امریکہ میں تشدد کی حالیہ لہر

امریکہ میں تشدد کی حالیہ لہر
امریکہ میں تشدد کی حالیہ لہر

  

25مئی کو چار پولیس افسران نے امریکی ریاست مینیوپلس میں جارج فلائیڈ نامی ایک سیاہ فام شخص کو بے دردی سے ہلاک کردیا۔ پولیس افسروں میں سے ایک ڈیرک چوون نے 8 منٹ تک زمین پر گِرے فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا اس زور سے ٹِکائے رکھاکہ وہ سانس لینے میں دشواری کے باعث ہلاک ہو گیا، اردگرد جمع ہوئے لوگ اِسے چھوڑنے کا واویلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس واقعہ کی ویڈیو بھی بناتے رہے۔ جب فلائیڈ بے سدھ ہو گیاتو ایک ایمبولینس طلب کی گئی لیکن تب تک اُس کی روح پرواز کر چکی تھی۔یہ حادثہ امریکی تاریخ کا ایک انتہائی اہم واقعہ بن گیا۔ اگلے دن سے شروع ہونے والے احتجاج نے امریکہ کو بد ترین انتشار کا شکار بنا دیا۔وہ ایک لمحہ ایک تحریک میں بدل گیا۔ احتجاج ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تمام 50 ریاستوں میں پھیل گیا۔ احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی میں 21 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مظاہروں پر قابو پانے کے لئے نیشنل گارڈ زکو طلب کیا گیا لیکن صورتحال قابو سے باہر رہی۔ جارج فلائیڈ طبقاتی تقسیم کے ستائے لوگوں کی آواز بن گیا جو دور رس نتائج کی حامل ہو گی۔ امریکہ کے بعد سڈنی، لندن، یورپ اور جنوبی امریکہ میں بھی مظاہرے زور پکڑ گئے۔ جارج فلائیڈصدیوں سے ریاستی امتیاز اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کی علامت بن گیا۔ اب ہر طرف سے ایک ہی آواز اٹھ رہی ہے انصاف اور مساوات کی آواز۔

جارج فلائیڈ واقعے کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو جاننا ضروری ہے جو اس کا نقطہءِ آغاز ہے۔ نسلی ناانصافی اور ظلم و بربریت کی یہ کہانی پولیس کے ہاتھوں صرف ایک شخص کی ہلاکت پر ہی مبنی نہیں بلکہ اس کی تاریخ 400 سال پرانی ہے۔ حقائق کو پرکھا جائے تو 1620 میں پہلا افریقی غلام جہاز شمالی امریکہ پہنچا۔ یہ غلام سیاہ فام تھے جنہیں پرتگالی نوآبادیاتی فوجیوں نے اغوا کرلیا تھا، انہیں انڈیانا میں انگریزی خاندانوں کو فروخت کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد غلاموں کی خرید وفروخت معمول کا حصہ بن گئی۔ کالوں کے نام اور شناخت چھین لی گئی اور یہ نیگرو، نیگریاصرف کالے کے نام سے جانے جاتے۔ 1700 کی دہائی تک 000 100سے زائد سیاہ فام غلاموں کو افریقہ کے مختلف علاقوں سے براہ راست جہازوں پر لایا گیا۔ ان غلاموں کو 1800 کی دہائی تک کسی قانونی یا سیاسی تحفظ کے بغیر غلام بازاروں میں مارا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور ان کی خرید و فروخت کی جاتی رہی۔ جنوبی علاقوں میں انگریزی بولنے والے گوروں کا کالوں کے ساتھ سلوک خاص طور پر خوفناک تھا۔

1964تک نسل در نسل کالوں پر تشدد، عصمت دری، قتل اور ظلم و بربریت یہاں کاعام رواج تھا۔ 1970میں مارٹن لوتھر، میلکم ایکس اور علیجاہ محمدجیسے رہنماؤں کی سرکردگی میں کالوں نے اپنے سیاسی حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کا آغاز کیایہ سیاہ فام امریکیوں کے حقوق کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیات تھیں۔ میلکم ایکس نے اس شناخت کی نشاندہی کرنے کے لئے اپنے نام کے ساتھ”ایکس“ لگایا تھا جو اس کے باپ دادا کوغلاموں کے طور پر پکڑا کراور انہیں فروخت کر کے انہیں دی گئی تھی۔ 400 سالوں سے امریکہ میں کالوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا رہا۔ خانہ جنگی اور حقوق کی تحریک کے بعد بھی کالوں کے ساتھ اب تک امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت کا آئین کسی خاص نسل، مذہب یا مسلک کے خلاف امتیازی سلوک اور ظلم کی اجازت نہیں دیتا لیکن حقیقت یہی ہے۔ آج تک امریکی آبادی کے 13فیصد 42 ملین سیاہ فام امریکی محسوس کرتے ہیں کہ انہیں پولیس بربریت کا نشانہ بنانے میں امتیاز ی سلوک کا مظاہر ہ کرتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 2013 سے 2020 کے درمیان امریکی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں 7000 سے زائدسیاہ فاموں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ لیکن اب یہ معاملہ وحشیانہ ہلاکتوں سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔

