بجٹ گروتھ بیسڈ نہیں، معاشی بحالی کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا: میاں نعمان کبیر

  بجٹ گروتھ بیسڈ نہیں، معاشی بحالی کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا: میاں ...

  

لاہو ر(لیڈی رپورٹر)چیئرمین پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) میاں نعمان کبیر نے وفاقی بجٹ 2020-21 پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا بجٹ گروتھ بیسڈ نہیں ہے۔ معاشی بحالی کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔بزنس کمیونٹی توقع کر رہی تھی کہ کرونا سے بعد کی صورتحال میں صنعت وتجارت کو ریلیف دیا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔اس بجٹ سے بزنس کمیونٹی کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بجٹ میں غیر یقینی اور بہت زیادہ ٹارگٹ رکھے گئے ہیں اور موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے جن کا حصول بہت مشکل ہے۔موجودہ حالات میں جی ڈی پی2.1% گروتھ کیسے ممکن ہے۔. اسکو حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں بتایا گیا. کسی نئے ٹیکس کے بغیر 27% ریونیو گروتھ کیسے حاصل کی جائے گی۔چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے سیئنر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ وفاقی بجٹ پر پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس ایسا کونسا شعبہ ہے کہ وہ 27 فیصد گروتھ لائے گی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منی بجٹ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیا ٹیکس نہ لگانا خوش آئند ہے مگر پہلے سے موجود ٹیکسوں کی شرح کو بڑھانا زیادتی ہے. حکومت نے صنعتوں کو کوئی خاص ریلیف نہیں دیا، بجلی گیس کی قیمتوں میں نہ کمی کی اور نہ ہی سیلز ٹیکس اور شرح سود کو کم کیا۔ریلیف اور ٹیکس فری بجٹ کے نام پر لاک ڈاؤن سے پریشان تاجر برادری کو عملا کوئی ریلیف پیکج نہیں دیا گیا۔

بزنس کمیونٹی کو اس وقت ریلیف کی ضرورت ہے تاکہ وہ معاشی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔کاٹیج انڈسٹری گھریلو صنعت کو سیلز ٹیکس سے استشنیٰ اور خصوصی مراعات بھی بجٹ دستاویزات میں شامل نہیں۔ بجٹ میں فوری درستگیوں کی ضرورت ہے۔

مزید :

کامرس -