بارہ لاکھ مریض، جولائی میں کورونا عروج پر، چاہتے ہیں لوگ محفوظ رہیں، روزگار کا پہیہ چلتا رہے، اسد عمر، وباء سے مزید 67افراد جاں بحق، 6399نئے کیسز سامنے آگئے

        بارہ لاکھ مریض، جولائی میں کورونا عروج پر، چاہتے ہیں لوگ محفوظ رہیں، ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مراعات اسد عمر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہاگراحتیاطی تدابیر ختیار نہ کی گئیں تو جولائی کے آخر تک ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 10 سے 12 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے،ہم جتنی حفاظتی تدابیر کو اپنائینگے،ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کریں گے اتنا ہی کورونا کی وبا کا پھیلاؤ کم ہوگا، عوام ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ قائم کریں، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر لوگوں سے روزگار بھی چھن سکتا ہے،زیادہ کیسز والے علاقوں میں بندشیں لگائی جائیں گی،تیزی سے پھیلنے والی وباء کو روکنے کیلئے انتظامی کارروائی کرکے ٹارگٹڈ یا اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا جائیگا،ہم چاہتے ہیں لوگ محفوظ رہیں، روزگار کا پہیہ بھی چلتا رہے اور بھوک و افلاس کی طرف نہ جائیں،جون کے آخر تک انتہائی نگہداشت یونٹ کے 1000 بستر اور جولائی کے آخر میں 2150 بستروں کا اضافہ کیا جائے گایہ بستر وفاق کی جانب سے صوبوں کو فراہم کیے جائیں گے،اس وقت ملک میں یومیہ 45 سے 50 ہزار ٹیسٹس کی صلاحیت موجود ہے اور آئندہ 3 ہفتوں میں اس تعداد کو ڈیڑھ لاکھ تک بڑھایا جائے گا۔اتوار کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم نے اپریل میں جب بندشوں میں کمی کی تھی اور اس کے بعد مئی میں بھی تو وہ ہر مرتبہ یہی تاکید کرتے تھے کہ ہم جتنی حفاظتی تدا بیر کو اپنائیں گے، ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کریں گے اتنا ہی کورونا کی وبا کا پھیلاؤ کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) اور قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) نے بھی یہی کہا تھا کہ اگر ہم ان ہدایات پر عمل نہیں کریں گے تو وبا کے پھیلاؤ میں تیزی میں آسکتی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ بدقسمتی سے پچھلے چند ہفتوں میں ایسا دیکھنے میں بھی آیا اس وقت جو صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ جون کے وسط میں ملک میں کورونا وائرس کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ مصدقہ کیسز موجود ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 26 فروری کو ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور جون کے وسط میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کیسز موجود ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ جس طریقے سے صورتحال جارہی ہے اگر اس میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی تو ہمارے ماہرین کے مطابق جون کے آخر تک اس تعداد میں 2 گنا اضافہ ہوچکا ہوگا یعنی یہ تقریباً 3 لاکھ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسے حالات ہیں جولائی کے آخر تک مصدقہ کیسز کی تعداد 10 سے 12 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بارہا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز(ایس او پیز) کا ذکر ہوتا ہے، جس میں 2 بنیادی چیزیں ہیں کہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ قائم کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا میں جو تحقیق ہوئی ہے اس سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ماسک وبا کے پھیلاؤ کی رفتار میں کمی کا موثر طریقہ ہے اور کچھ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر سب لوگ ماسک پہنیں تو وبا کی رفتار میں 50 فیصد کمی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے مئی کے مہینے میں این سی او سی اور وزارت صحت سے جاری کردہ ہدایات میں عوامی مقامات، بازاروں، فیکٹریوں میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔اسد عمر نے کہا کہ لوگوں نے ماسک پہنے ہوتے ہیں تاہم کئی افراد ایسے بھی ہیں جو ماسک نہیں پہنتے، اس وبا سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ ماسک پہننا ہے، اگر اپنا اور اپنے خاندان کا دفاع کرنا چاہتے ہیں تو ماسک پہنیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سماجی فاصلہ قائم کریں اور اس حوالے سے حکومت ہدایات جاری کرچکی ہے اور گزشتہ 10 روز سے انتظامی کارروائی شروع کی گئی ہے، دکانیں بند کی گئی ہیں، ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے چالان کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ عوام کو پریشان کرنے کے لیے نہیں ہے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی صحت کا خیال رکھا جائے اگر نہیں کریں گے تو لوگوں سے روزگار چھننا شروع ہوجائیں گے۔اسد عمر نے کہا کہ جو ہم کہتے تھے آہستہ آہستہ دنیا بھی اسی نتیجے پر پہنچی ہے کہ لاک ڈاؤن نہیں کیا جاسکتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ جہاں زیادہ بیماری ہوگی وہاں بندشیں لگائی جائیں گے جسے ہاٹ اسپاٹس بھی کہا جاتا ہے، ٹیکنالوجی کی بنیاد پر نظام بنایا گیا ہے جس کے ذریعے صوبوں کی مدد کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں وبا کا پھیلاؤ اس لیے بڑھا ہے کیونکہ ہم حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں کررہے ہیں اس لیے انتظامی کارروائی میں اضافہ کیا جارہا ہے تاکہ لوگ محفوظ رہیں اور روزگار کا پہیہ بھی چلتا رہے اور وہ بھوک و افلاس کی طرف نہ جائیں۔اسد عمر نے کہا کہ اسلام آباد میں کارروائی کی گئی ہے، وزیراعظم گزشتہ روز لاہور گئے تھے اور پنجاب میں سختی کا فیصلہ کیا گیا اور پنجاب حکومت اعلان کرے گی کہ جن علاقوں میں وبا کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھتا نظر آرہا ہے ان علاقوں میں انتظامی کارروائی کرکے ٹارگٹڈ یا اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا جائیگا۔وزیر منصوبہ بندی نے ملک میں 1200 چھوٹے مقامات پر یہ بندشیں نافذ تھیں اور اب پنجاب میں لاہور سے بندشوں کا آغاز کیا جائے گا اور پیر سے پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی زیادہ پھیلاؤ والے مقامات کی نشاندہی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وبا نے تو پھیلنا ہے لیکن ہمیں اس کی رفتار میں کمی کرنی ہے تاکہ ہمارا صحت کا نظام مفلوج نہ ہو اور بڑے شہروں کے ہسپتال دباؤ کا شکار نہ ہوں جو دباؤ کا شکار ہوئے بھی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جون کے آخر تک انتہائی نگہداشت یونٹ کے 1000 بستر اور جولائی کے آخر میں 2150 بستروں کا اضافہ کیا جائے گا، یہ بستر وفاق کی جانب سے صوبوں کو فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں 500، خیبرپختونخوا 400، پنجاب 500، بلوچستان 200، گلگت بلتستان 45، آزاد کشمیر 60 اور اسلام آباد میں 450 بستروں کا اضافہ کیا جائے گا۔اسد عمر نے کہا کہ اس وقت ملک میں یومیہ 45 سے 50 ہزار ٹیسٹس کی صلاحیت موجود ہے اور آئندہ 3 ہفتوں میں اس تعداد کو ڈیڑھ لاکھ تک بڑھایا جائے گا۔دوسر طرف وفاقی دار الحکومت میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے سمارٹ لاک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے۔جی نائن کے سب سیکٹر جی نائن ٹو اور تھری سمیت کراچی کمپنی میں سمارٹ لاک ڈاون کا دوسرے روز بھی شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔پولیس اور رینجرز کے دستے سیکٹر جی نائن کے چاروں اطراف تعینات ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ہیلتھ کی ٹیمیں مشتبہ مریضوں کے نمونے گھر آ کر لے رہی ییں۔علاقے کا لاک ڈاون تاحکم ثانی کیا گیا ہے۔وبا کا پھیلاو کم ہوتے ہی سیکٹر جی نائن کا لاک ڈاون ختم کر دیا جائے گا۔200 سے زائد کورونا کیسز کے ساتھ جی نائن اسلام آباد کا سب سے زیادہ متاثرہ سیکٹر ہے۔ اس سے قبل بہارہ کہو۔شہزاد ٹاون۔آئی ٹین اور ایچ نائن میں بھی سمارٹ لاک ڈاون کے ذریعے وبا کو کنٹرول کیا گیا

