اے این پی اس آئی ایم ایف زدہ او ر عوام دشمن بجٹ کو مسترد کر تی ہے

اے این پی اس آئی ایم ایف زدہ او ر عوام دشمن بجٹ کو مسترد کر تی ہے

  

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی ایماء پر بنائی جانے والی بجٹ کا عوام کو فائدہ نہیں ہو سکتا، پہلے سابقہ حکومتوں پر قرضوں کے لیے الزام لگایا جاتا تھا اب کورونا پر ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے، ایاین پی اس آئی ایم ایف زدہ اور عوام دشمن بجٹ کو مسترد کرتی ہے۔ بجٹ کاغذی ہیرا پھیری کے سوا کچھ نہیں اور عوامی نیشنل پارٹی اس بجٹ کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے پی ٹی آئی کی صوبائی اور وفاقی حکومتیں ناکامیوں کا مجموعہ بن چکی ہیں اور اب سابقہ حکومتوں پر الزام لگا کر اپنی ناکامی نہیں چھپائی جا سکتی۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری ایک بیان میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا ہے کہ حکومت نے ایک ایسا بجٹ پیش کر دیا ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین نے بھی سر پکڑ لیے ہیں۔ ایسا عجیب بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جس میں تعلیم اور صحت پر توجہ ہی نہیں دی گئی ہے۔ ہمارے صوبے کی بدقسمتی ہے کہ صوبائی حکومت وفاق سے صوبے کا اپنا حق بھی نہیں مانگ سکتی اور اس لیے وفاق سے صوبے کو این ایف سی ایوارڈز، صوبے کے اپنیمنافع یا دوسرے کسی مد میں اپنا جائز حق بھی نہیں ملتا۔ بجٹ میں ضم اضلاع کو نظرانداز کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے میاں افتخار نے کہا کہ وعدے تو بہت کیے گئے تھے لیکن ان اضلاع کو کچھ بھی نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا نعرہ تھا کہ ضم اضلاع کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی طرح خصوصی پیکج ملتا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جب مرکز سے صوبے کو پیسے نہیں مل رہے تو آئندہ صوبائی بجٹ کیسے پاس ہوگا۔ کورونا کی وجہ سے خسارے کی باتوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے اے این پی کے جنرل سیکرٹری نے کہا خسارے کے لیے کورونا کو موردالزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں بلکہ یہ حکومت اور وزیراعظم کی نااہلی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے کورونا نہ صرف پھیل رہا ہے بلکہ اور بھی زیادہ خطرناک رخ اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 20 فیصد تک بڑھائی تھیں اور سوال اٹھایا کہ اس حکومت کی کیا ایسی مجبوری ہے کہ سرکاری ملازمین کے لیے بجٹ میں ایک پیسہ نہیں۔ حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ نہ صرف متاٰثر ہو رہا ہے بلکہ اپنے حق سے بھی محروم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کو اپنا حق دے کر اس قابل بنایا جائے کہ اپنا بجٹ خود پیش کر سکے۔ عمومی طور پر بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نہ عوام کا بجٹ ہے اور نہ پاکستان کا بلکہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جو کہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔ بجٹ میں حکومتی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی تو پچھلی بجٹ کے سارے اہداف ادھورے ہیں اور پندرہ بڑی صنعتوں میں سے 11 کا پیداوار منفی ہے۔ حکومت قرضوں میں ڈوب چکی ہے اور فی کس آمدنی 1650 ڈالر سے کم ہوکر 1153 ڈالر پر آگء ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا بجٹ ہے جس میں شرح نمو 5?8 فیصد سے کم ہو کر 0،38 فیصد ہوکر رہ گئی اور گردشی قرضے 2300 ارب سے بڑھ کر 4300 ارب ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ ابھی چار اور ضمنی بجٹ آنے ہیں جن میں حکومت اپنا حساب کتاب برابر کر دے گی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -