دہشتگردی کیخلاف ضرب عضب ابھی جاری ہے

دہشتگردی کیخلاف ضرب عضب ابھی جاری ہے
دہشتگردی کیخلاف ضرب عضب ابھی جاری ہے

  

عضب کا مطلب ہے کاٹنا، تلوار سے کاٹنا، عضب محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی تلوار کا نام بھی تھا۔ ضربِ عضب کاٹ ڈالنے والی ضرب۔ یہ تلوار محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں استعمال کی۔افواج پاکستان نے اپنے ہی ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کیے گئے آپریشن کا نام ضرب عضب رکھا تھا۔

8 جون 2014ء کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل پر 10 دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ کل 31 افراد بشمول 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے اپنے سابقہ سربراہ حکیم اللہ محسود کے قتل کا بدلہ قرار دیا۔ اس کے بعد تحریک طالبان کی طرف سے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی گئی۔ ان دھمکیوں کے جواب میں پاک فوج نے15 جون سے وزیرستان میں ایک آپریشن ضرب عضب کے نام سے شروع کیا۔

پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو نہ صرف تباہ کیا بلکہ ان کے اسلحہ کے بھاری ذخائر بھی قبضے میں لے لئے۔ اس آپریشن کے دوران درجنوں دہشت گرد ہلاک ہوئے اور متعدد گرفتار بھی کئے گئے۔ شمالی وزیرستان میں کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے بعد پاک فوج نے خیبرایجنسی سمیت دیگر علاقوں کا رخ کیا۔ ان علاقوں میں مختلف گروپ طالبان کے نام سے دہشت گردی میں مصروف تھے جبکہ شمالی وزیرستان سے بھاگ کر آنے والوں نے بھی یہاں پناہ لے رکھی تھی۔ پاک فوج اور فضائیہ نے ملک کر ان علاقوں میں بھی کامیاب کارروائیاں کیں۔

ضرب عضب محض ایک فوجی آپریشن نہیں تھا بلکہ اپنے ہی ملک کی آبادیوں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس کا مقصد سویلین آبادی میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کا خاتمہ تھا جو معصوم لوگوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ اس آپریشن سے قبل پاک افواج 2009 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات اور سوات کے علاقے میں آپریشن راہ راست بھی کامیابی سے انجام دے چکی تھی۔ ان دونوں آپریشنز اور آپریشن ضرب عضب میں ایک قدر مشترک تھی وہ یہ کہ آبادی کا متاثرہ علاقوں سے انخلاء اور ان کا دہشت گردوں کے بجائے حکومت پاکستان اور مسلح افواج پر اپنا اعتماد ظاہر کرنا۔

آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ شمالی وزیرستان سے بنوں اور پاکستان کے دیگر شہروں میں ہجرت کرکے آنے والے یہ آئی ڈی پیز دراصل پورے پاکستان کی خاطر بے گھر ہوئے ہیں اور اِن کی مدد کرنا ہر پاکستانی کا فرض تھا۔ حکومت نے آپریشن کے ساتھ ساتھ آئی ڈی پیز کی بحالی کو اپنی پہلی تر جیح قرار دیتے ہوئے ضروری اقدامات کیے اور اب بے گھر افراد اپنے گھروں کو نہ صرف واپس آچکے ہیں بلکہ علاقہ میں امن و سکون اور خوشحالی بھی واپس آچکے ہیں۔ دہشت گردی کا مکمل طورپر صفایا ہو چکا ہے۔

ضرب عضب کے تحت پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف زبردست کارروائی ہورہی تھی اور دہشت گرد کھلی سرحد کا فائدہ اٹھا کر افغانستان فرار ہو رہے تھے۔ پاکستان نے افغانستان کو کارروائی سے پہلے اطلاع دی تھی کہ فوج دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں ایک بڑی کارروائی کاآغاز کررہی ہے۔ اس میں تعاون کی صورت میں دہشت گردوں کا صفایا ہوسکتا ہے اور دونوں ملک آئندہ زیادہ پر امن طریقے سے تعلقات جاری رکھ سکیں گے لہذا افغانستان ان دہشت گردوں کے افغانستان فرار ہونے کے تمام راستے بند کردے لیکن افسوس کی بات ہے کہ افغانستان نے تعاون نہیں کیا۔ اپنی سرحدوں کو بند نہیں کیا اور دہشت گردوں کو فرار ہونے کاموقع فراہم کیا۔ ان دہشت گردوں نے افغانستان میں اپنے مضبوط اڈے بنائے اور امریکہ و بھارت کی شہ پر افغان حکومت اور فوج پر حملے شروع کر دیے۔ یہاں خاص طورپر بھارت کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا اور اس نے ان حملوں کا سارا الزام پاکستان پر ڈال کر افغان حکومت کو باور کرایا کہ یہ پاکستان کے بھیجے ہوئے دہشت گرد ہیں۔ اس طرح پاک افغان تعلقات میں بھارتی رخنہ اندازی کا شکار ہوگئے۔ اگر افغانستان تعاون کرتا اور پاکستان کی مدد کو آتا اور اپنی سرحدوں کو بند کردیتا تو ممکن تھا کہ ان کی مشکلات میں کمی آتی اور افغانستان زیادہ پر امن ہوتا بہ نسبت آج کل کے حالات کے۔

اگر افغانستان ملا فضل اللہ جیسے دہشت گردوں کو،ا ن کے ساتھیوں کو پناہ دے گا اوران کو کارروائی سے نہیں روکے گا تو دہشت گردی میں اضافہ ہی ہوگا نا۔ گو کہ ملا فضل اللہ مارا گیا مگر ابھی بہت سے دہشت گرد افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ہماری حکومت کی ہمیشہ افغانستان سے یہی شکایت رہی ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کررہا ہے۔ افغانستان کی جانب سے آنے والے دہشت گرد فوجی چوکیوں اور مقامی آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ افغانستان کی حکومت ان کو روکنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب انتہائی کامیاب رہا۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں حکومت کی رٹ موجود نہ ہو۔ پاکستانی مسلح افواج کا سامنا کسی منظم فوج سے تو تھا نہیں اس لیے جنگ کے لیے نئی حکمت عملی وضع کی گئی جس میں دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کی تلاش، انہیں تباہ کرنا، علاقے سے جنگجوؤں کا خاتمہ، اور علاقے پر حکومتی عملداری قائم کرنا شامل تھا۔ فوجی آپریشن کے دوران عارضی نقل مکانی کرنے والوں کی دیکھ بھال اور معاونت کرنے کے ساتھ ہر سطح پر مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون قائم کرنے، اور تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیر نو کے علاوہ تعلیمی اداروں، صحت کے مراکز، ہسپتالوں، سڑکوں اور دیگر انفرااسٹرکچر کا قیام بھی کیا جا رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -