سندھ حکومت کے کورونا پر بلند و بانگ دعوے، عملی اقدام صفر مریضوں کی رپورٹس گم

  سندھ حکومت کے کورونا پر بلند و بانگ دعوے، عملی اقدام صفر مریضوں کی رپورٹس ...

  

کراچی(این این آئی)حکومت سندھ کی جانب سے کورونا وائرس کی تشخیصی صلاحیت بڑھانے کے دعوے تو کیے جارہے ہیں لیکن کراچی کے عوام کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹس کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ شہر قائدکے عوام لمبی لائنوں اور طویل انتظار کے بعد آخر کارٹیسٹ کرانے میں تو کامیاب ہو رہے ہیں لیکن 24گھنٹوں میں ملنے والی رپورٹ 96گھنٹوں بعد بھی نہیں مل رہی جبکہ ضلعی سطح پرلئے گئے ٹیسٹ کے نمونے بھی گم ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔اس سلسلے میں محکمہ صحت کا موقف جاننے کیلئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ان کے موبائل پر ایس ایم ایس جبکہ واٹس ایپ پر بھی میسیج کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔کراچی میں سرکاری سطح پر کرائے گئے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹس چار دن گزرنے کے بعدبھی نہیں مل رہی جس نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے صرف استعداد بڑھانے کے دعوے کیے گئے لیکن ہسپتالوں اور صحت کے ضلعی دفاتر میں خاطر خواہ پی سی آر مشینیں لگائی گئیں نہ عملہ فراہم کیا گیا بلکہ اسی عملے اور مشینوں کیسا تھ ٹیسٹ میں اضافے کے احکامات دیئے گئے۔جن ہسپتالوں میں ٹیسٹ کیے جارہے ہیں ان پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ چند دن قبل انڈس ہسپتال نے ٹیسٹ بند کر دیئے تھے، دو دن قبل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس ضلع جنوبی نے بھی کورونا ٹیسٹ بند کیے جس کے بعد گزشتہ روز سول ہسپتال کراچی نے بھی تین دنوں کے لئے ٹیسٹنگ سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا۔سول ہسپتال کراچی، ڈی ایچ اوآفس، جناح ہسپتال کراچی، ڈاو یونیورسٹی اوجھا ہسپتال، جناح ہسپتال کراچی اور انڈس ہسپتال سمیت دیگر سرکاری سہولتوں میں کورونا کی رپورٹس وقت پر فراہم نہیں کی جارہیں۔ اس پر اکثر شہریوں کے سیمپل گم ہونے کی بھی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

سندھ کورونا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -