ہمارے شاہ صاحب

ہمارے شاہ صاحب
ہمارے شاہ صاحب

  

تصوف یاعام فہم الفاظ میں میں روحانیت کہہ لیں، اس سے میری دلچسپی سکول، کالج کے زمانے سے شروع ہوئی۔ تصوف کے بارے میں کتابیں پڑھنا شروع کیں تو اندازہ ہوا کہ درویشوں کی بہت سی اقسام ہیں، مگر ایک بڑی تقسیم یہ ہے کہ کچھ درویش مال ووولت سے دور رہنا پسند کرتے ہیں جبکہ بعض درویش دنیا میں رہ کر دل کو دین اور روحانیت کی طرف مرتکز رکھتے ہیں۔ ان کے اردگرد دنیاوی آسائشیں اور سہولتیں موجود ہوتی ہیں، مگر دنیا کی کشش دل میں سرائیت نہیں کرتی۔ملتان کے حضرت بہاؤالدین زکریا ایسے ہی ایک بہت مشہور بزرگ ہیں۔ اکثر کتابوں میں صاحب عرفان بزرگوں کے حیران کن کرشموں اور کرامات کے تذکرے پڑھے۔ قدیم تصانیف میں صوفیوں کے مخصوص حلیہ، گدڑی وغیرہ کا تذکرہ پڑھا۔ ایسے بھی جو دنیا سے کٹ کر جنگلوں، پہاڑوں میں چلے گئے، عجب مجاہدے کرتے رہے۔ایسے بھی جنہوں نے بادشاہی چھوڑی اور ان کے شیوخ نے ہاتھوں میں کشکول پکڑا دیا۔ان کی ”میں“ ختم کر نے کے لئے گدائی کی آزمائش ڈال دی۔

بہت سوں کے تذکرے پڑھے جنہوں نے تجرد اختیار کیا۔یہ واقعہ بھی پڑھا کہ کسی نے شادی کی، اولاد ہوئی اور کہیں عبادت میں مشغول تھے،بچہ کھیلتا ہوا قریب آیا، انہوں نے محبت سے اسے دیکھا تو پھر سزا کے طور پر اولاد چھین لی گئی، وغیرہ وغیرہ۔ بات عجیب لگی تھی۔معلوم نہیں یہ قصے، کہانیاں، واقعات کس حد تک سچ اور درست ہیں، پرانی تصانیف میں کس حد تک تحریف ہوئی اور کتنا حقیقی مواد ہم تک پہنچا ہے؟ان سب نے تصوف اور روحانیت کو بہت مشکل، کٹھن، غیر انسانی سا سفر بنا کر پیش کیا۔ایسا راستہ جس پر صرف فقیر، ملنگ، مردم بیزار لوگ ہی چل سکتے ہیں۔ کسی نارمل،

ماڈرن، صحت مند ذہن ودماغ کے شخص کا اس راہ پر چلنا ممکن نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ تصوف اور روحانیت سے متعلق میرے ان تصورات اور امیج کوجس شخص نے مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا، ان کا نام سرفراز اے شاہ ہے۔

قبلہ سرفراز شاہ صاحب سے میری پہلی ملاقات 1996 کے ابتدائی مہینوں میں ہوئی۔تب سے آج تک، چوبیس برسوں میں بہت سی ملاقاتیں ہوئیں، گھنٹوں پر محیط بیسیوں نشستیں، تین چار بار ان کے تفصیلی انٹرویوز کئے، ان کے درجنوں لیکچرز میں شریک رہا۔بہت قریب سے، بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔ تصوف سے متعلق تمام کچے پکے تصورات بدل گئے۔ پتہ چلا کہ تصوف غیر انسانی شاہراہ کا نام نہیں۔ یہ کرشمے، کرامات کا کھیل بھی نہیں۔تصوف دراصل تذکیہ نفس ہے۔نفسی کمزوریوں پر قابو پانے اور عزم وایثار کا سبق سیکھنے کا نام ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک تربیت گاہ ہے۔پری نرسری اکیڈمی میں کچھ عرصہ تربیت کے بعد بچے اچھے سکول میں داخلہ لینے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح تصوف کی تربیت کا واحد مقصد طالب علم کو شریعت کی راہ پر چلانے کے قابل بنانا ہے۔ تصوف یا طریقت کسی بھی صورت میں شریعت سے بالاتر یا اس کے متوازی نہیں۔وہ انجان، سادہ یا دروغ گو ہیں جو تصوف کو متوازی دین کہتے ہیں۔ انہوں نے کھلی آنکھوں اور غیر متعصب ذہن سے تصوف کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔تصوف کے مطالعہ کے نام پر وہ مکھی کی طرح صرف بیٹھنے کے لئے گندی جگہیں ہی ڈھونڈتے رہے۔ ایسا کوئی کمزور جملہ، کوئی غیر حقیقی واقعہ، مبہم حکایت،ایسا کچھ بھی جوارباب تصوف کو دین سے خارج ثابت کر سکے۔تصوف بہرحال اس کانام نہیں۔

