پیپلزپارٹی نے بجٹ کو پڑھے بغیر تنقید کی،فردوس شمیم نقوی

پیپلزپارٹی نے بجٹ کو پڑھے بغیر تنقید کی،فردوس شمیم نقوی

  

کراچی(این این آئی)اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی نے بجٹ کو بغیر پڑھے تنقید کی ہے، پچھلے سال وفاقی حکومت نے قرضوں کی مد میں 1500ارب ادا کئے اس سال 2700 ارب روپے قرضوں کی صورت میں واپس کرنے پڑے ہیں۔ صوبوں کو بجٹ دینے کے بعد 2000 ارب وفاقی حکومت کے پاس بچتے ہیں۔سٹیٹ بینک سے ایک روپے کا قرضہ نہیں لیا گیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوارکو پارٹی رہنما حلیم عادل شیخ کے ہمراہ اقراء یونیورسٹی کیمپس آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کروناکاونا روتے ہیں اور میں وزیراعلی کو روتاہوں۔ سردار تیغو خان کے خلاف 40ایف آئی آر ہے اغوا برائے تاوان کے کیسوں میں ملوث رہاہے۔ بجٹ حوالے سے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا سندھ حکومت جب بھی بات کرتی ہے جھوٹ کہتی ہے کہتے ہیں کہ انھیں جائز حق نہیں ملا، تفرقہ بازی کرنا اب سندھ حکومت کی عادت بن چکی ہے دنیا بھر کی معیشت کرونا کی وجہ سے سکڑ گئی ہے معیشت کی باتیں کرتے ہوئے لاک ڈاؤن لگانے کا بھی کہتے ہیں۔ سندھ حکومت جہالت کی باتیں کرنا اب بند کردیں۔ آئی جی سندھ پیپلزپارٹی کا آئی جی بناہوا ہے اس کو سندھ پولیس کا آئی جی ہوناچاہئے۔ایس ایس پی رضوان نے سردار تیغوخان کے خلاف رپورٹ دے چکاہے اس بند کو امن ایوارڈ دیاجارہاہے۔ آئی جی سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ امن ایوارڈ واپس لیاجائے۔سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ معاملے کاازخود نوٹس لیں تحقیقات کرائی جائے۔

فردوس شمیم نقوی

مزید :

صفحہ آخر -