کراچی میں کیٹررز اور ڈیکو ریٹرز کا خالی دیگیں رکھ کر دھرنا، احتجاج، ہمیں بھی جینے کا حق دو کے نعرے

کراچی میں کیٹررز اور ڈیکو ریٹرز کا خالی دیگیں رکھ کر دھرنا، احتجاج، ہمیں بھی ...

  

کراچی (این این آئی)لاک ڈاؤن کے باعث کراچی سمیت ملک بھر میں کیٹرنگ سروس اور ڈیکوریشن کا کاروبا سے وابستہ لاکھوں افراد کو بے روزگاری کا سامنا ہے۔ کیٹرنگ اور ڈیکوریشن کے کاروبار سے وابستہ افرادنے کہا ہے کہ سندھ میں جب صنعتیں، فیکٹریاں، بازار اور شاپنگ سینٹرز حفاظتی تدابیر کے ساتھ کھولے جاسکتے ہیں تو لاکھوں افراد کا روزگار کیوں بند رکھا جارہا ہے۔ آل کراچی کیٹررز اینڈ ڈیکوریٹرز ایسوسی ایشن کے تحت گلشن حدید کے علاقے میں انوکھے انداز میں احتجاج کیا گیا۔ کیٹرنگ سروس اور ڈیکوریشن کے کام سے وابستہ افراد، شادیوں میں ویٹرز کا کام کرنے والوں، فوٹو گرافرز، الیکٹریشن، کارپینٹرز کے نمائندوں نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر سڑک پر درجنوں خالی دیگیں رکھ کر دھرنا دیا گیا اور سڑک بلاک کرکے روزگار کی بحالی کے نعرے بھی لگائے گئے۔ مظاہرین نے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کیا شادیوں میں ویٹر کی خدمات انجام دینے والی لڑکیوں اور خواتین کی بڑی تعداد بھی مظاہرے میں شریک تھی جنہوں نے کہا کہ مزدور اور محنت کش طبقے کے لیے معاشی لاک ڈاؤن ایک بھیانک خواب بن چکا ہے شادی ہالز بند ہونے کی وجہ سے جہاں کیٹرنگ کا کام بری طرح متاثر ہورہا ہے وہیں ویٹر کی خدمات انجام دے کر یومیہ اجرت کمانے والا طبقہ کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ شادی کی تقاریب اور ہالز اور بینکوئٹ پر پابندی کی وجہ سے کیٹرنگ سروس اور ڈیکوریشن ہی نہیں بلکہ اس سے جڑے دیگر 70سے 80شعبہ جات بھی متاثر ہورہے ہیں اور بے روزگاری کا جن قابو سے باہر ہوچکا ہے۔ شادیوں پر پابندی کے معاشی اثرات سبزی منڈی، غلہ منڈی، مویشی منڈیوں تک مرتب ہورہے ہیں اور اشیاء کی کھپت کم ہونے سے معاشی سرگرمیاں سست روی کاشکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی ہالز بند ہونے سے دیہاڑی دار طبقہ بری طرح متاثر ہورہا ہے، کیٹرنگ سروس اور ڈیکوریشن کے ساتھ کمرشل ٹرانسپورٹ کاکام کرنے والے باورچیوں ان کے ہیلپرز نان بائیوں تک کاروزگار خطرے میں پڑ چکا ہے اس صورتحال کا نتیجہ بے روزگاری، گداگری، چوری ڈکیتی اور دیگر جرائم و سماجی برائیوں کی شکل میں ظاہر ہوں گے۔ آل کراچی کیٹررز اینڈ ڈیکوریٹرز ایسوسی ایشن نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ شادی ہالز پر عائد پابندی کا فی الفور خاتمہ کیا جائے تاکہ پکوان سینٹرز اور کیٹرنگ کا کاروبار کرنے والوں کا روزگار بحال ہوسکے بصورت دیگر متعلقہ شعبہ جات کے ساتھ مل کر ایک مربوط احتجاج کی کال دی جائیگی اور وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا جائے گا اور بجلی گیس اور دیگر محصولات کی ادائیگی روک دی جائیگی اور تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

کراچی احتجاج

مزید :

صفحہ آخر -