یہ ہر حال میں وہ پہلا قدم، وہ چھوٹا سٹیپ ہے جس پر چلنے کے بعد اصل جگہ یعنی شریعت کے میدان میں داخل ہونا ہے۔ اصل چیز شریعت کے مطابق چلتے ہوئے سفرِزندگی تمام کرنا ہے۔ تصوف مقصود ہے نہ منزل۔ یہ آغاز سے پہلے کی ٹریننگ کا نام ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر کسی کو اس کی ضرورت پڑے۔ضروری نہیں کہ ہر کوئی اسی تربیت کے بعد شریعت کے میدان میں داخل ہو۔ جو چاہتا ہے وہ ڈائریکٹ ادھر قدم رکھ لے۔یہ تصوف یا ارباب تصوف کا مسئلہ ہی نہیں۔ان کا مسئلہ صرف کمزور طلبہ ہیں۔ سرفراز شاہ صاحب کا یہ احسان ہے کہ انہوں نے تصوف پر چھائی گرد، پراسراریت کا پردہ چاک کر کے حقیقت سے روشناس کرا دیا۔ جو کشف، تصرف، روحانیت، موکلات وغیرہ کی پراسرار دنیا میں جھانکنے، کچھ کمال حاصل کرنے، طاقتور بننے کے خواہش مند تھے، ان سب کو یقینی طور پر دھچکا لگا۔ وہ سوچنے لگے کہ کچھ حاصل ہوجانے کے بعد اپنی قوت استعمال ہی نہیں کرنی، کشف وکرامات سے دور رہنا اور شریعت کی پابندی کرتے ہوئے عاجزی اور انکسار کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو پھر اتنی ریاضت کا فائدہ کیا؟جو بچپن ہی سے اسم اعظم میں دلچسپی رکھتے تھے اور ایسے وظائف میں جوموکلات کو تابع کردیں، جوحد نظر وسیع کر دیں، ان سب کے لئے یہ شاکنگ تھا کہ تصوف کی دنیا میں ایسے کمالات کی مرے ہوئے مچھر برابر بھی اہمیت یا حیثیت نہیں۔

یہاں آدمی کمال حاصل کرنے نہیں آتا، وہ صرف اپنے آپ پر قابو پاکر بہتر مسلمان، بہتر انسان بننے آتا ہے۔ تصوف کا میں باقاعدہ طالب علم نہیں، عملی زندگی کی مصروفیت نے اتنا مہلت نہیں دی کہ سالک بن پاتا۔ شاہ صاحب جیسے بزرگ سے تعلق بھی دنیاوی معاملات کے لئے دعا کرانے تک محدود رہا۔ اس کے باوجود جس طرح عطار کے پاس جانے والے کا واسطہ خوشبو سے پڑ ہی جاتا ہے،اسی طرح بزرگوں کے پاس جانے والے بھی شعوری، لاشعوری طور پر کچھ نہ کچھ سیکھ ہی لیتے ہیں۔ شاہ صاحب کے لیکچرز، کتابوں اور گفتگو سے پہلا سبق یہ سیکھا کہ جو کوئی بھی روحانیت کی طرف آنا چاہتا ہے، وہ سیرت رسول کو فالو کرے۔ اپنی زندگی کو بتدریج یوں ڈھالے کہ ہر لمحہ یہی خیال آئے کہ اس وقت عالی جناب اگر ہوتے تو کیا کرتے؟خوشی، غم، دکھ، مسرت، گھر، باہر، دوستی،جنگ غرض زندگی کے ہر فیز میں آپ کی زندگی کی پیروی کی جائے۔ یہی تصوف کا بنیادی اصول ہے۔ دوسرا بنیادی سبق یہ سیکھا کہ دعا کرنی چاہیے، دعاؤں کی بہت اہمیت ہے، مگر پہلے اپنے بس میں جو ہو، وہ کر لیا جائے۔ آدمی جو کچھ عمل کے میدان میں کر سکتا ہے، وہ محنت، کوشش کر لے اور پھر اپنے رب سے بہترین نتیجے کی دعا کرے، جو نیتجہ آئے، اس پر پھر راضی ہوجائے۔ یہ بات ظاہر ہے کہنا یا لکھنا جس قدر آسان ہے، عمل اتنا ہی مشکل۔ تصوف مگر یہی تربیت دیتا ہے، بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے جانے کی، راضی بہ رضا رہنے کی۔

تسلیم ورضا کی وہ کیفیت جس میں آدمی کسی خاص چیز کے حصول کی دعا ہی نہیں مانگتا، وہ اللہ سے صرف بہترین مانگتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ میرا رب جواپنے بندے سے اس کی ماں سے کئی گنا زیادہ محبت اور شفقت کرنے والا ہے، وہ اس کے لئے بہترین ہی کرے گا۔تیسرا نکتہ یہ سمجھ آیا کہ عبادت کی بڑی اہمیت ہے، یہ پارسا کر دیتی ہے، اصل نیکی مگر ایثار ہے۔ بدنی، مالی ایثار۔ ہمت ہو تو اپنے تمام فرائض پورے کئے جائیں اور اپنے حقوق سے دستبرداری اختیار کی جائے۔ ایسا نہیں تو فرائض پورے ہوں اور اپنے حق میں سے جتنا ہمت ہو،وہ ایثار کر دیا جائے۔کشادہ دست رہا جائے، دوسروں کو دینے کے لئے ہمیشہ تیار، مگر لینے کے لئے صرف اوپر، اپنے رب کی طرف ہی نظر رکھی جائے۔ ایک بہت اہم بات یہ نوٹ کی کہ صاحب روحانیت اگر چاہے تو دنیا میں رہ کر، دنیاوی سہولتوں سے معمور زندگی میں بھی دنیا سے بے نیاز رہ سکتا ہے۔یہ بھی کہ اصل بادشاہی دل کی ہوتی ہے۔ جو دل کا بادشاہ ہے، اس کے لئے ہر شے بے معنی ہوجاتی ہے۔

سرفراز شاہ صاحب پچھلے کئی برسوں سے روحانیت، اس کی مختلف اصطلاحات کی تعبیر وتشریح پر لیکچر دیتے رہے ہیں، ان گفتگوؤں پر مشتمل ان کی سات کتابیں شائع ہوچکی ہیں، کہے فقیر، فقیر رنگ، فقیر نگری، لوح فقیر، ارڑنگ فقیر،نوائے فقیر،انداز فقیر۔جہانگیر بکس نے تمام کتابیں شائع کی ہیں۔ قلندر ڈاٹ او آرجی پر ان کے یہ تمام لیکچر موجود ہیں، ڈاؤن لوڈ کئے جا سکتے ہیں، یو ٹیوب پر لیکچرز کے کلپس (https://www.youtube.com/ watch?v=xUsPGJvog -c&feature=youtu.be)بھی موجود ہیں۔ تصوف کی جدید تاریخ میں اتنے آسان اور عام فہم انداز میں کسی نے ان موضوعات کو نہیں بیان کیا۔ شاہ صاحب پچھلے چونتیس برسوں سے وہ ہر ہفتے دو تین دن خلق خدا کے لئے کئی گھنٹے دعا کی غرض سے دستیاب رہے۔ اللہ انہیں زندگی، صحت دے، یہ فیض جاری رہنا چاہیے۔ آج کل وہ علیل ہیں. عید کے دن ہلکا ہارٹ اٹیک ہوا، تب سے ہسپتال میں ہیں۔طبیعت پہلے سے بہتر ہے، مگر ریکوری کچھ سلو ہے۔ اس اندیشے سے کہ کہیں عیادت کرنے والوں کا رش شاہ صاحب کو پریشان نہ کرے، ان کے قریبی لوگ تفصیل بھی پبلک نہیں کر پاتے۔ اگلے روزشاہ صاحب کے ایک قریبی ساتھی کا میسیج دیکھا جو دل میں پیوست ہوا، انہوں نے لکھا،”شاہ صاحب تمام زندگی دوسروں کے لئے دعا کرتے رہے ہیں، آج یہ ہمارا فرض ہے کہ ان کی صحت اور بحالی کے لئے دعا کریں۔“یہ بات سو فی صد درست ہے۔ ہم نے شاہ صاحب کو سراپا خیر، سراپا دعا ہی دیکھا۔ خرابی صحت کے باوجود بھی دعا کے لئے دستیاب دیکھا۔محترم قارئین، قبلہ شاہ صاحب کے لئے دعا کیجئے گا۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائے،ایسے بزرگ میرے آپ جیسے لوگوں، پورے سماج کے لئے سایہ دار درخت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ (بشکریہ92نیوز لاہور)

مزید :

رائے -کالم -