حج کے حوالے سے سعودی حکومت کے حج عمرہ منسٹری سے رابطے میں ہیں: علامہ نور الحق قادری

        حج کے حوالے سے سعودی حکومت کے حج عمرہ منسٹری سے رابطے میں ہیں: علامہ ...

  

خیبر (بیورورپورٹ)وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر علامہ نورالحق قادری نے میڈیا کو بتا یا کہ حج کے حوالے سے سعودی حکومت کے حج عمرہ منسٹری سے رابطہ میں ہیں گز شتہ روز انکے منسٹری کے سیکرٹری نے پاکستان مذہبی امور منسٹری کے سیکرٹری سے فون پر بات ہوئی تھی انہوں نے بتا یا کہ ابھی وہ اس حوالے سے خود فیصلہ نہ کریں چار پانچ دن بعد وہ اپ کو جواب دینگے اس حوالے سے انتظار میں ہے انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کے پا س دو تین آپشنز ہیں جو ریگولر حج ہے وہ مشکل ہیں انکے امکانات ختم ہو گئے ہے حج تو ہو گا لیکن کس طرح کرینگے پہلا آپشن یہ ہے کہ کوٹے کے مطابق تمام ممالک سے دس فیصد حاجیوں کو حج کرنے کی اجازت دی جائے لیکن ڈبلیو ایچ کے رول اوراو ایس اوپیز کے مطابق یہ بھی مشکل ہیں کیونکہ دس فیصد لوگ بھی لاکھوں تک پہنچ جائیں گے دوسرا آپشن کہ سعودی میں جو لوکل لوگ اور غیر ملکی موجود ہیں وہ حج کریں یا سیمبالک حج کرائیں جو ہر ملک سے دو،دو یا تین یاپانچ سولوگوں کا ڈیلی گیشن سعودی میں سفارتکاروں کے زریعے بلائیں اور محدود پیمانے پر حج کریں جس میں چالیس یا پچاس ہزار لوگ شامل ہو سکے یہ تمام آپشنز ہیں اس میں سعودی کے تمام منسٹریوں نے اپنا موقف پیش کیا ہے یہ تمام آپشنز بادشاہ کو بھیج دیا ہے کیونکہ اس پر فیصلہ سعودی بادشاہ کرینگے امید ہے کہ پندرہ جون تک وہ فیصلہ سنائیں گے جو فیصلہ آئے گا اس کے ساتھ ایس اوپیز بھی دینگے اس پر وہ دیکھے گے کہ وہ ایس اوپیز عملی کر سکتے ہیں ایس او پیز کے تحت پاکستانی حجاج بھیج سکتے ہیں یا نہیں اس پر وہ فیصلہ کرینگے نورالحق قادری نے کہاکہ ملائیشیا،انڈونیشیا،سنگا پور،انڈیا،برونائی نے فیصلہ کیا ہے اس سال وہ حجاج نہیں بھیجے گے لیکن پاکستان سعودی حکومت کے ایس اوپیز کے مطابق پھر فیصلہ کرینگے انہوں نے کہا کہ حج خرچہ پر بھی فرق آئے گا وہ کلکلوٹ کرینگے کیونکہ اب تقریبا 565000خرچہ آتا ہے لیکن 9سے10لاکھ تک پہنچ سکتا ہے حتمی کلکلوکیشن نہیں کیا گیا ہے یہ ٖصرف اندازہ لگا یا ہے تمام معلومات کے بعد حتمی فیصلہ کرینگے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -