وزیراطلاعات سندھ نے وفاقی بجٹ کو الفاظ کا گورکھ دھندا قرار دیدیا

وزیراطلاعات سندھ نے وفاقی بجٹ کو الفاظ کا گورکھ دھندا قرار دیدیا

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات، ہاو سنگ و ٹاو ن پلاننگ، مذہبی امور، جنگلات و جنگلی حیات سید ناصر حسین شاہ نے قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے سالانہ بجٹ 2020 21 پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات اب سب کو معلوم ہو چکی ہے کہ موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جو معاشی ٹیم ہے وہ ایک بالکل ناکام ٹیم ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے میں ہم دیکھ رہے ہوں گے کہ ایک منی بجٹ یا سپلیمنٹ بجٹ آرہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ جو کہ پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن جیتنے سے پہلے چڑیل نظر آتی تھی اب ان کو مس ورلڈ نظر آتی ہے۔ سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے لیے بجٹ میں کچھ ریلیف نہیں دیا گیا. صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان تمام کاروباری حضرات کے لیے جو کہ تعمیرات کے بزنس سے وابستہ ہیں تو بہت کچھ ریلیف اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے لیکن ان مزدوروں کے لئے کچھ نہیں ہے جو کہ تعمیرات کے کام سے منسلک ہیں. انہوں نے کہا کہ اصل میں تو حکومت کو ان مزدوروں کا جو کے غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں خیال رکھنا چاہیے تھا نہ کہ ان کاروباری حضرات کا جن کے پاس پہلے ہی بہت پیسہ ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے سوال کیا کہ کوڈ 19 سے نمٹنے کے لئے بجٹ میں ایسا کیا رکھا گیا جو کوئی فرق پیدا کرسکے یا اثرانداز ہوسکے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی تھی کہ کرونا وائرس کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ اقدامات کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ کیوں کہ وفاقی حکومت نہ پہلے کرونا وائرس کے مسئلے پر سنجیدہ تھی اور نہ اب ہے اسی لئے انہوں نے بجٹ میں بھی اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ سید ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ اس وقت ہمارا کسان پورے ملک میں اپنی پکی پکائی فصلوں کو ٹڈی دل کے ہاتھوں تباہ ہوتے دیکھ رہا ہے اور حکومت سے مایوس ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے چھ مارچ کو ہونے والی میٹنگ میں اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ اپریل تک پورے ملک میں جہاں جہاں ٹڈی دل کا حملہ ہوا ہے وہاں پر ہوائی اسپرے کیا جائے گا تا کہ فصلوں کو بچایا جا سکے لیکن اب تک کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت پر ہوائی اسپرے کر لیا جاتا تو بہت سی فصلوں کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکتا تھا. سید ناصر حسین شاہ نے کہا کے آج ہمارا زمیندار اور کسان اس حکومت کی نااہلی کی وجہ سے اپنی فصلوں کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھتے ہوئے انتہائی پریشان ہے.صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ زراعت پر بیس کرتا ہے لیکن اس ناکام وفاقی حکومت کی زراعت کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا طبقہ اس وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں سے پریشان ہے اسی طرح زراعت سے منسلک طبقہ بھی اس کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے انتہائی مایوس ہے. سید ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ جو پچھلا سال گزرا ہے اگر ہم اس میں سے کوڈ کے تین مہینے نکال دیں تو سب سے زیادہ کم ریکوری اس سال ہوئی ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اس حکومتی بجٹ کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں. انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بجٹ میں ملک کو درپیش سنگین خطرات کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی. سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایک روایتی بجٹ پیش کیا ہے. صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا عوام دشمن بجٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو صرف تکلیف ہی تکلیف دی گئی ہے. سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حیرت کی بات ہے کہ اتنی مہنگائی کے دور میں بھی پاکستان تحریک انصاف نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی نا تو تنجواہوں اور نہ ہی پنشن میں کوئی اضافہ کیا۔ اس کے علاوہ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ وفاقی حکومت کرونا وائرس کی وبا کے مسئلہ کو سامنے رکھ کر بجٹ تیار کرے گی. انہوں نے کہا کہ یہ ظالمانہ بجٹ پی ٹی آئی کی ناکامیوں کا تسلسل ہے. سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ عوام دشمن بجٹ کو ہم ہر سطح پر بے نقاب کریں گے. صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں فصلوں کو ٹڈی دل کے حملوں سے بچانے کے لیے کسی واضح پالیسی کا اعلان نہ کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کی بجٹ تقریر میں سابق صدر آصف علی زرداری نے ٹڈی دل کے مسئلہ کو بھرپور طریقے سے اٹھایا تھا لیکن اس بار اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی گئی جو قابل افسوس ہے. صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی غفلت کی وجہ سے ٹڈی دل کا مسئلہ کرونا وائرس کی وبا سے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے. سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بجٹ میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور اس کے علاوہ کسی بھی قسم کے ریلیف کی فراہمی کا اعلان نہ کیا جانا افسوسناک ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بجٹ میں نوجوانوں اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے دوا ساز کمپنیوں کو سبسڈی دی گئی. انہوں نے کہا کہ غریب اور مزدور دشمن بجٹ کو عوام مسترد کرتے ہیں. سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان کے عوام ایسے کسی بجٹ کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں عام آدمی کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہو۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں مزدور کسان اور دیگر غریب طبقے کے افراد کو ریلیف دینے کے بجائے امیر طبقے کو ریلیف دیا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو ہم اپنے بزرگوں کو کہہ رہے ہیں کہ وہ کرونا وائرس کے وبا کے دنوں میں گھروں سے باہر نہ نکلے اور دوسری طرف ان کی پینشن میں اضافہ نہ کر کے ان کے ساتھ بہت زیادہ زیادتی کی گئی ہے. سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ نہ صرف یہ بلکہ جو کرونا وائرس کی وبا کے خلاف ہمارے فرنٹ لائن ہیروز ہیں جن میں ہمارے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف شامل ہیں ان کے لئے بھی اس بجٹ میں کچھ خاص بندوبست نہیں کیا گیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ توقع تو یہ کی جا رہی تھی کہ وفاقی بجٹ میں ہر صوبے کے لئے ایک علیحدہ صحت کے پیکج کا اعلان کیا جائے گا تاکہ وہ صوبہ کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بہتر انتظامات کر سکے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس قسم کے کسی بھی پیکیج کا اعلان وفاقی بجٹ میں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام سے جتنے بھی وعدے کیے تھے ان تمام کی نفی کی ہے. صوبائی وزیر اطلاعات نے وفاقی حکومت سے گزارش کی کہ خدارا کوئی منی بجٹ یا سپلیمنٹ بجٹ یا اس طرح کی کوئی اور چیز نہ لے کے آئے جو بجٹ پیش کیا ہے اس پے من و عن عمل ضرور کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ اس وقت پورا ملک کرونا وائرس کی وبا کا شکار ہے تو ہم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال تک کا وقت دیتے ہیں اور کچھ نہیں کہتے لیکن ان کو بھی چاہیے کہ جیسا کہ یہ خود کو فرشتہ بتاتے ہیں تو فرشتہ بن کر بھی دکھائیں اور اپنے مخالفین پر تنقید کرنا بند کریں اور کچھ کام کریں۔

مزید :

صفحہ اول -