پنجاب پولیس ظالم بھی مظلوم بھی

پنجاب پولیس ظالم بھی مظلوم بھی
پنجاب پولیس ظالم بھی مظلوم بھی

  

عوام کی حفاظت کے لئے ”قانون کی حکومت“ اور چیک اینڈ بیلنس کا ہو نا ضروری ہے۔ہر ملک کو اندرو نی سیکیو رٹی اور سکیورٹی پر مامورفورس کے لئے بلا تفریق بہترین انتظامات کرنے چا ہئیں لیکن ہمارے ہاں یہ تفریق موجودکیو ں ہے۔ہمیں ان پو لیس والو ں سے شکوے شکا یتیں تو بہت ہیں لیکن ذرا غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ یہ نہا یت کم معاوضے کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ان کی زندگی کی کسی کو پروا نہیں۔ان کی تر بیت کا بھی کو ئی اعلیٰ معیار نہیں۔کوروناسے دوسروں کو بچاتے بچاتے کئی اہلکار خود اس کا شکار ہونے سے سسک سسک کر زندگی کی بازی ہار گئے ہیں کئی اہلکاروں سمیت سینئرافسر بھی اس کا شکار ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں مگر ادارے اور حکومت کی جانب سے انھیں بچانے اور ان کے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کو ئی خاص انتظامات نہیں، کورونا کی وجہ سے پورا ملک سخت مشکل سے دوچار ہے،

فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ادارے بالخصوص پولیس سب سے زیادہ متاثر ین میں شامل ہے۔پنجاب پولیس کی حوصلہ افزائی اور دیگر مراعات کی بجا آوری کی بجائے،حکومت پنجاب نے کوونا وائرس کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکاروں کی بطور فرنٹ لائن خدمات کے اعتراف کے بجائے پنجاب پولیس کے بجٹ میں کمی کردی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے ایندھن کے لیے مختص فنڈز میں سے 40 کروڑ روپے، تفتیشی لاگت سے 7 کروڑ 70 لاکھ روپے، اسٹیشنری سے 4 کروڑ 10 لاکھ روپے، بجلی کے بلز کے لیے مختص 12 کروڑ روپے اور جاں بحق پولیس اہلکارو ں کے خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے سے متعلق گرانٹ میں 25 کروڑ روپے کی کمی کردی ہے۔

واضح رہے یہ 'چونکانے والی' پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پنجاب میں 7پولیس اہلکار کورونا وائرس سے جاں بحق اور دیگر 700متاثر ہوچکے ہیں۔حال ہی میں لاہور میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے ایک پولیس اہلکار کے بھائی کا کہنا ہے کہ اگر کٹوتی کا مقصد اس رقم کو انسداد کورونا اقدامات سے متعلق حکومتی فنڈ میں منتقل کرنا ہے تو پولیس سے زیادہ کوئی اور فنڈنگ کا مستحق نہیں کیونکہ پنجاب کے حکومتی محکموں میں اب تک کورونا کے سب سے زیادہ کیسز پولیس میں سامنے آئے ہیں۔اب تک جن پولیس اہلکاروں کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں سے 10 فیصد کورونا میں مبتلا ہیں اور بجٹ میں یہ کٹوتی پولیس کو وبا کے خلاف جنگ میں مفلوج کردے گی۔ یہ کٹوتی غیر منصفانہ ہے کیونکہ پنجاب پولیس کو پہلے ہی کوسٹ آف انویسٹی گیشن کی مد میں 25 کروڑ میں سے 18 کروڑ روپے ملے جبکہ اس حوالے سے مطلوبہ رقم 2 ارب 30 کروڑ روپے ہے۔

ہر گزرتے سال کے ساتھ پنجاب پولیس کا آپریشنل بجٹ کم ہوتا جارہا ہے جس کے باعث پولیس کے لیے اپنے یومیہ آپریشن چلانا مشکل ہوگا،بدترین پہلو یہ ہے کہ سروس کے دوران جاں بحق ہونے والے افسران کے خاندانوں کے لیے مختص فنڈز میں بھی کمی کی گئی ہے۔واضح رہے پنجاب پولیس کے ملازمین (کانسٹیبلز سے لے کر انسپکٹر جنرل تک) کی تنخواہیں 2009 سے منجمد ہیں جس کے نتیجے میں پولیس افسران کے بجائے ان کے برابر رینک کے دیگر محکموں کے افسران زیادہ تنخواہیں لے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پولیس افسران کے ایگزیکٹو الاؤنس میں توسیع کی بھی منظوری دی تھی لیکن بیوروکریسی نے اس میں تاخیر کے لیے ایک اور کمیٹی کی تشکیل کی تجویز دی، اس تفریق کی وجہ سے صرف پولیس فورس کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

آج کے حالات میں جب ملک میں کرونا وائرس کی وبا عام ہے پولیس کے جوان ہر وقت ناکوں پر موجود ہیں اور دن اور رات کی تفریق کئے بنا اپنی ڈیوٹی کو عبادت سمجھ کر سرانجام دے رہے ہیں۔صوبہ پنجاب کے ہر ضلع میں پولیس کے جوان ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔لاہور سمیت صوبہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ٹریفک پولیس و موٹر وے پولیس،ریلوے پولیس سمیت پنجاب پولیس ہراول دستے کے طور پر انتظامیہ کے شانہ بشانہ شریک ہے۔پاکستان کی حفاظت کے لئے افواج اور پولیس سمیت دوسری سیکیورٹی فورسز نے ہمیشہ سے اپنا اہم کردار ادا کیا جس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی انہوں نے ہمیشہ اس جذبے سے دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑی کہ اپنے پاک وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں کی قوم نے ان کے جذبوں اور شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا اور خراج تحسین پیش کیا کسی بھی قوم میں امن و امان کے لئے قربانیاں دینے والوں کا بڑا کردار ہو تا ہے امن و امان کے قیام کے لئے پنجاب پولیس کے کردار کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا گذشتہ دو دہائیوں میں ملک بھر میں جاری دہشت گردی کی لہر میں پنجاب پولیس کے شہدا کا بھی بہت بڑا کردار ہے جنہوں نے امن و امان کے قیام کے لئے قربانیاں دیں اور بڑی بہادری اور جذبے سے وطن پاکستان اور اس میں بسنے والوں کی حفاظت کے لئے لڑتے ہوئے اپنی جانیں تک قربان کر دیں ان کا نام ہمیشہ تاریخ کے سنہری حروف میں جگمگاتا رہے گا

مزید :

رائے -کالم -