئے ہیں، جہاں تک ایکٹیمرا کا تعلق ہے تو یہ دوسرے درجہ تک پہنچنے والے مریضوں کو لگایا جاتا اہے، صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کے مطابق یہ انجیکشن تین درجہ کے وائل میں مہیا ہوتا ہے، جس کی بالترتیب قیمت بارہ ہزار سے 60ہزار روپے تک ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ انجیکشن نجی طور پر استعمال نہیں ہوتا اور عام فروخت کی اجازت نہیں۔ مریضوں کے مطابق یہ انجیکشن بلیک کیا جا رہا اور عموماً نجی ہسپتالوں کو فروخت کیا جاتا ہے جو تین سے چار لاکھ روپے تک وصول کرتے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر صحت ظفر مرزا نے بھی نوٹس لیا اور کہا ہے کہ کسی کو یہ انجیکشن زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت بلیک کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے گی۔ کراچی انتظامیہ نے آکسیجن کی قلت کا نوٹس لیا تو آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے وضاحت کی کہ آج کل ضرورت بڑھ گئی اس لئے وہ اولیت ہسپتالوں اور اپنے رجسٹرڈ گاہکوں کو دیتے ہیں۔ یہ گیس نجی طور پر استعمال کرنے والے مریضوں کی دہائی ہے کہ وہ گھر پر استعمال کرتے ہیں اور اب دستیاب نہ ہونے سے ان کی جانوں کو خطرہ ہے۔ کورونا علاج کے لئے استعمال ہونے والے انجیکشن اور مریضوں کے لئے آکسیجن کا نایاب اور بلیک میں بکنا بہت بڑا المیہ اور یہ ہمارے منافع خوروں کی نیتوں کا مظہر ہے کہ اتنی بڑی آفت کے باوجود منافع خوروں کو اللہ کا خوف محسوس نہیں ہوتا اور ان کے نزدیک روپیہ ہی سب کچھ ہے۔ حکومت اعلان بھی کررہی اور چھاپے بھی مارے جاتے ہیں، لیکن یہ سلسلہ بھی سمگلنگ کی طرح جاری و ساری ہے جہاں تک ایکٹیمرا انجیکشن کی دستیابی اور مہنگائی کا تعلق ہے تو عام آدمی کو تو یہ پہلے بھی میسر نہیں تھا کہ وہ سرکاری ہسپتالوں ہی سے علاج کے محتاج ہیں، اب اس مہنگائی نے مالدار حضرات کو بھی احتجاج پر مجبور کر دیا کہ صاحب حیثیت گھرانے کے مریض جب نجی ہسپتالوں سے علاج کراتے ہیں تو ان کے لئے یہ مفید انجیکشن دستیاب تو ہو جاتے ہیں، لیکن بل کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے خبردار اور آگاہ بھی کیا گیا، لیکن منافع خور قابو نہیں آ پا رہے اس لئے دوسری صورت تو یہی ہے جو حکومت نے اختیار کی، تاہم منافع خوروں کو بھی روز عذاب کا خوف ہونا چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -