موجودہ بجٹ، موجودہ تنخواہیں اور موجودہ پنشن

موجودہ بجٹ، موجودہ تنخواہیں اور موجودہ پنشن
موجودہ بجٹ، موجودہ تنخواہیں اور موجودہ پنشن

  

بجٹ آ چکا ہے۔ اس کے پیشہ ورانہ اصطلاحی گورکھ دھندوں کی سمجھ عام آدمی کو اب تک نہیں آ سکی۔ ہم نجانے کتنے برسوں سے بجٹ تقاریر سن رہے ہیں۔ اول اول یہ انگریزی زبان میں ہوتی تھیں۔ وہ لوگ جو اقتصادی امور کا شعور رکھتے تھے ان کو اردو کی پروفیشنل اصطلاحوں کی کچھ خبر نہیں ہوتی تھی۔ لیکن پھر یہ بجٹ انگریزی کی بجائے اردو میں پیش کیا جانے لگا جو طلباء یونیورسٹی میں اکنامکس کا مضمون پڑھتے تھے وہ انگریزی ہی میں پڑھتے اور پڑھاتے تھے۔ یہی حال دفاعی امور کا بھی تھا۔ لیکن دفاعی معاملات کا پس منظر نسبتاً آسان تھا۔ گھوڑے کی جگہ ٹینک، تیر کی جگہ میزائل، بیل گاڑیوں کی جگہ ریل گاڑی اور رسل و رسائل کے شعبے میں اونٹوں اور ہاتھیوں وغیرہ کی جگہ ٹرک آ گئے تھے۔ یعنی یہ تبدیلی ایک حوالے سے تدریجی تبدیلی تھی لیکن قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کے لئے بینکنگ اور اقتصادی نظام کی سمجھ بوجھ بالکل ایک معمہ تھی اس لئے جمہوری ادوار میں جب بھی بجٹ پیش کیا جاتا، عوام اس کا اندازہ لگانے کے لئے صرف یہ سمجھنے کی کوشش کیا کرتے کہ آٹا دال کا بھاؤ سستا ہوا ہے یا مہنگا۔ سیگرٹوں اور چائے کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ اشیائے خورد ونوش کی بجائے اشیائے صرف کی اصطلاح عام ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس بجٹ میں صابن تیل، ٹوتھ پیسٹ اور سبزیاں وغیرہ مہنگی ہو گئی ہیں۔ مجھے اپنی ساری زندگی میں ایسا برس کبھی دیکھنے کو نہیں ملا جب عوام کے استعمال میں آنے والی اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہو۔ یہ اضافہ ہر سال بڑھتا رہتا اور عوام الناس کی کمر ہر سال قرضوں کے بوجھ تلے دبتی جاتی تھی۔

بجٹ کے اگلے روز وزیرخزانہ ایک پریس کانفرنس کرتے اور بتاتے کہ فلاں چیز اگر مہنگی ہو گئی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے وغیرہ وغیرہ…… اب بھی یہی ہوگا۔ صحافیوں کے سوال و جواب ہوں گے۔ پہلے تو اور طرح کے بہانے ہوتے تھے لیکن اب تو کورونا کا بہانہ ایک عالمگیر حقیقت ہے۔ گزشتہ تین سو برسوں میں برطانیہ کی اکانومی اتنی نہیں سکڑی تھی جتنی اس کورونا کے دورِ پُرآشوب میں سکڑی ہے۔……20فیصد سکڑنے کا مطلب پانچواں حصہ سکڑ جانا ہے۔ ہمارے وزیرِ خزانہ (یا مشیر خزانہ) جب برطانیہ کی مثال دیں گے تو ہم پاکستانیوں کے پاس صبر کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

لیکن اس بجٹ میں سب سے زیادہ ضرب جس طبقے پر لگی ہے وہ تنخواہ دار طبقہ ہے۔ (اس میں پنشرز حضرات بھی شامل ہیں)۔ میں نے سول محکموں میں بھی نوکری کی ہے اور فوج سے ریٹائرمنٹ لی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ سویلین کلرکوں، اساتذہ، دفتروں کے اہلکاروں اور افواجِ پاکستان کے عہدیداروں اور کمیشنڈ افسروں کو اس بجٹ کا کتنا انتظار ہوتا ہے۔ حکومت نے شائد سمجھ لیا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ کورونا سے متاثر نہیں ہوا۔ ہم ہر روز ٹیلی ویژن پر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کا موازنہ (بمقابلہ سالِ گزشتہ یا سالہائے گزشتہ) دیکھتے اور سنتے ہیں تو حکومتی ایوانوں میں بیٹھے وزیروں، مشیروں اور اعلیٰ مناصب پر فائز حضرات و خواتین کی عقلوں کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ کسی کلرک، ٹیچر، کانسٹیبل یا لانس نائیک کی تنخواہ کتنی ہے اور فوج سے جو لوگ (سپاہی سے لے کر اوپر کے تمام عہدوں تک) ریٹائر ہوتے ہیں ان کی گزران کیسے ہوتی ہے؟ میں نے اپنی 30سالہ فوجی ملازمت میں کوئی برس ایسا نہیں دیکھا جب بجٹ میں تنخواہ (اور پنشن) میں اضافہ نہ کیا گیا ہو۔ یہ درست سہی کہ کورونا ایک نئی مصیبت ہے۔ لیکن اس مصیبت میں اگر آپ نے ایسے پروگرام ترتیب دیئے ہیں جن میں دیہاڑی دار طبقے کو مالی معاونت فراہم کی ہے تو تنخواہ دار (اور پنشن یافتہ) طبقے کو کیوں ان میں شامل نہیں کیا؟

حکومت کے عمّال نے کبھی اس حقیقت پر غور کیا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ بھی ایک طرح کا ”دیہاڑی دار“ طبقہ ہے۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ اس طبقے کے گھر والے کتنی شدت سے ہر ماہ یکم تاریخ کا انتظار کرتے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے جب ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے ناں کہ اس طبقے کی تنخواہ ”سکڑ“ گئی ہے۔ فرض کریں ایک حوالدار کی تنخواہ 50ہزار ہے۔ گزشتہ چار ماہ سے مسلسل کورونا وبا کے باعث اشیائے صرف کی قیمتیں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ یہ 50ہزار سکڑ کر پہلے ماہ 40،دوسرے ماہ 35، تیسرے ماہ 30 اور اب 25ہزار رہ گئے ہیں …… اس 25ہزار میں اس حوالدار کی فیملی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی؟

حکومت تنخواہوں اور پنشن میں اگر روائتی 10فیصد اضافہ بھی کر دیتی تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہوتی۔ ویسے تو اس مہنگائی کے پیش نظر چاہیے تھا کہ یہ اضافہ کم از کم 30فیصد ہوتا۔ لیکن حکومت نے کمال کر دیا ہے کہ بجائے اضافے کے تنخواہ میں ”کمی“ کر دی ہے۔ گزشتہ سال کی شرح پر تنخواہ اور پنشن کو منجمد کرنے کا مطلب اگر ”کمی“ نہیں تو اور کیا ہے؟

حکومت کو سوچنا چاہیے کہ نہ صرف اشیائے ضروریہ بلکہ گیس، پانی، بجلی اور ٹیلی فون کے بلوں میں بھی گزشتہ مہینوں سے بتدریج اضافہ ہو گیا ہے۔ میرا ماہ مئی کا بجلی کا بل 34000ہزار آیا ہے حالانکہ پورے ماہ مئی میں پہلے پندرھواڑے میں بارشیں ہوتی رہیں اور آخری پندرھواڑے (16مئی تا31مئی) میں بھی ہم نے بہت کم ائر کنڈیشنر استعمال کیا ہے۔ اس بل میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ اس میں 9000ہزار اضافی ٹیکس ہے۔ محکمہ سے رجوع کیا گیا تو بتایا گیا کہ جب 1000یونٹ سے زیادہ بجلی خرچ کی جائے گی تو اس کا بل ”ہوشربا“ حد تک زیادہ ہوگا…… جون، جولائی اور اگست کے مہینے اصل گرمی اور حبس کے مہینے ہیں۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ ان میں صبح سے شام تک تو ہاتھ کے پنکھے استعمال کر لیں گے، لیکن رات کو کیا کریں گے؟…… یہی حال گیس اور ٹیلی فون کے بلوں کا ہے۔ لوگ حکومت کو نہیں، عمران خان کو بددعائیں دیتے ہیں کہ انہوں نے کیا وعدے کئے تھے اور کیا ایفا کئے!……

