مجسٹریسی نظام کی بحالی

مجسٹریسی نظام کی بحالی

  

مجسٹریسی نظام کی بحالی

ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں 17سال بعد مجسٹریسی نظام کی بحالی کا فیصلہ کیا تھااور مجسٹریسی نظام کی بحالی کیلئے اقدامات بھی شروع کر دئیے گئے تھے۔مجسٹریسی نظام نہ ہونے کی باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال، مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے صوبائی حکومت کو مشکلات درپیش آرہی تھی۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں مجسٹریسی نظام کی بحالی کے بعد ڈپٹی کمشنرز کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اختیارات دئیے جاتے تھے۔ اس حوالے سے محکمہ قانون اور اسٹیبلشمنٹ نے تیاریاں بھی شروع کی تھیں۔ جس کا مقصد 2000ء سے پہلے والا مجسٹریسی نظام بحال کرنا ہے۔ جس میں انتظامیہ کو عدالتی اختیارات تفویض کئے جاتے تھے جو آئین کے بنیادی ڈھانچے Trichotomy of powerکے خلاف تھے،جبکہ 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 175میں کہا گیا ہے کہ 14سال کے اندر بتدریج انتظامیہ اور عدلیہ کو علیحدہ کیا جائے گا۔ عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ نے 1993ء میں ایک تاریخی فیصلہ دیا تھاجس کو سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھاتھا،اور2001ء میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انتظامیہ سے عدالتی اختیارات عدلیہ کو منتقل کئے گئے تھے اس آرڈیننس کی پارلیمنٹ نے بھی توثیق کی صوبائی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کو CRPCکے سیکشن 147کے تحت انتظامیہ کو کچھ اختیارات دینے کی درخواست کی گئی تھی۔مجسٹریسی نظام کی بحالی اور اس کی کامیابی میں ایک بات کو ضرور مدنظر رکھا جائے کہ پولیس آرڈر 2002ء کو منسوخ کر کے پولیس کا سابقہ نظام بحال کیا جائے اس اقدام سے مجسٹریسی نظام کافی بہتری ہوجائے گا۔

موجودہ وقت میں مجسٹریسی نظام کی غیر فعالیت سے جہاں ذخیرہ اندوزوں، تجاوزات اور مہنگائی مافیا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔وہیں انتظامیہ بھی پرائس کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ جب انگریز ہندوستان پر قابض ہوئے تو ایک ایسے سسٹم کی ضرورت محسوس کی گئی کہ مٹھی بھر افسران کے ذریعے پورے برصغیر کو آسانی و کامیابی کے ساتھ کنٹرول کیا جاسکے جس کی روشنی میں ایگزیکٹیو مجسٹریسی نظام رائج کیا گیا، اس نظام میں بہت سی خامیاں ضرور ہوں گی لیکشن عشروں کی آزمائشوں نے اسے آزمودہ نظام بنادیا، انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے ہی انگریزوں کے اس سسٹم کو قائم رکھا۔پاکستان میں پھر یہ نظام عشروں تک قائم رہا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس خاصے اختیارات ہوا کرتے تھے، پھر اس کے نیچے سب ڈویژنل مجسٹریٹس اور ایگزیکٹیو مجسٹریٹس ہوا کرتے تھے۔ یوں ضلع کی سطح پر حکومتی رٹ کے نفاذ کا موثرنظام موجود تھا۔

مجسٹریسی نظام کی روایت بہت فائدہ مند رہی ہے اس سے عوام کو بہت فائدہ ہوتارہا ہے اور مہنگائی کے جن کو بھی قابو کرنے کیلئے یہ نظام فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔مجسٹریسی نظام کا سب سے زیادہ فائدہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں دیکھا گیا ہے۔ہمارے ملک میں بھی قیمتوں کو مانیٹر کرنے کیلئے ایک آدھ بار کوشش ضرور کی گئی تھی کیونکہ بعض پچھلے ادوار حکومت میں اشیاء کی قیمتوں کو مانیٹر کرنے کیلئے فوڈانسپکٹر اور درجہ اول مجسٹریٹ متعین تھے۔جو اس بات پر نظر رکھتے تھے کہ مارکیٹ میں کس چیز کی قیمت میں کس حدتک اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی کوالٹی یعنی معیار کیسا ہے پھر وہ اس صورتحال سے حکومت کو آگاہ کرتے تھے اور ازاں بعد فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے نتیجے میں حالات معمول پر آجاتے تھے۔ حکومت کی طرف سے مقررکردہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتی تھیں اور بازاروں اور مارکیٹوں میں گھوم پھر کر اس امر کا جائزہ لیتی تھیں کہ اشیائے ضروریہ کی فراہمی کی صورتحال کیا ہے اور وہ کن نرخوں پر فروخت ہو رہی ہیں لیکن اب یہ اقدامات قصہ پارینہ بن کر رہ گئے ہیں اور جس کا جو جی چاہے نرخ وصول کررہاہے۔ حکومت نے اب دوبارہ سے اس نظام کو نافذ کرنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ مجسٹریٹ بہت چابکدستی سے کام کرکے عوام کو فائدہ پہنچائیں۔اس موقع پر راقم تھوڑا سا ماضی میں جھانک کے قارئین کو مجسٹریسی نظام کی یاد دلانا چاہتا ہے کہ اب جب نئے مجسٹریٹ تعینات ہوں تو انہیں ماضی کے سرفراز خان مجسٹریٹ جیسا بن کر عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ عوام کو مہنگائی کے عذاب سے کسی حد تک نجات ملے۔مہنگائی کے خاتمہ کا ایک اور پہلو بھی راقم کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ تاجر تنظیمیں اس معاملے میں اپنا نہایت اہم رول ادا کر سکتی ہیں ہر بازار میں عہدیداران موجود ہیں اگر یہ چاہیں تو یہ مذکورہ مہنگائی کے معاملے میں اپنا نہایت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور وہ اسطرح کہ رضاکارانہ طور پر اپنے بازار کے دکاندار ساتھیوں کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ ہر چیز حکومت کے طے کردہ ریٹ پر دستیاب کریں اور اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو حکومت کی مدد سے اس کے خلاف ایکشن لیا جائے ہمیں خود بھی کچھ کرنا ہوگا، ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ وزیراعظم سے لے کرکونسلر تک سب دعویٰ کرتے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گا لیکن عملاً ہوتا ایسا نہیں ہے حکمرانوں کو یہ حقیقت سامنے رکھنی چاہئے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی بہت سی سماجی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔پاکستان میں جرائم اور امن و امان قائم کرنے اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری آسکے اگر مہنگائی پر قابو نہ پایا تو حکومت کی معاشی حکمت عملی بے ثمر رہے گی جس کے نتیجے میں بدامنی اور خلفشار زیادہ شدت سے بڑھے گا۔ ان تمام حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت سے درخواست ہے کہ جلد از جلدمجسٹریسی نظام کو بحال کر دیا جائے تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے موثراقدامات کئے جاسکیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -