کپتان نے تو ماننا نہیں، عوام ہی مان جائیں

کپتان نے تو ماننا نہیں، عوام ہی مان جائیں
کپتان نے تو ماننا نہیں، عوام ہی مان جائیں

  

وہ کپتان ہی کیا جو دوسروں کی مانے سو ہمارے پیارے کپتان نے بھی ایک بار پھر لاک ڈاؤن کے مطالبے کو رد کر دیا ہے، کپتان چونکہ کبھی کسی کو مایوس نہیں کرتا، اس لئے اس بار سمارٹ لاک ڈاؤن کی بجائے سلیکٹو لاک داؤن لگانے کی نوید سنائی ہے۔ پنجاب میں اب کپتان جی کبھی کبھی آتے ہیں، لاہور ائے تو پنجاب حکومت کی یہ تجویز رد کر دی کہ کم از کم لاہور میں سخت لاک ڈاؤن کرنے کی اجازت دی جائے۔ کپتان نے اس حقیقت کے باوجود کہ عثمان بزدار اور ان کی ٹیم کی کھل کر تعریف کی، یہ تجویز قبول نہیں کی۔ گویا اب یہ پتھرپر لکیر ہے کہ کپتان اور پیارے وزیراعظم عمران خان نے چاہے کورونا سے دس گنا مزید اموات ہو جائیں، کرفیو تو دور کی بات ہے سخت لاک ڈاؤن بھی نہیں لگانا۔ اس لئے بہتر ہے اپنا اپنا قبلہ درست کر لیا جائے۔ بچ سکتے ہو تو بچ جاؤ وگرنہ ہمیں دوش نہ دینا۔ کپتان نے اپنے پہلے فرمان کے برعکس البتہ یہ ضرورت کہا ہے کہ اب حکومت کو سختی کرنا پڑے گی۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے جب لاک ڈاؤن کے دنوں میں صوبائی حکومتیں لوگوں پر سختی کر رہی تھیں، انہیں گھروں تک محدود رکھنے میں کوشاں تھیں تو وزیراعظم عمران خان یہ کہا کرتے تھے کہ پولیس کی جانب سے عوام پر سختی ان کے لئے بڑی تکلیف دہ بات ہے۔

انہوں نے یہ فرمانِ عالی شان بھی جاری کر دیا تھا کہ لوگوں پر سختی نہ کی جائے، انہیں پیار سے سمجھایا جائے۔ پیار پیار میں عوام کو اتنا بگاڑ دیا ہے کہ انہوں نے ایس او پیز کو بھی جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ ٹھڈے مار مار کر ان ایس او پیز کا ایسا حلیہ بگاڑا ہے کہ اب یہ خود منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ عمران خان آج ہی اپنے اس حکم کا حشر نشر دیکھ لیں گے کہ اب کوئی شخص ماسک کے بغیر گھر سے باہر نہیں آ سکتا، جس طرح پہلے ماسک والے لوگوں کو ڈھونڈنے کے لئے دوربین استعمال کرنا پڑتی تھی، اسی طرح اب بھی دور دور تک کوئی ماسک پہن کے پھرتا نہیں ملے گا۔کپتان جی نجانے کس خوش فہمی میں ہیں جو انتظامیہ دکانداروں سے ایس او پیز پر عمل نہیں کرائے گی وہ سڑکوں پر پھرتے اس سیل رواں کو ماسک کیسے پہنا سکے گی جو ہر قانون کو پاؤں تلے روندنے کا عادی ہے۔آج جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں پچھلے چوبیس گھنٹے میں کورونا کیسز کی تعداد 6854 ہے۔ یہ اب تک ایک دن میں سامنے آنے والے کیسوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

مجموعی طور پر ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ گئی ہے اور کوئی مائی کا لال اگلے آٹھ دس دنوں میں اے دو لاکھ تک پہنچنے سے نہیں روک سکتا۔ جب آپ کسی قسم کا بند باندھنے کو ہی تیار نہیں تو سیلاب کیسے رکے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بات لاک ڈاؤن سے بھی آگے نکل گئی ہے، مگر ہمارے کپتان سمارٹ، سلیکٹو اور ٹارگٹڈ لاک ڈاؤن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اب آپ لاہور کی مثال ہی لے لیں۔ اس شہر کا کون سا کونا بچا ہے کہ جہاں یہ وائرس موجود نہیں۔ خود یہ بات میرے علم میں ہے کہ لاہور میں رہنے والے ملک کے دیگر شہروں میں اپنے عزیز و اقارب کو فون کرکے یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ ان دنوں لاہور آنے کی غلطی نہ کرنا، وبا بڑے زوروں پر ہے، خود محکمہ صحت خبردار کر چکا ہے کہ لاہور میں کورونا متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے اپنے دارالحکومت کے لوگوں کو بچانے کے لئے کیا قدم اٹھایا ہے۔ خود فیصلہ کرنے کی بجائے کپتان کی کورٹ میں بال کیوں پھینکی، جو پہلے ہی اپنی ابہام زدہ پالیسی کی وجہ سے کورونا کو ”گھبرانا نہیں ہے“ کے جادوئی نعرے سے ہزاروں کی بجائے لاکھوں میں لے آئے ہیں۔

قصہ یہ ہے کہ کپتان کو روزانہ کاغذی رپورٹیں مل جاتی ہیں، جن میں خاص طور پر انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ابھی ہمارے صحت کے شعبے پر کوئی دباؤ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ہر تقریر میں اس بات پر شکر ادا کرتے ہیں کہ حالات کنٹرول میں ہیں۔ وہ لاہور آئے تھے تو کاش کسی ذریعے سے انہیں علم ہوتا کہ لاہور میں کورونا مریضوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ وہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے فرضی اعداد و شمار کی بجائے اپنے خفیہ ذرائع سے پتہ کراتے کہ لاہور کے ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کو داخلہ بھی مل رہا ہے یا نہیں، یہ یاسمین راشد جو آئے روز یہ کہتی رہتی ہیں کہ وارڈز میں بیڈز بھی خالی پڑے ہیں اور وینٹی لیٹرز بھی طلب سے زیادہ ہیں، اس میں سچ کتنا ہے اور جھوٹ کتنا، میوہسپتال جیسے بڑے ادارے میں کورونا مریض کو داخل کروانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ وینٹی لیٹر کا حصول تو ایک ڈراؤنا خواب بن کر رہ گیا ہے۔ لاہور کے پرائیویٹ ہسپتالوں کی چاندی ہو گئی ہے اور وہ منہ مانگے دام وصول کررہے ہیں۔ لگتا ہے کپتان کو صرف ایک رخ دکھایا جاتا ہے اور وہ معیشت کا رخ ہے، دوسرا رخ جو انسانی زندگی سے تعلق رکھتا ہے، وہ انہیں دکھایا ہی نہیں جا رہا۔

اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے کئی دھندے چل پڑے ہیں، پرائیویٹ ہسپتالوں کا مافیا تو ہرگز یہ نہیں چاہے گا کہ کورونا کنٹرول میں آئے۔ یہ کرونا چلتا رہے گا تو ہر روز انہیں کروڑوں روپے کی آمدنی ہوتی رہے گی۔ سوشل میڈیا پر کراچی کے آغا خان ہسپتال کی ایک رسید گردش کر رہی ہے، جو مریض کو نو دن داخل کرکے ستر لاکھ روپے وصول کرکے جاری کی گئی۔ یہ صرف کراچی کا حال نہیں لاہور میں بھی مجبوروں اور ضرورت مندوں پر ایسی ہی چھریاں چلائی جا رہی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی یہ تو کورونا سے بھی پہلے کی پرانی عادت ہے کہ ہسپتالوں میں داخل نہیں کرتے اور پرائیویٹ ہسپتالوں کی راہ دکھاتے ہیں، جن کے وہ پے رول پر ہوتے ہیں۔ اب تو ایک جاں لیوا وائرس کا بہانہ ہے اور یہ بہانہ بھی کہ مریض بہت زیادہ ہیں اگر صوبے کی وزیر صحت کو اتنا بھی علم نہیں کہ سرکاری ہسپتالوں سے کورونا مریضوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے تو پھر انہیں یہ عہدہ چھوڑ کر گھر بیٹھ جانا چاہیے۔

کپتان نے تو ثابت کر دیا ہے کہ جو وہ ایک بار ٹھان لیں، اس سے ایک قدم آگے پیچھے نہیں ہوتے چاہے سب کچھ ڈوب جائے۔ وہ تو اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارتے رہیں گے شائد کوئی کامیابی ہاتھ آ جائے۔ انہوں نے ساری ذمہ داری عوام پر ڈال دی ہے کہ وہ کورونا سے بچنے کے لئے از خود احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہیں شائد معلوم نہیں کہ ہمارے عوام میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو ہر وہ کام کرتے ہیں، جن سے انہیں منع کیا جاتا ہے، وہ صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں، انہیں باتوں سے قائل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کورونا کورونا کہہ کر ڈرایا جا سکتا ہے، کہنے کو کپتان کی طرح ایک درخواست ہم بھی عوام سے کر لیتے ہیں کہ خدارا اپنے اور اپنے بچوں پر ترس کھائیں اور کچھ نہیں تو کم از کم گھر سے باہر ماسک پہن کر جائیں۔ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں اور گھر واپس آکر ہاتھوں کو دھوئیں، صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کریں۔ دکانداروں سے بھی دست بستہ عرض ہے کہ چار پیسے کمانے کے لئے اپنی اور دوسروں کی زندگی داؤ پر نہ لگائیں۔ کپتان نے تو ماننا نہیں، عوام ہی مان جائیں، کورونا کو نہ پھیلائیں بلکہ اسے پاکستان سے بھگانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، مگر امکان نہیں کہ عوام یہ بات مانیں، جب ملک کا وزیراعظم انہیں آزادی دے کر خوش ہے تو عوام کا دماغ خراب نہیں کہ کمروں میں قید ہو کر بیٹھ جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -