معیشت کون چلائے گا؟

معیشت کون چلائے گا؟
معیشت کون چلائے گا؟

  

”کرونا کی وبا نے معیشت تباہ کر دی ہے“۔ اس میں حیرانی کی کیا بات ہے، ظاہر ہے اقتصادی محاذپرناکام اور مفلوج حکومت اگر کرونا کی آڑ میں نہیں چھپے گی تو اور کیا کرے گی۔سوال یہ نہیں ہے کہ کرونا نے معیشت کے ساتھ کیا کیا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ معیشت چلائے گا کون؟ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے پہلے ڈیڑھ سال میں معیشت کو تباہی کے دہانے پر کرونا کے آنے سے پہلے ہی پہنچا دیا تھا۔اس منحوس وبانے تو پہلے سے گرتی لرزتی معیشت کو محض اس کے منطقی انجام کی طرف دھکیلا ہے۔ جو حکومت کرونا سے پہلے اقتصادی محاذ پر بری طرح ناکام ہو چکی تھی، وہ اس عالمی بلا کے بعد اسے کیسے سنبھال پائے گی؟ کوئی ویژن ہوتا تو امکان تھا کہ کرونا کے وبال سے جان چھوٹ جائے تو معیشت کو سنبھالنے کے لئے ٹیم موجود ہے۔ کوئی منصوبہ بندی ہوتی تو بھی امکان تھا کہ اس کی وجہ سے جو تعطل اور مشکلات آئی ہیں ان پر قابو پا لیا جائے گا۔تقریریں ایک طرف، دعوے اور الزام تراشیاں بھی ایک طرف، پچھلی حکومتوں کو کوسنا بھی ایک طرف.... کہ فاسٹ باؤلر کی طرح مسلسل ایک ہی لائین اور لینتھ پر باؤلنگ کرائے جاؤ.... لیکن اعدادوشمار کا کیا کیا جائے جو چیخ چیخ کر بولتے ہیں، وہ بھی سو فیصد سرکاری۔کیا انہیں جھٹلایا جا سکتا ہے؟ ناممکن، صریحاً نا ممکن۔ اگر اپوزیشن یا میڈیا کی طرف سے آئے ہوں تو سوچا جا سکتا ہے کہ جھوٹے ہوں گے، لیکن اعداد و شمار اگر سرکاری ہوں جو سٹیٹ بینک یا وزارت خزانہ کے جاری کردہ ہوں یعنی حکومت کے اپنے ہوں تو انہیں کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے۔ اب تقریروں سے تو اعدادوشمار کا سامنا نہیں کیا جا سکتا، تقریر بھی وہ جس میں سارا ملبہ عوام پر ڈالا جاتا ہو یا دو سال گذرنے کے بعد بھی پچھلی حکومت پچھلی حکومت کی گردان دہرائی جاتی ہو، گوروں سے مقابلہ (کرکٹ میں)کے تیس چالیس سال پرانے گھسے پٹے قصے،تاریخ و جغرافیہ کے غلط حوالے دئیے جاتے ہوں، اور آخر میں ایک بار پھر ’گھبرانا نہیں ہے‘ کی نصیحت۔

بچپن میں غالباً لال بھجکڑ یا اس سے ملتے جلتے کسی کردار کا مگرمچھ پکڑنے کا طریقہ پڑھا تھا کہ اسے پکڑنے کے لئے تین چیزیں چاہئیں، ایک چمٹا، ایک دوربین اور ایک ماچس کی ڈبیا۔ دوربین کی الٹی سائڈ سے دیکھیں تو مگر مچھ بہت چھوٹا نظر آئے گا، بس اس چھوٹے سے مگرمچھ کو چمٹے سے پکڑ کر ماچس کی ڈبیا میں بند کر دیں۔اللہ اللہ خیر سلا۔پی ٹی آئی حکومت پچھلے دو سال سے مگرمچھ پکڑ پکڑ کر ماچس کی ڈبیا میں بند کر رہی ہے۔ یقین نہ آئے تو سٹیٹ بینک کے سرکاری طور پر جاری کردہ اعداد و شمار سے موازنہ کر لیجئے کہ 2018 میں جب عمران خان حکومت آئی تھی تو اقتصادی اعشارئیے کہاں تھے اور اس سال اپریل میں (کرونا کے پھیلنے سے پہلے) موجودہ حکومت نے انہیں کہاں پہنچا دیا تھا۔ کرونا تو بعدمیں آیا، معیشت آئی سی یو میں پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اب ہر چیز کرونا پر ڈالنی شروع کر دی ہے۔ دنیا بھر میں زیادہ تر معیشتیں کرونا کے آنے کے بعد متاثر ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں تواس سے پہلے ہی معیشت بیٹھ چکی تھی۔ عمران خان کے پاس معیشت کے لئے نہ کوئی ٹیم تھی اور نہ ہی منصوبہ۔ عمران خان کی سیاست صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مخالفت پر استوار ہے کہ اپنی پالیسی یا کارکردگی تو ہے کوئی نہیں، کوئی بھی بات ہو تو پچھلی دو حکومتوں کو برا بھلا کہہ کر جان چھڑاؤ۔ چلیں ہم سٹیٹ بینک کے سرکاری طور پر جاری کردہ اعدادو شمار سے پچھلی دو ”بری اور کرپٹ“ حکومتوں کا موازنہ عمران خان حکومت کی پہلے ڈیڑھ سال (کورونا آنے سے پہلے) کی اقتصادی کارکردگی سے کرتے ہیں جس سے سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 2018 میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کی گئی اس وقت ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح 5.53 فیصد تھی۔ اس سے پانچ سال قبل پیپلز پارٹی کی حکومت کے اختتام کے وقت یہ 3.68 فیصد تھی۔ گویا مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح میں تقریبا ً 2 فیصد کا اضافہ ہوا۔ پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو اقتصادی ترقی کی شرح 1.91 فیصد پر گرا دی۔ یہ جون 2019 میں ہو چکا تھا یعنی کرونا کے آنے سے 9 مہینے پہلے۔ جیسے 2018-19 میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح مسلسل گری، اسی طرح 2019-20 کے پہلے 9 ماہ میں بھی تیز رفتاری سے گرتی رہی اور اب کرونا کے آنے کے بعد یہ منفی 0.38 فیصد تک گر جائے گی۔ پاکستان کی تاریخ میں اقتصادی ترقی کی شرح 1951 کے بعد یعنی 69 سال بعد منفی میں جائے گی۔ سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے اعدادو شمار صاف صاف بتاتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور میں اقتصادی ترقی کی شرح ہر سال مسلسل بڑھی لیکن جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے یہ لگاتار تیزی سے گر رہی ہے۔

جب 2013ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو پاکستان میں فی کس آمدنی 1368 ڈالر فی کس تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور میں اس میں لگاتار اضافہ ہوتا رہا اور حکومت کے اختتام پر 2018 میں یہ 1652 ڈالر فی کس تک پہنچ چکی تھی۔ اس کے بعد پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال یہ 200 ڈالر گر گئی اور 1455 ڈالر فی کس تک پہنچ گئی اور دوسرے سال مزید 100 ڈالر گر کر 1355 ڈالر پر پہنچ گئی، یعنی پیپلز پارٹی کے دور سے بھی کم۔ مہنگائی کی شرح 2013 میں پیپلز پارٹی نے 7.40 فیصد پر مسلم لیگ (ن) کے حوالہ کی تھی جو ان کے دور میں مسلسل کم ہوتی رہی اور 2018 میں 3.90 فیصد تک رہ گئی۔ پی ٹی آئی حکومت آتے ہی مہنگائی نے دوبارہ سے جمپیں لگانی شروع کر دیں اور پہلے سال 3.90 سے 7.30 فیصد یعنی دوگنی ہوئی اور دوسرے سال کے پہلے نصف میں 11.20 فیصد کے آسمان کو چھونے لگی۔ پی ٹی آئی حکومت میں کرونا آنے سے کئی مہینے پہلے ہی مہنگائی نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے تھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عمران خان حکومت جب سے آئی ہے اندھا دھند قرضے لئے جا رہی ہے۔ پاکستان پر 2013 میں 14 ہزار ارب کے قرضے تھے، 2018 میں 24 ہزار ارب اور جون 2020 میں 36 ہزار ارب روپے کے قرضے۔ سیدھا سیدھا حساب یہ ہے کہ جتنے قرضے مسلم لیگ (ن) نے پانچ سال میں لئے، پی ٹی آئی حکومت نے پہلے ڈیڑھ سال میں لے لئے۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے جتنے قرضے 65 سال میں (1947 تا 2013)لئے، عمران خان حکومت اتنے قرضے دوسال سے بھی کم عرصہ میں لے چکی ہے۔ قرض کی مے پینے میں موجودہ حکومت پچھلے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ ان بے تحاشہ قرضوں کی وجہ سے پاکستان کے قرضے کل GDP کے 86 فیصد تک پہنچ گئے ہیں جس کا چند سال پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر ہو رہی تھیں جو پی ٹی آئی کے دور میں گر کر 20 ارب ڈالر سے بھی نیچے آ گئیں حالانکہ روپے کی قدر میں 40 فیصد کمی کی گئی۔ روپے کی قدر کو 105 سے 160 روپے فی ڈالر بڑھانے کے باوجود برآمدات تو بڑھی نہیں لیکن ملک میں مہنگائی کا طوفان آ گیا اور سٹاک مارکیٹ انڈیکس بھی نیم کریش ہو کر نصف رہ گیا۔ دوسری طرف خام مال اور مشینری کی درآمدات کم ہونے کی وجہ سے صنعتوں کا بٹھہ بیٹھ گیا۔ صنعتی ترقی کی شرح 2013 میں پیپلز پارٹی کے دور کے اختتام کے وقت 0.70 فیصد تھی جو مسلم لیگ (ن) دور میں بڑھتی رہی اور 5.20 فیصد تک پہنچ گئی۔ پی ٹی آئی نے پہلے ہی سال اسے 1.40 فیصد تک گرا دیا اور دوسرے سال منفی2.64 فیصد تک پہنچا کر پاکستان کو صنعتی میدان میں 1950 کی دہائی میں واپس لے گئی۔ بڑی صنعتوں کی ترقی کی شرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں 5 فیصد یا اس سے زائد رہتی تھی، پی ٹی آئی نے پہلے سال اسے منفی 2.56 اور دوسرے سال منفی 7.78 فیصد تک گرا دیا۔ ایسا لگتا ہے 1947 میں پاکستان نے جہاں سے اپنا سفر شروع کیا تھا، عمران خان حکومت ملک کو اس سے بھی پیچھے لے گئی ہے۔ یہی حالت زراعت اور سروسز سیکٹرز کی ہے۔

پیپلز پارٹی نے 2013 میں زرعی شعبہ کی ترقی 2.68 فیصد اور مسلم لیگ (ن) نے 2018 میں 4 فیصد پر چھوڑی تھی، پی ٹی آئی حکومت نے اسے پہلے ہی سال 0.58 فیصد تک گرا دیا۔ سروسز سیکٹر جسے پیپلز پارٹی نے 2013 میں 5.13 فیصد اور مسلم لیگ (ن) نے 6.20 فیصد پر چھوڑا تھا، اب پی ٹی آئی حکومت نے منفی 0.59 فیصد تک گرا دیا ہے، حالانکہ یہ وہ حکومت ہے جو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا دعوی کرکے حکومت میں آئی تھی۔ جب صنعت، زراعت اور سروسز تینوں سیکٹر منفی میں چلے جائیں گے تو نئی نوکریاں تو درکنار پہلے سے روزگار پر لوگ بھی فارغ ہوتے جائیں گے اور یہی وجہ ہے جب سے پی ٹی آئی حکومت بنائی گئی ہے لوگ لگاتار نوکریوں سے نکالے جا رہے ہیں۔ کرونا آنے سے پہلے ہی 25 لاکھ لوگ روزگار سے محروم ہو گئے تھے اور اب کرونا کی وجہ سے اس سے دوگنا لوگ بے روزگار ہوں گے۔

اب آتے ہیں ٹیکس کلیکشن کی طرف۔ پی ٹی آئی حکومت کے مطابق آئندہ سال 4900 ارب روپے کے ٹیکس اکٹھے کئے جائیں گے۔پی ٹی آئی حکومت اپنے دو سالوں میں ٹارگٹ سے بہت کم ٹیکس اکٹھا کر پائی ہے۔ گذشتہ سال بجٹ میں 5500 ارب روپے کا ٹارگٹ رکھا گیا تھا لیکن کلیکشن صرف 3044 ارب کی ہو سکی جو پی ٹی آئی کے اپنے پہلے سال کی کلیکشن 3929 سے 900 ارب روپے کم تھی۔ موجودہ حکومت نے 12 جون کو نئے مالی سال کے بجٹ میں دعوی کیا ہے کہ آئندہ سال کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا اور نہ ہی پہلے سے موجود ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو حکومت صرف 3044 روپے کے ٹیکس اکٹھا کر سکی تھی وہ اس سال 1900 ارب مزید اکٹھا کرکے 4900 ارب کا ٹارگٹ کیسے پورا کر سکے گی۔ اس کے صرف دو ہی جواب ممکن ہیں، ایک یہ کہ اس سال ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے جنات کی مدد لی جائے گی یا پھر دوسرا یہ کہ حکومت اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں لوگوں کو الجھا کر ان کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔

میرا خیال یہ ہے کہ آئی ایم ایف افسران نے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت صرف چند ماہ کے لئے یہ بجٹ پیش کیا ہے اور کچھ مہینوں بعد ایک ضمنی بجٹ آئے گا جو ٹیکسوں میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ریکارڈ بھی توڑ دے گا جس نے چولہا ٹیکس اور کھڑکی ٹیکس جیسے ظالمانہ ٹیکس نافذ کر رکھے تھے۔ ویسے بھی موجودہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور کے مقابلہ میں بجٹ کا خسارہ پورا دوگنا کرکے4.8 فیصد سے 9.6 فیصدتک پہنچا دیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر جو مسلم لیگ (ن) کے دور میں 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے، اب صرف 16 ارب ڈالر رہ گئے ہیں اور اسی طرح براہ راست بیرونی سرمایہ کاری جو مسلم لیگ (ن) نے 2018 میں 3.7 ارب ڈالر پر چھوڑی تھی، وہ پی ٹی آئی حکومت 1.67 ارب ڈالر تک گرا چکی ہے۔

عمران خان حکومت کے دعوے غلط اور وعدے جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ نہ صرف معیشت کا کچومر نکل گیا ہے بلکہ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں والے لارے لپے بھی اب لوگوں کا منہ چڑاتے ہیں۔اس سال بجٹ میں نئے گھروں کے لئے جو رقم مختص کی گئی ہے اس سے صرف 750 گھر بن سکتے ہیں۔ بیرون ملک پڑے 200 ارب ڈالر کی واپسی کا اسد عمر نے خود اعتراف کیا کہ وہ بات جھوٹ تھی۔ اس حکومت کی کوئی منصوبہ بندی سرے سے تھی ہی نہیں، یہی وجہ ہے کہ نہ معاشی ٹیم بن سکی کہ وزارت خزانہ اور ایف بی آر میں ہر چند ماہ کے بعد تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں اور صرف آئی ایم ایف سے آئی ہدایات کا من و عن اعلان کر دیا جاتا ہے۔ دوسری اہم وزارتوں اقتصادی امور، صنعت و پیداوار، فوڈ سیکورٹی، تجارت، منصوبہ بندی وغیرہ کا بھی یہی حال ہے کہ دو سال میں تین تین وزیر بدلے جا چکے ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ معیشت کون چلائے گا؟

مزید :

رائے -کالم -