فتح سندھ کے وقت محمد بن قاسم کی عمر؟

فتح سندھ کے وقت محمد بن قاسم کی عمر؟
فتح سندھ کے وقت محمد بن قاسم کی عمر؟

  

ملک. کے مایہ ناز صحافی برادرم حامدمیر نے محمد بن قاسم پر ایک بہت ہی عمدہ کالم بعنوان '' نسیم حجازی سے معذرت کے ساتھ'' لکھا جس کے مطابق سندھ پر حملے وقت ان کی عمر 28 سال تھی۔ اگرچہ عمر کی تحقیق اور اس کا تعین ایک الگ مستقل ریسرچ آرٹیکل کا تقاضا کرتا ہے لیکن مختصراً عرض ہے کہ یہ کہنا کہ ''سندھ پر حملے کے وقت محمد بن قاسم کی عمر 28 سال تھی'' بالکل غلط ہے۔ حامد میر صاحب میں ایک بہت ہی اچھی خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ صاحب مطالعہ انسان ہیں اور جو بات کرتے ہیں حوالے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس کالم میں بھی انہوں نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں لکھی بلکہ مولانا اسحاق بھٹی کی کتاب کا حوالہ دیا ہے۔

مولانا اسحاق صاحب لکھتے ہیں '' بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ محمد بن قاسم نے جب ہند اور سندھ کی طرف فاتحانہ پیش قدمی کی اس وقت اس کی عمر سولہ یا سترہ سال تھی، یہ قطعاً غلط ہے۔ ابن قتیبہ نے عیون الاخبار میں، یاقوت حموی نے معجم البلدان میں، بلاذری نے فتوح البلدان میں اور دیگر مستند مؤرخین نے لکھا ہے کہ 83 ہجری میں شیراز اور فارس کی ولایت اس کے سپرد کی گئی اور اس نے کردوں کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ فتح سندھ و ہند کا واقعہ اس سے 10 سال بعد 93 ہجری میں ہوا۔ اگر 93 میں اس کی عمر 17 سال مان لی جائے تو 83 ہجری میں جب اس نے فارس کے علاقے کی زمام ولایت ہاتھ میں لی اور کردوں سے برسرپیکار ہوا، اس کی عمر صرف سات سال تھی اور یہ قطعاً غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب وہ ولایت فارس کیلیے روانہ ہوا اس کی عمر17 سال تھی۔ بعض شعراء نے اس کی بہادری اور شجاعت سے متاثر ہو کر اس کے محاسن اور مفاخر بیان کیے تو کچھ لوگوں نے سمجھ لیا کہ حملہ سندھ و ہند کے وقت وہ 17 سال کا تھا حالانکہ ایسا نہیں ہے اس وقت وہ ستائیس اٹھائیس برس کا تھا''۔

.

ایک طرف مولانا کہتے ہیں کہ حملے کے وقت ان کی عمر 27 یا 28 سال تھی اور دوسری طرف خود ہی کہتے ہیں کہ یہ حملہ 93 ہجری میں کیا گیا۔ اس حساب سے حملے کے وقت ان کا 27 یا 28 سالہ ہونا تبھی ممکن ہے جب ان کی تاریخ ولادت 65 یا 66 ہجری ہو اور یہ بات کسی بھی مستند کتاب میں رقم نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی قائل ہے۔ جہاں تک شعراء کے کلام کا تعلق ہے تو قرین قیاس یہی ہے کہ یہ اشعار اس کی سندھ کی طرف روانگی کے الوداعی موقع پر کہے گئے ہوں گے جب انہوں نے فارس کی تولیت کے دوران اس کے حسن اخلاق اور شجاعت کو پرکھا ہو گا کیونکہ پہلے ہی دن ان خوبیوں کا عام ہو کر شعراء کے ہاں کلام کے لیے مقبول ہونا عقل سے بالا ہے۔

مؤرخین نے ان کی تاریخ ولادت 72 ہجری لکھی ہے۔ اگرچہ علامہ زرکلی دمشقی نے ان کی تاریخ ولادت 62 ہجری بتائی ہے لیکن اس قول میں انہیں تفرد حاصل ہے اور اگر بالفرض اسے مان بھی لیا جائے تو بھی سندھ پر حملے کے وقت یعنی 93 ہجری میں ان کی عمر اکتیس سال بنتی ہے نہ کہ اٹھائیس سال جیسا کہ مولانا کا دعویٰ ہے۔ اب ایک طرف وہ تاریخی روایات ہیں جن کے مطابق محمد بن قاسم نے فارس کی ولایت 83 یا 84 ہجری میں 17 سال کی عمر میں لی اور دوسری طرف علم الانساب کی زیادہ تر وہ روایات ہیں جن کے مطابق محمد بن قاسم کی تاریخ ولادت 72 ہجری ہے۔ لہذا ایسی صورت میں علم الانساب کو تاریخی روایات پر ترجیح دی جائے گی۔ پس اگر ان کی تاریخ ولادت 72 ہجری تسلیم کر لی جائے جیسا کہ جمہور مؤرخین اور علم الانساب کے ماہرین کا مؤقف ہے، تو سندھ پر حملے کے لیے اگر وہ شیراز یا فارس سے 89 ہجری میں روانہ ہوئے ہوں تو ان کی عمر 17 سال بنتی ہے۔ اگر وہ 90 ہجری میں روانہ ہوئے ہوں تو ان کی عمر 18 سال بنتی ہے اور اگر وہ 91 ہجری میں روانہ ہوئے ہوں تو ان کی عمر 19 سال بنتی ہے اور یہی تطبیق کی بہترین صورت ہے۔ یعنی نہ تو ان کی عمر فارس کی ولایت کے وقت 17 سال تھی اور نہ ہی فتح سندھ کے وقت بلکہ روانگی کے وقت وہ 17 یا 18 سال کے تھے جبکہ فارس کی ولایت کے وقت ان کی عمر 12 سال تھی۔ جہاں تک تاریخی روایات کا تعلق ہے تو اس ضمن میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس پر تمام محققین کا اتفاق ہے کہ اس دور میں مؤرخین نے صرف تاریخی روایات کو جمع کرنے کا التزام کیا تا کہ یہ معلومات ضائع نہ ہو جائیں۔ اب یہ محققین کا کام ہے وہ ان روایات پر نقد کریں اور صائب رائے تک پہنچیں۔

تمام تر مستند تاریخی کتابیں جنہیں پرائمری سورس ہونے کا اعزاز حاصل ہے ان کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ محمد بن قاسم کی تاریخ ولادت 72 ہجری ہے اور فتح سندھ 93 ہجری کا واقعہ ہے تو اس لحاظ سے فتح سندھ کے وقت ان کی عمر اکیس سال بنتی ہے نہ کہ سترہ اٹھارہ سال جیساکہ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے اور نہ ہی 27 یا 28 سال جیساکہ حامدمیر صاحب نے بحوالہ اسحاق بھٹی لکھا ہے۔ میرے خیال میں ان کے فارس میں والی بننے، سندھ میں داخل ہونے، مختلف شہروں کو فتح کرنے، سندھ کو فتح کرنے، قید ہونے اور شہادت کی تاریخیں آپس میں خلط ملط ہو گئیں اور پھر کچھ مغالطوں نے جنم لیا۔ تاریخ میں آتا ہے کہ انہیں 90 ہجری میں سندھ پر حملے کا حکم ملا اور اس وقت وہ فارس میں والی تھے۔ یعنی فارس سے سندھ کی طرف روانگی کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی نہ کہ فتح سندھ کے وقت۔ اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ان کی کل عمر اٹھارہ سال تھی کیونکہ حجاج بن یوسف 95 ہجری میں فوت ہوا جبکہ ایک سال بعد 15 جمادی الثانی 96 ہجری میں ولید بن عبدالملک فوت ہوا اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت تک محمد بن قاسم نہ صرف زندہ تھا بلکہ فتوحات کے جھنڈے بھی گاڑ رہا تھا۔ ولید کی وفات کے بعد اسی سال سلیمان بن عبدالملک بادشاہ بنا جس نے محمد بن قاسم کو معزول کر کے یزید بن ابی کبشہ کو 96 ہجری میں ہی والی سندھ مقررکیا جس نے اسے قید کر کے عراق کے شہر واسط میں بھیج دیا۔ یہ سارے واقعات 96 ہجری کی دوسری ششماہی میں پیش آئے اور اگر اسی ششماہی میں محمد بن قاسم کی شہادت ہوئی ہو جیسا کہ زیادہ تر مؤرخین نے لکھا ہے تو ان کی کل عمر 24 سال بنتی ہے چہ جائیکہ یہ کہا جائے کہ سندھ پر حملے کے وقت اس کی عمر اٹھائیس سال تھی۔

مختصراً یہ کہ سن ولادت کے ضمن میں زیادہ سے زیادہ 62 ہجری کا عدد ملتا ہے اور سن وفات میں زیادہ سے زیادہ 98 ہجری کا عدد ملتا ہے جو بوجوہ دونوں غلط ہیں اور اس لحاظ سے ان کی کل عمر 36 سال بنتی ہے اور خود مولانا اسحاق سمیت کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ ویسے بھی 98 ہجری کو ان کا سن وفات ماننا مشکل ہے کیونکہ تمام محققین کا کہنا ہے کہ وہ 96 ہجری کی دوسری ششماہی میں قید ہوئے اور اذیت رسانی کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی سال کچھ ہی دنوں میں شہید ہو گئے۔ الغرض ان کی ولادت 72 ہجری اور شہادت 96 ہجری میں ہوئی (نہ کہ 95 ہجری میں جیسا کہ بعض لوگوں نے زکر کیا ہے) اور ان کی کل عمر 24 سال تھی اورفتح سندھ یعنی 93 ہجری میں ان کی عمر 21 سال تھی اور یہی صحیح ہے اور یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ انہوں نے 17 یا 18 سال کی عمر میں سندھ فتح کیا یا ان کی کل عمر اتنی تھی۔

مزید :

رائے -کالم -