سیاسی کارکنوں کی دہشت گردی پولیس اہلکاروں پر تشدد

سیاسی کارکنوں کی دہشت گردی پولیس اہلکاروں پر تشدد

  

پولیس کے بنیادی فرائض میں عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا سرفہرست ہے جبکہ اس مقصد کیلئے پولیس کو مکمل طور پر غیر سیاسی رکھنا بھی ضروری ہے مگر بدقسمتی سے گجرات پولیس خود کو غیر سیاسی رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے مختلف ایسے تھانہ جات میں جہاں قتل و غارت گری اور منشیات کا دھندہ عروج پر ہو میں تعیناتی کیلئے افسران و ملازمین برسر اقتدار پارٹی سے سفارش کرانے سے گریز نہیں کرتے بعض اوقات ایسی ہی سفارشیں الٹا بھی پڑ جاتی ہیں جیسا کہ چند یوم قبل ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے پولیس چوکی جلالپور صوبتیاں کے چوکی انچارج اور محرر کو چوکی میں داخل ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اطلاع ملنے پر ڈی پی او سید توصیف حیدر نے ایس ایچ او عابد رسول‘ چوکی انچارج اور محرر کو معطل کر کے لائن حاضر کر دیا اور انکوائری کا حکم دے دیا اس واقعہ کی خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی بعد ازاں پولیس نے عمران عباس اور شفاقت عرف فہد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ چوکی کے ملازمین وغیرہ کا ملزمان سے گہری دوستی اور کھانا پینا اکٹھا تھا جب قانون نافذ کرنیوالے ملازمین اس قدر بے تکلف ہو جائیں تو بعض اوقات ایسے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جنہیں ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے مذکورہ بالا واقعہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور جو ایس ایچ او حضرات اپنی کارکردگی کی بدولت کسی تھانہ کے سربراہ مقرر ہوتے ہیں وہ بلاشبہ اعلی حکام سے تعریفی اسناد اور نقد انعام بھی وصو ل کرتے ہیں اور کسی بھی صورت کسی بھی بااثر شخص کو خواہ اسکا تعلق حزب اقتدار سے ہو یا حزب اختلاف سے‘ انصاف سبھی کے لیے برابرفراہم کیا جاتا ہے تھانہ ککرالی کے ایس ایچ او لیاقت گجر جو گجرات کے تقریبا سبھی تھانہ جات میں بطور ایس ایچ او اپنے فرائض منصبی ادا کر چکے ہیں ان نایاب پولیس افسران میں شامل ہوتے ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں اور نہ ہی وہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دیتے ہیں تھانہ ککرالی کے علاقہ سریعہ میں سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے بدنام ترین منشیات فروشوں نے ڈیرہ جما رکھا تھا اور وہ آزاد کشمیر کے علاوہ پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص گجرات میں وسیع پیمانے پر منشیات فروشی کے دھندے میں ملوث تھے اور انہیں سیاسی آشیر باد بھی حاصل تھی گرفتار ہونیوالے ملزمان میں محمد وسیم سکنہ پہاڑے حال مقیم سریعہ روڈ کوٹلہ جو گینگ کا سربراہ ہے کے بیگ کی تلاشی لی تو اس میں سے لاکھوں روپے کی نقدی اور بھاری تعداد میں چرس برآمد کی گئی مذکورہ ملزم کے انکشاف پر مراڑیاں چوک کے قریب پولیس نے کریک ڈاؤ ن کر کے تلاشی لی تو جنید عباس سکنہ کانیاں حال سریعہ روڈ کوٹلہ کے قبضے سے اڑھائی کلو گرام چرس 20لاکھ 30ہزار روپے کی وٹک برآمد کر لی ملزم کا موبائل فون اور موٹر سائیکل بھی قبضہ میں لے لیا گیا موجودہ ڈی پی او سید توصیف حیدر کی تعیناتی کے دورمیں کسی بھی تھانے کی سب سے بڑی کاروائی تھی جس میں سیاسی سفارشوں کی بھرمار ہو گئی مگر وہ منشیات کے ڈھیر اور اسکی وٹک دیکھ کر شرمندگی کے ساتھ اظہار افسوس کرتے ہوئے واپس چلے گئے ڈی پی او گجرات کی پی آر او برانچ کے سربراہ چوہدری اسد گجر ایڈووکیٹ بھی خراج تحسین کے قابل ہیں جو کسی بھی ناپسندیدہ جرم کو چھپانے کی بجائے فورا ذرائع ابلاغ کو جاری کر دیتے ہیں تاکہ حقیقت پر مبنی خبر ہی میڈیا کی زینت بنے پی آر او برانچ نے گجرات میں پے در پے قتل ہونیوالی وارداتوں کو چھپانے کی بجائے بھی نہ صرف گجرات پولیس کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری کی بلکہ میڈیا نے بھی انہیں نمایاں طو رپر جگہ دی ان قتل کی وارداتوں میں ٹانڈہ کے علاقہ لکھنوال میں ایک نوجوان کو اغوا کے بعد قتل کرنے کی واردات سرفہرست ہے جس کے قاتل تھانہ ٹانڈہ پولیس نے گرفتار کر لیے مقتول عرفان علی کے بھائی نے اسکے اغوا ہونیکی رپورٹ درج کرائی ملزمان کی گرفتاری اور تحقیقات کے دوران اس امر کا انکشاف ہوا کہ انہوں نے نوجوان کو قتل کر کے نعش نہر میں بہا دی جسے برآمد کر لیا گیا گجرات کو سی سی ٹی وی کیمرے لگا کر سیف سٹی بنانے والے ہردلعزیز شخصیت مرز اجاوید اقبا ل کی نعش ساروکی نہر سے تھانہ سول لائن پولیس نے برآمد کر لی مرزا جاوید کے اغوا کی ایف آئی آر ان کے بھائی نے چند یوم قبل تھانہ میں درج کرائی تھی قتل کی وجوہات کا تاحال علم نہیں ہو سکا اسی طرح تھانہ لاری اڈا کی چوکی گڑھی احمد آباد کے علاقہ میں ایک نوجوان کو بھینس کو چارہ نہ ڈالنے کے جرم میں تشد دکر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا قتل کی اس واردات پر علاقہ کے مکین اور اسکے عزیز واقارب سراپا احتجاج بن گئے جنہیں بعد ازا ں پولیس نے مذاکرات کر کے پر امن طور پر منتشر کر دیا کنجاہ کے گاؤں خانولی میں بااثر ملزمان نے معمولی جھگڑے کا بدلہ لینے کیلئے پانچ بچوں کی ماں کو گلے میں پھندا ڈال کر قتل کرنیکی کوشش کی‘ خاتون کے بے ہوش ہونے پر مردہ سمجھ کر فرار ہو گئے آسیہ بی بی کو اسکے ہمسائے ملزم لیاقت نے سابقہ عناد پر مہندی خان کی حویلی میں گلے میں پھند اڈا ل کر موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی سانس بند ہونے پر خاتون بے ہوش ہو گئی جسے مردہ سمجھ کر ملزم فرار ہو گیا مقامی لوگوں نے خاتون کو بروقت ہسپتال پہنچایا جسے فوری طبی امداد دیکر بچا لیا گیا پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔

مرزا نعیم الرحمان بیور وچیف گجرات 08.06.2020

مزید :

ایڈیشن 1 -