اسد عمر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)اتوار کوملک بھر میں کورونا سے مزید 67 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 6399 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے جس سے ملک میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 2663 اور مریضوں کی تعداد 142263 تک پہنچ گئی ہے۔اب تک پنجاب میں کورونا سے 969 اور سندھ میں 831 افراد انتقال کرچکے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 675 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 85، اسلام آباد میں 75، گلگت بلتستان میں 16 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اتوار کو اب تک ملک بھر سے کورونا کے مزید 6399 کیسز اور 67 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جن میں پنجاب سے 2514 کیسز اور 31 اموات، سندھ سے 2287 کیسز اور 15 اموات جب کہ خیبرپختوا سے 14 ہلاکتیں اور 563 کیسز اور اسلام آباد سے 771 کیسز اور 4 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان سے 149 کیسز اور 2 ہلاکتیں، آزاد کشمیر سے 30 کیسز اور ایک ہلاکت جب کہ گلگت بلتستان سے 85 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔پنجاب سے کورونا کے مزید 2514کیسز اور 31 اموات سامنے ا?ئی ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق صوبے میں کورونا کے مریضوں کی کل تعداد 52602 اور اموات 969 ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں اب تک کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 17560 ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں کورونا کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11197 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 2287 نئے کیسز سامنے آئے۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ اب تک سندھ میں کل 2 لاکھ 98 ہزار 332 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 53 ہزار 805 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ میں کورونا کے مزید 15 مریض انتقال کرگئے جس کے بعد صوبے میں کورونا سے اموات کی تعداد 831 ہو گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس وقت سندھ میں 27 ہزار 368 مریض زیر علاج ہیں، جس میں سے 25 ہزار 483 مریض گھروں پر، 96 آئسولیشن سینٹرز میں اور 1789 مریض اسپتالوں میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کورونا کے 573 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جس میں سے 80 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کیمزید 1219 مریض صحت یاب ہو گئے ہیں جس کے بعد صوبے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 25 ہزار 606 ہوگئی ہے۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ کراچی میں آج کورونا کے 1499 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں سے ضلع وسطی میں 242، شرقی میں 369، کورنگی میں 185کیسز، ملیر 122، جنوبی میں 418 اور غربی میں 163 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔وفاقی دارالحکومت سے اتوار کو کورونا کے مزید 771 کیسز اور 4 اموات سامنے ا?ئی ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 7934 ہوگئی ہے جب کہ انتقال کرنے والے افراد کی تعداد 75 ہو چکی ہے۔اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 1671 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آٓزاد کشمیر سے کورونا کے مزید 30 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کی گئی ہے۔اتوار کو گلگت بلتستان میں مزید 85 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 1129 ہو گئی ہے۔گلگت میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 16 ہے جب کہ اب تک 716 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔اتوار کو خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 14 افراد جان کی بازی ہارگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 675 تک جاپہنچی ہے۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق پشاور میں 5، نوشہرہ اور مالاکنڈ میں 2، 2 جب کہ اپر دیر، خیبر، بٹگرام، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔اتوار کو بلوچستان میں کورونا سے مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 85 ہوگئی۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 149 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 8177 ہوگئی۔

پاکستان ہلاکتیں

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 78 لاکھ 72 ہزار 619 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 4 لاکھ 32 ہزار 475 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 33 لاکھ 97 ہزار 681 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 54 ہزار 106 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 40 لاکھ 42 ہزار 463 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 17 ہزار 527 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 21 لاکھ 42 ہزار 224 ہو چکی ہے۔امریکا کے اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں 11 لاکھ 70 ہزار 591 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 16 ہزار 744 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 8 لاکھ 54 ہزار 106 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ممالک کی فہرست میں برازیل دوسرے نمبر پر ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 8 لاکھ 50 ہزار 796 تک جا پہنچی ہے جبکہ یہ وائرس 42 ہزار 791 زندگیاں نگل چکا ہے۔کورونا وائرس سے روس میں کل اموات 6 ہزار 829 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 20 ہزار 129 ہو چکی ہے۔بھارت میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اس فہرست میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔بھارت میں کورونا وائرس سے 9 ہزار 199 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 21 ہزار 626 ہو گئی۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 41 ہزار 662 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 2 لاکھ 94 ہزار 375 ہوچکی ہے۔اسپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 90 ہزار 685 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جب کہ اس وبا سے اموات 27 ہزار 136 ہو چکی ہیں۔اٹلی میں کورونا وائرس کی وبا سے مجموعی اموات 34 ہزار 301 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 2 لاکھ 36 ہزار 651 رپورٹ ہوئے ہیں۔پیرو میں کورونا وائرس کے باعث 6ہزار 498 ہلاکتیں اب تک ہو چکی ہیں جبکہ یہاں کورونا کیسز 2 لاکھ 25ہزار 132 رپورٹ ہوئے ہیں۔جرمنی میں کورونا سے کل اموات کی تعداد 8 ہزار 867 ہو گئی جبکہ کورونا کے کیسز 1 لاکھ 87 ہزار 423 ہو گئے۔ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 8 ہزار 730 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 84 ہزار 955 ہو گئے۔ترکی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 4 ہزار 792 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 76 ہزار 677 ہو گئے۔فرانس میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 398 ہوگئیں جبکہ کورونا کیسز 1 لاکھ 56 ہزار 813 ہو گئے۔سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک کل اموات 932 رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 23 ہزار 308 تک جا پہنچی ہے۔ایران میں کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کے بعد حکومت نے دوبارہ لاک ڈاؤن کا اشارہ دے دیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایران میں 2 ماہ بعد ایک ہی دن میں کورونا وائرس سے 100 سے زائد ہلاکتیں اور تقریباً ڈھائی ہزار نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ترجمان ایرانی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران میں کورونا سے 107 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد ایران میں کورونا سے ہلاکتیں 8 ہزار 837 ہوگئیں۔ترجمان کے مطابق کورونا وائرس کے مزید 2 ہزار 472 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ماہرین نے ایران میں ایک بار پھر کورونا کے بڑھتے کیسز کے باعث خبردار کیا ہے کہ ایران کو کورونا کی دوسری شدید لہر کا سامنا ہوسکتا ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث پابندیوں میں دوبارہ مزید سختی کی جاسکتی ہے، اس لیے ایرانی عوام کورونا کو سنجیدہ لیں اور احتیاط کریں۔وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے علاقائی صدروں کے ساتھ ہفتہ وارمیٹنگ کی۔ جس میں انھوں نے بتایاکہ21 جون کو یورپی یونین کے تمام ممالک کے ساتھ اپنی سرحدیں دوبارہ کھول دے گا۔پرتگال کے ساتھ سرحد یکم جولائی تک بند رہے گی۔اسپین کے بادشاہ فیلیپ VI اور پرتگال کے وزیر اعظم انتونیو کوسٹا اس دن اسپین اور پرتگال سرحد کو دوبارہ کھولنے کے لئے ایک تقریب کا انعقاد کریں گے۔اسپین میں 14 مارچ سے جاری لاک ڈاون 21 جون کو ختم ہوجائے گی، شہری ملک بھر میں ملک آزادانہ طور پر سفر کرسکیں گے۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -