پنجاب پولیس کے مزید 108 اہلکاروں میں کورونا کی تصدیق

پنجاب پولیس کے مزید 108 اہلکاروں میں کورونا کی تصدیق

  

فرنٹ لائن پر کام کرنیوالی فورس پنجاب پولیس کورونا وبا ء سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے مگر اس کے باوجود اپنے فرائض سے غافل نہیں اس وباء کی زد میں آنے سے فورس کے کئی نوجوان شہید ہو گئے ہیں جبکہ کئی افسر اس کا شکار ہونے سے قرنطینہ میں چلے گئے ہیں جمعرات کے روز سابق ایڈیشنل آئی جی میجر ریٹائرڈ مشتاق احمد بھی کورونا کے باعث انتقال کر گئے ہیں،ڈی آئی جی،ایس ایس پی عہدے کے کئی افسر وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنے گھروں میں آئیسو لیٹ میں چلے گئے ہیں صرف دو روز میں 108 پولیس ملازمین مہلک مرض کا شکار ہوئے ہیں، صوبہ بھر میں تعداد 1032 ہے جوروز بروز تجاوز کرتی جارہی ہے تاہم دس روز قبل کورونا وائرس کا شکار ہونے والے ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب سہیل سکھیرا اور اے آئی جی فنانس ڈاکٹر آصف شہزاد کا ری ٹیسٹ نیگٹیو آ گیا ہے جبکہ ری کنفرمیشن ٹیسٹ کے سیمپلز بھی بھجوائے جارہے ہیں اسی طرح حال ہی میں لاہور میں تعینات ہونے والے ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خاں اور ایس ایس پی آپریشن لاہور فیصل شہزادتاحال قرنطینہ میں ہیں۔ 577 اہلکار و افسران مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ 455 اہلکار کورونا وائرس کو شکست دیکر گھروں کو چلے گئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق اب تک 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ 18 ہزار کے قریب کے ٹیسٹ نیگیٹو جبکہ 2800 سے زائد اہلکاروں کے ٹیسٹ رزلٹ تاحال انتظار میں ہیں۔ کورونا وائرس سے پولیس شہدا کی تعداد 7 ہو چکی ہے۔آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے اور متاثرہ ملازمین کی مکمل نگہداشت کے ساتھ ساتھ علاج ومعالجہ پر خصوصی توجہ دینے کا حکم دیا ہے۔کورونا وائرس سے سب سے زیادہ صوبہ پنجاب متاثر ہوا جہاں اب تک 45 ہزار 463 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 15 ہزار 787، سندھ میں 46 ہزار 828،اسلام آباد میں 6 ہزار 236، بلوچستان میں 7 ہزار 673، آزاد کشمیر میں 534 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 18 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ملک بھر میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ 38 ہزار 547 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔واضح رہے پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ 213 ممالک میں پاکستان 15نمبر پر آگیا ہے۔ پاکستان سے اگلا درجہ میکسیکو کا ہے لیکن خیال یہی ہے کہ آئندہ چند روز میں پاکستان میکسیکو کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ جون کے حالیہ ہفتے میں اوسطاً ہر روز چار ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ جب کہ جمعرات اور ہفتہ تک جن کی تعداد پانچ ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اندیشہ ہے کہ اگلے ہفتے تک ہم کورونا مریضوں کی تعداد کے حساب سے فرانس کے قریب پہنچ جائیں گے جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 54ہزار کے قریب ہے لیکن وہاں اس تعداد میں اب کوئی اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ وہاں صورتحال قابو میں ہے۔کورونا کی وبا نے پاکستان کے ہیلتھ سسٹم،حکومت کی عوام کی صحت اور انہیں علاج معالجے کی سہولتوں کی عدم فراہمی کے متعلق انتہائی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کو ننگا کردیا ہے۔ جو صورت حال اوپر بیان کی گئی ہے حقیقت یہ ہے کہ اصل صورت حال اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ کیونکہ علاج تو درکنار حکومت ابھی تک عوامی سطح پر کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کی سہولتیں فراہم کرنے میں کسی بھی قسم کی دلچسپی لینے کے لیے تیار نہیں۔ اس وبا نے نہ صرف موجودہ حکومت کی عوام دشمنی ہی کو نہیں بلکہ دیگر اداروں اور منافع کی ہوس پر پلتے سرمایہ دارانہ نظام کو بھی پوری طرح ایکسپوز کردیا ہے۔ ایک طرف پاکستان کی حکومت اور ریاست کے پاس پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی سیاسی سماجی اور تیکنیکی بصیرت۔ دوسری طرف پولیس، بڑے تاجروں اور سرمایہ داروں نے اس وبا کو خوب اور خوب اپنی دولت آفرینی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ خدا کی پناہ آپ کسی بڑے میڈیکل اسٹور سے فیس ماسک تقاضا کریں تو اس کے چہرے پر ایسی سنجیدگی غالب آجاتی ہے کہ پتا نہیں آپ نے اس سے کون سی ممنوعہ چیز طلب کرلی ہے۔ تھوڑی دیر کی گمبھیر خاموشی کے بعد وہ آپ سے آہستگی اور رازداری سے سوال کرے گا ”کنے چاہیں“۔ بڑے تاجروں کے لیے فیس ماسک کی ذخیرہ اندوزی آج کل منافع کمانے کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کی طرف سے ٹیسٹوں اور علاج کے نرخوں میں خوب اور خوب اضافہ کردیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے سب کو کھلی چھوٹ ہے عوام کا جو حشر چاہیں کریں۔کورونا کی وبا کو سب کے سب کروڑ پتی اور ارب پتی بننے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اپریل میں عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے قراردیا تھا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی پیسے لیے گئے لیکن یہ پیسہ نہ جانے کیسے خرچ ہوئے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے دوران سماعت یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ملک میں مریض ہی صرف پانچ ہزار ہیں تو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کھربوں روپے کیسے خرچ ہوئے ہیں۔ ’تمام حکومتیں ریلیف کی مد میں رقم خرچ کر رہی ہیں لیکن اس میں شفافیت نظر نہیں آرہی۔ عدالت کے استفسار پر سیکرٹری صحت تنویر قریشی نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت 16 قرنطینہ مراکز قائم ہیں اور وہاں پر تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جس پر چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے استفسار کیا کہ انہوں نے خود ان سینٹرز کا دورہ کیا جس کا سیکرٹری صاحب نے انکار میں جواب دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حاجی کیمپ میں بنائے گئے سرکاری قرنطینہ سینٹرز میں حالات ’غیر انسانی‘ ہیں۔یہ مکالمہ نہیں ایک آئینہ ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ شعبہ صحت کے متعلق عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا بھی کروڑوں روپے مالیت کے فیس ماسکس کی بیرون ملک اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے۔ ذرا سوچیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں 2ہزار افراد کے لیے ایک بستر دستیاب ہے جبکہ 1500 افراد کے لیے ایک صرف ڈاکٹر دستیاب ہے۔ نرسنگ اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی قلت کی صورتحال اس سے بھی زیادہ گمبھیر ہے۔ صحت کی یہ تھوڑی بہت سرکاری سہولتیں بھی ملک کے نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں اور بڑے شہروں ہی میں دستیاب ہیں جبکہ پسماندہ خطوں میں تو مریض کو محض کسی ڈاکٹر کی شکل دیکھنے کے لیے بھی ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر گھنٹوں کا اذیت ناک سفر کرنا پڑتا ہے۔ علاج نہ ملنے کے باعث ملک میں ہر سال ساڑھے 4لاکھ بچے ملیریا، نمونیا اور اسہال جیسی قابل علاج بیماریوں کے باعث جاں بحق ہوتے ہیں۔ سالانہ 50ہزار عورتیں زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث جان ہار جاتی ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں عورتیں ہر سال صرف چھاتی کے سرطان کے باعث بے وقت موت کے منہ میں چلی جاتیں ہیں۔ یہ عام صورت حال ہے اندازہ کیجیے کہ کورونا کے ان ایک لاکھ سے زائد مریضوں پر عدم علاج کے باعث کیا گزرے گی،جب کورونا کے ایک لاکھ سے زائد مریض اذیت سے تڑپ رہے ہوں گے زندگی کی بھیک مانگ رہے ہوں گے تو اس سے کوئی قومی المیہ جنم نہیں لے گا۔ کیونکہ ان افراد کی بھاری ترین اکثریت غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں عوام جاں بحق ہوجائیں گے۔ غریبوں کی بے گوروکفن لاشیں سڑکوں پر پڑی ہوں گی۔ جب کہ یہ ظالم حکمران، منافع کی ہوس میں اندھے سرمایہ دار، بینکار، تاجر، سستے داموں بکنے والے اداروں کے سربراہ، جاگیردار، وڈیرے، اراکین اسمبلی اور ہماریحکومت کے نمائندے اپنے اپنے محلوں میں بیٹھے تماشے دیکھتے حالات کے نارمل ہونے کا انتظار کررہے ہوں گے۔ ان میں سے اکثریت نے پہلے ہی اپنے محلات میں مہینوں کی خوراک، دوائیں، ڈاکٹرز وینٹی لیٹرز اور دیگر مشینری کا بندوبست کررکھا ہے۔ فائیو اسٹار ہسپتالوں میں پہلے ہی ان لوگوں کے لیے انتظامات مکمل ہیں۔ ذرا حساب لگائیے گا کورونا کی وجہ سے کتنے لاکھ غریب مرتے ہیں اور کتنی معمولی تعداد میں حکمران۔ اس ملک میں ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ پولیس فورس کے متاثرین کی تعداد بڑھنے کے حوالے سے پنجاب پولیس کے ترجمان سید نایاب حیدر کا کہنا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر کی ہدایت پر پولیس فورس اور ملازمین کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں اسی سلسلے میں نہ صرف تمام اضلاع اور فیلڈ فارمیشنز میں دوران ڈیوٹی جامع حکمت عملی کے تحت احتیاطی تدابیر کو یقینی بنایا جارہا ہے بلکہ جمعہ کے روز سنٹرل پولیس آفس کے تمام شعبوں کی عمارتوں کو ڈس انفیکٹ کرنے کیلئے کلورین واٹر کا سپرے کروایا گیاتاکہ ماحولیاتی آلودگی اور دیگر مہلک بیماریوں کا سبب بننے والے خطرناک جراثیم کے خاتمے کو یقینی بنایا جاسکے اور ملازمین کو کام کرنے کیلئے صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جاسکے۔اے آئی جی ایڈمن اینڈ سیکیورٹی انور کھیتران نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سنٹرل پولیس آفس میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے مرحلہ وار سکریننگ اورکورونا ٹیسٹوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ملازمین کے ہاتھ دھونے کیلئے مختلف مقامات پر موبائل ہینڈ واش یونٹس بھی لگائے گئے ہیں اور تمام ملازمین کو فیس ماسک کے استعمال کو سختی سے یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کورونا سے حفاظتی اقدامات میں مزید بہتری کے لئے سنٹرل پولیس آفس کے تمام شعبوں کی عمارتوں کو ڈس انفیکٹ کرنے کیلئے دوبارہ کلورین واٹر کے سپرے کا فیصلہ کیا گیا اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے ترکش بلاک سمیت سی پی او کمپلیکس کے تمام فلورز پر واقع برانچوں کے دفاتر میں کلورین واٹر کا سپرے کیا ہے جس سے صفائی کے انتظامات میں مجموعی طور پر مزید بہتری آئے گی

مزید :

ایڈیشن 1 -