انٹرنیٹ پر چار پولیس افسران کے ہاتھوں جارج فلائیڈ کے مارے جانے کی خوفناک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، ''بلیک لیوز میٹر'' کے نعرے کے تحت سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تحریکیں چل رہی ہیں۔ ایک اور ٹویٹر ہیش ٹیگ ''میں سانس نہیں لے سکتا'' جو جارج فلائیڈ کے مرنے سے پہلے کے آخری الفاظ تھے،ٹاپ ٹرینڈ بنا۔ اس پر جعلی نوٹ رکھنے کا الزام تھا۔ وہ مسلح تھا اورنہ دشمن۔ اس کا کنبہ اور دوست جارج فلائیڈ کو ''مہذب دیو'' کے نام سے پکارتے تھے۔اس کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے جو اب تک ختم نہیں ہورہے۔ حکومت نے متعدد شہروں میں کرفیو نافذ کردیا تھا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے بڑھنے والی بے روزگاری کے نتیجے میں یہ مظاہرے اور بھی زیادہ جارحانہ ہوگئے۔

امریکہ میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعدمارچ 2020 سے تمام 50 ریاستوں میں لاک ڈاؤن ہے۔ تجارتی سرگرمیوں کے معدوم ہونے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے دیوالیہ پن کی وجہ سے ریاستہائے متحدہ میں بے روزگاری میں 13فیصداضافہ ہوا ہے۔جارج فلائیڈ کی موت نے لاک ڈاؤن اور معاشی چیلنجز کے غصے کو دوگنا کر دیا ہے۔ایک مبصر کے مطابق یہ ہنگامے اس وجہ سے اتنی شدت اختیار کر گئے کہ لوگ گھروں میں موجود اور احتجاج کے لیے بڑے پیمانے پر دستیاب تھے۔ جارج فلائیڈ کی موت معاشی مایوسی کے ساتھ جڑچکی ہے جو1930 کی دہائی سے بھی بدتر ہے۔ بے روزگاری کی مایوسی نے احتجاج کو جارحانہ بنا دیا اسی لیے دکانیں، مارکیٹیں اور بینک لوٹ مار اور آتشزدگی کا نشانہ بنے۔ تقریباً تمام 50 ریاستوں میں عوامی املاک کو لوٹنے اور جلانے کے واقعات ہوئے ہیں۔ گورنرز پر امن رہنے کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ طبی ماہرین انتباہ کر رہے ہیں کہ ان مظاہروں اور اجتماعات سے کوویڈ۔19 وائرس کے پھیلنے کی ایک اور لہر کوتقویت ملے گی۔ ''بلیک لیوز میٹر'' تحریک زوروں پر ہے۔ مظاہرین کے دباؤ کے بعدچار پولیس افسران جو جارج فلائیڈ قتل کا حصہ تھے، کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ وہ پولیس آفیسر جس نے فلائیڈ کے گلے پر گھٹنا رکھا تھا،اس پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جارج فلائیڈ اب برینا ٹیلر، جمار اور بہت سے دوسرے سیاہ فام امریکیوں کے لئے دفاع، مزاحمت اور تبدیلی کی علامت بن گیا ہے جن کی اموات کے نتائج تاحال برآمد نہیں ہو پائے۔

انسانی تاریخ تقسیم، نسل پرستی اور بربریت کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمیشہ ''ہم'' کے مقابلے ''ان'' کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہماری مشترکہ انسانیت ہمیں متحد کرنے میں ناکام ہے۔ کلاس، مسلک، نسل، مذہب، زبان، معاشرتی حیثیت، ہمیں اس حد تک تقسیم کردیتی ہے کہ بعض اوقات یہ نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اسے سیاہ فام امریکیوں کے تناظر میں منظم امتیاز یا انصاف پسندانہ نسل پرستی کہا جا سکتا ہے۔ آج میڈیا کے دور میں کسی خبر کو چھپانا، غیرمنصفانہ کھیل رچانایا منظم ناانصافی زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ سفاکیت کو برداشت نہیں کیا جاسکتا، امتیازی سلوک ٹھیک نہیں ہے اور جہاں جہاں بھی ہو گااس کے خلاف آوازیں اٹھیں گی۔ دنیا بدل رہی ہے پرانے طریقوں کو سدھارنے کی ضرورت ہے۔ سیاہ فام امریکی بچوں کو اعلیٰ یونیورسٹیوں میں قبول نہیں کیا جاتا، سیاہ فام امریکیوں کو اسکریننگ کے طریقہ کار کا نشانہ بنایا جاتا ہے، سیاہ فام امریکیوں کو نوکریوں کے چالیس فیصد کم مواقع ملتے ہیں۔سیاہ فام امریکیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک بل 4 جولائی کو امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا۔ جارج فلائیڈ کی یہ پہلی فتح ہے۔ دوسرے ممالک بھی اپنی ماضی کی غلطیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ماضی کی نوآبادیاتی طاقتوں سے سوال ہو رہے ہیں کیوں کہ ونسٹن چرچل جیسے رہنماؤں کے مجسمے جنہوں نے غلامی اور نوآبادیاتی حکمرانی کی حمایت کی تھی، کو لندن میں ''بلیک لیوز میٹر''تحریک کے تحت کالا کردیا گیا ہے۔ جرمنی، جنوبی افریقہ، روانڈا جیسے ممالک تب آگے بڑھ سکے جب انھیں اپنی امتیازی سلوک کی غلطیوں کا احساس ہوا، شاید اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ بھی اس صف میں شامل ہوجائے۔ ''اپنی غلطیوں کو تسلیم کرکے ان کے ازالہ کرنے کا وقت ہے،ورنہ ایسا نہ ہو یہ ہنگامے پھر سر اٹھا لیں ''۔ سیاہ فام امریکی اب غلام نہیں ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -