بڑے بھائی کی لعن طعن چھوٹے نے بھتیجے کو قتل کر دیا

بڑے بھائی کی لعن طعن چھوٹے نے بھتیجے کو قتل کر دیا

  

اسپیشل رپورٹ شیخوپورہ

(محمد ارشد شیخ بیوروچیف)

قیمتی انسانی جان جس کے ناحق ضیاع کو قدرت نے یہ کہہ کر تکریم دے رکھی ہے کہ ایک انسان کاقتل پوری انسانیت کے قتل کے متراد ف ہے کسی انسان کی زندگی چھیننا اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے نہایت سنگین جرم ہے جس کی سخت سزا کا بھی تعین کیا گیا ہے جس کی روشنی میں مملکت خداداد پاکستان کے قانون میں بھی انسانی قتل کی سز ا نہایت سنگین رکھی گئی ہے تاکہ کسی انسان کی ناحق جان لینے کی کوئی جرات نہ کرسکے اور اپنے عبرتناک انجام کا تصور کا تصور کرکے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور وہ اس سنگین جرم کے ارتکاب کی سوچ بھی اپنے ذہن میں پنپنے نہ دے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں آئے روز معمولی معاملات پر بھی لوگوں کو ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوتے دیکھا گیا ہے بعض واقعات میں تو سنگدلی کی ایسی بدترین مثال رقم کی گئی ہے کہ ایسے واقعات کو سن کر انسان کے ہوش اڑ جاتے ہیں اسی طرح کا ایک بدترین واقعہ گزشتہ رو ز شیخوپورہ میں پیش آیا جس کی روداد یوں ہے کہ دامو آنہ روڈ بلوچ ٹاؤن میں ایک ہی رہائشگاہ میں مقیم بھائی محمد یاسر بلوچ اور ناصر بلوچ کے درمیان چند روز قبل اس بات پر تلخ کلامی ہوگئی کہ ملزم ناصر بلوچ کوئی کام کاج نہیں کرتا اور آوارہ پھرتا ہے بھائی کی طرف سے لعن طعن پر ملزم نے کام کاج کرنے کی طر ف توجہ دینے کی بجائے اشتعال میں آکر 7جون کی شام اپنے بھتیجے محمد حسنین بلوچ کو جو نرسری کلاس کا طالب علم تھا کو بازار سے بکس لیکر دینے کے بہانے اپنے ہمسایہ کی موٹر سائیکل پر بٹھایا اور بھکھی لے گیا جہاں اس نے معصوم بچے کو کیوبی لنک نہر میں پھینک دیا اور خود واپس آگیا بچے کے لاپتہ ہونے پر ملزم اپنے بھائی کے ہمراہ محلہ میں تلاش کرتا رہا اور بعدازاں پھر تھانہ میں اس کے اغواء کی رپورٹ درج کروانے کیلئے پہنچ گیا جہاں پولیس نے کمسن بچے کے اغواء کی ایف آئی آر درج کرکے جب تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا تو داموآنہ روڈ پر ایک دکان پر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ میں ملزم کو موٹر سائیکل پر اپنے بھتیجے کو لے کر جاتے ہوئے دیکھا گیا تو پولیس نے فوری طور پر ملزم کو حراست میں لے لیا اوراس نے ابتدائی تفتیش کے دوران ہی اس قتل کا انکشاف کردیا اور بتایا کہ وہ اپنے بھائی کی لعن طعن پر سخت غصہ میں تھا جس کا غصہ اس نے اسکے بیٹے کو قتل کرکے نکالا اور بچے کو گلا دبا کر قتل کرنے کے بعد اس کی نعش بھکھی نہر میں پھینک دی جسے پولیس نے ہیڈ بلوکی کے مقام سے برآمدکیامعصوم بچے کے قاتل کی گرفتاری اور مقتول کی نعش کی برآمدگی پر شہری حلقوں نے ایس ایچ او رانا محمد اقبال اور انکی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ قاتل کا جلد از جلدچالان مکمل کرکے اسے عدالت سے سخت سے سخت سزا بھی دلوائیں دوسری طرف مرکزی انجمن تاجران کے چیئرمین الحاج ملک محمد اسلم بلوچ نے مقامی تاجر ملک یاسر بلوچ کے بیٹے کے اغواء اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم ناصر بلوچ کو گرفتار کرنے پر تھانہ سٹی اے ڈویژن پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پولیس پارٹی کو نقد انعام دینے کا اعلان کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تین روز کی شب و روز محنت کے بعد کیس کو ٹریس کرنے کے ساتھ ملزم کو گرفتار کرکے مقتول خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی ایک شاندار روایت قائم کی ہے معصوم بچے کو اغواء اور قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہے شیخوپورہ کی تاجر برادری مقتول کے ورثاء کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی اور اظہار ہمدردی کرتی ہے بچوں کے اغواء قتل اور تشدد کے بڑھتے واقعات سے عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے ان حالات میں پولیس نے ایک معصوم بچے کے اغواء اور قتل کیس کے ملزم کو اغواء کرکے جس فرض شناسی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے تاجروں اور شہریوں میں تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے، حکومت ایسے واقعات میں ملوث سفاک ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دلوانے کیلئے مزید قانون سازی کرے تاکہ ملزمان سزا سے بچ نہ سکیں، انہوں نے کہا کہ تاجر برادری شیخوپورہ پولیس کے ڈی پی او غازی محمد صلاح الدین اور تھانہ سٹی اے ڈویژن کے ایس ایچ او رانا محمد اقبال اور دیگر پولیس پارٹی کا شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے اس اہم کیس کوفوری ٹریس کرکے ملزم کو گرفتار کیا ہے جس پر تاجر برادری پولیس کیلئے نقد انعام کا اعلان کرتی ہے اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف دلانے تک ان کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ ڈی پی اوشیخوپورہ غازی صلاح الدین نے میڈیا کو بتایا کہ تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ کے علاقہ میں جائیداد کی خاطر اپنے ہی بھتیجے کی جان لینے والے ملزم کو پولیس نے گرفتا کرلیا ہے جس دن بچہ اغواء ہوا اسکی اطلا ع بچے کے والد نے تھانہ اے ڈویژن میں دی جس پر ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن اور اس کی ٹیم نے بچے کی اطلاع ملتے ہی فوری کاروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر کے بچے کی تلاش شروع کر دی جس کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گیئں مساجد میں اعلانات کروانے سمیت کیبل پر اشتہار چلوائے گئے اس کے علاوہ بچے کے گھر اور دیگر گلی محلہ میں لگائے گئے CCTVکیمروں کو چیک کیا گیا جس میں بچے کے چچا کو بچے کو موٹر سائیکل پر بیٹھا کر لے جاتے ہو ئے دیکھا گیا اور جب چچا ملزم ناصر ولد ذاکر واپس آیا تو بچہ اس کے ساتھ نہ تھاتھانہ اے ڈویژن کی پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہو ئے ملزم کو حراست میں لیتے ہوئے تفتیش شروع کر دی جبکہ دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ بچے کو میں نے جائیداد کی خاطر قتل کر دیا ہے اور اس کی نعش نہر میں پھنک دی ہے جس پر شیخوپورہ پولیس نے بچے کی نعش کی برآمدگی کے لیے کاروائی تیز کر دی ہے،علاوہ ازیں معصوم بچے حسنین کی نعش جب اس کے گھر پہنچی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی اور علاقہ میں قیامت صغریٰ برپا ہوگئی پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کردی ہے جسے رات گئے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -