وفاقی حکومت نے کٹھن حالات میں عوام دوست بجٹ پیش کیا: اجمل وزیر

وفاقی حکومت نے کٹھن حالات میں عوام دوست بجٹ پیش کیا: اجمل وزیر

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کی محرومیوں کا ازالہ پورے پاکستان کی ذمہ داری ہے بلاول ضم اضلاع پر واویلا کر کے اپنی سیاست تو چمکارہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق این ایف سی کے 3 فیصد حصے میں سے اپنا حصّہ ضم ضلاع کو ابھی تک نہیں دیا ہے خیبر پختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے نیشنل فائنانس کمیشن ایوارڈ میں 3 فیصد مختص حصے میں اپنا حصّہ پہلے بھی دیا ہے اور اس بجٹ میں بھی دے گی، اگر دیگر صوبے بھی اپنے وعدے کے مطابق ضم اضلاع کو اپنا حصہ دیں تو وہاں ترقی کا عمل مزید تیز کرکے قبائلی اضلاع کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل اکنامک کونسل اجلاس میں ضم اضلاع کے 3 فیصد حصے کی بات اٹھائی تھی جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کی طرف سے اپنے وعدے کے مطابق 3 فیصد حصہ نہ دینا افسوسناک ہے.وفاقی بجٹ برائے سال 2021۔2020پر بات کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں عوام دوست، غریب دوست اور تاجر دوست بجٹ پیش کیا ہیکورونا وباء نے پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت نے ایک متوازن اور ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تاجر برادری سمیت غریب اور مزدور دار طبقے کے لئے بڑے پیمانے پر ریلیف فراہم کی گئی ہے۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ تاجر برادری بجٹ کی تعریف کرر رہی ہے اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ بجٹ میں احساس پروگرام کی رقم 187 ارب سے بڑھا کر 208 ارب روپے کرکے غریب طبقے کو ریلیف فراہم کی ہے نوجوانوں کو معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے 2 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی بے جا تنقید سمجھ سے بالاتر ہے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ اگر ان مشکل حالات میں عمران خان کی جگہ لوٹو تے پھوٹو گروپ کی حکومت ہوتی تو پتا نہیں ملک کا کیا حال ہوتا، یہ تو عمران خان کی مخلص قیادت ہے کہ اس مشکل حالات میں غریب دوست بجٹ پیش کیاہے۔ انسداد ٹڈی دل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ٹڈی دل کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں محکمہ زراعت، ریلیف، پاک آرمی اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ آپریشن میں 758 اہلکاروں پر مشتمل 80 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ اجمل وزیر نے کہا کہ 42 لاکھ 63 ہزار سے زائد ایکڑ اراضی پر سروے جبکہ 52 ہزار سات سو ایکڑ اراضی پر اسپرے بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں انسداد ٹڈی دل اور زرعی ریلیف کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومتی ایس او پیز کے بارے میں اجمل وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کے واضح احکامات ہیں کہ ایس او پیز پر ہر صورت عملدرآمدکو یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے۔ اجمل وزیر نے کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 9 دنوں میں صوبہ بھر میں دو لاکھ 37 ہزار 13 کاروائیاں کی گئی ہیں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 59 ہزار 8 سو 22 یونٹس/کاروباروں کو وارننگز جاری کئے گئے ہیں۔ جبکہ 41 ہزار پانچ سو 91 کاروباری افراد پر ایک کروڑ 24 لاکھ 53 ہزار روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا ہے اسی طرح ایس او پیز کی خلاف ورزی پر چار ہزار 5 سو 31 یونٹس/کاروبار سیل کردیئے گئے ہیں

مزید :

صفحہ اول -