چار روز پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے حکم جاری کیا کہ چینی جو بازار میں 90،95روپے فی کلو بک رہی ہے، اسے 70روپے کلو بیچا جائے۔ میں نے ابھی ابھی اپنے ملازم کو عسکری مارکیٹ بھیجا کہ ایک کلو چینی لے آئے…… اس نے 90روپے ادا کئے اور کہا کہ جب میں نے جرح کی تو اس نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ والوں کو کہہ دو کہ آکر ہمیں گرفتار کرلیں۔ ہم اس سے کم قیمت پر نہیں دے سکتے۔

ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کسی اشیائے صرف کے نرخ مقرر کرنا ایک انتظامی Executive معاملہ ہے، Judicial نہیں۔ عدلیہ کس طرح یہ کام کرے گی اور اس کی تعمیل کون کروائے گا؟ اتنی پولیس کہاں ہو گی کہ گراں فروشوں کو قابو کرکے جیلیں بھرے گی؟

حکومت نے بظاہر کورونا کے پیش نظر اشیائے ضروریہ پر GST ختم کر دیا ہوا ہے لیکن کوئی دکاندار اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں لیکن پرائس، کنٹرول نہیں ہو رہی…… فوج میں ایک مقولہ ہے کہ جس آرڈر کی تعمیل ممکن نہ ہو۔ اس کو ایشو نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیا حکومت پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے قیام کے بعد یہ سوچ رہی ہے کہ واقعی قیمتیں کنٹرول ہو گئی ہیں؟ میں کینٹ (لاہور) میں بیٹھا ہوں۔ ہر دکاندار کے پاس پرائس کنٹرول کمیٹی کی لسٹ ہر روز موصول ہوتی ہے اور وہ اس کو دکان میں آویزاں بھی کر دیتا ہے۔ لیکن جب کوئی گاہک آکر کوئی چیز طلب کرتا ہے تو فہرست میں لکھی قیمت سے زیادہ قیمت طلب کی جاتی ہے…… اور پوچھنے والا کوئی نہیں! جس آرڈر کی تکمیل و تعمیل ممکن نہ ہو، اس کا اجرا ایک احمقانہ فعل ہو گا جس کا ارتکاب یہ حکومت بار بار (بلکہ روزانہ) کئے جا رہی ہے۔

مجھے ابھی ایک دوست نے فون کیا ہے اور کہا ہے کہ اب تنخواہ دار اور پنشن یافتہ طبقے کے لئے ایک ہی راستہ باقی ہے کہ وہ ملک کے کسی معروف وکیل کو بھاری فیس دے کر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرے کہ اس بجٹ میں حکومت نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیوں نہیں کیا؟…… کیا مہنگائی کا عفریت روک لیا گیا ہے؟…… کیا گزشتہ برس جولائی سے لے کر اس برس جون تک اشیائے صرف کی قیمتیں منجمد کر دی گئی ہیں یا منجمد رہی ہیں؟…… اور اگر نہیں ہیں تو کورونا کا“بہانہ“ کرکے تنخواہوں اور پنشن میں وہ معمولی سا اضافہ بھی کیوں نہیں کیا گیا جسے اونٹ کے منہ میں زیرہ کا نام دیتے ہیں؟…… کیا حکومت قوم کو رشوت اور بددیانتی کی طرف دھکیل رہی ہے؟…… یاد رکھیں اگر کسی سرکاری اہلکار کی ماہانہ تنخواہ 25ہزار ہے تو اس کا ماہانہ خرچہ بھی Calculate کریں اور اگر آمد اور خرچ میں کسی مساوات کا سراغ اور حساب نہیں لگایا جاتا تو اس سرکاری اہلکار کے پاس رشوت اور بددیانتی کے سوا اور کیا چارہ رہ جائے گا؟

روٹی تو کما کھاوے کسی طور مچھندر

مزید :

رائے -کالم -