پیٹرول بحران کا ذمہ دار کون؟تیل کی کمپنیوں کا بھی موقف آگیا

پیٹرول بحران کا ذمہ دار کون؟تیل کی کمپنیوں کا بھی موقف آگیا
پیٹرول بحران کا ذمہ دار کون؟تیل کی کمپنیوں کا بھی موقف آگیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پیدا ہونے والے بحران پر تیل کی کمپنیوں کا ردعمل بھی آگیا۔ آئل کی کمپننیوں کا کہنا ہے کہ بحران کی ذمہ دار بیوروکریسی ہے۔

تیل کی کمپنیوں کے مطابق پیٹرول کی درآمد اور مقامی پیداوار میں اضافے سے متعلق بیوروکریسی نے فیصلہ ہی نہیں کیاجس کی وجہ سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی۔

خیال رہے ملک کے بیشتر حصوں میں یکم جون سے اب تک پیٹرول کی عوام  کو فراہمی میں مسائل پیداہورہے ہیں۔ پیٹرول پمپس پر لوگوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں جبکہ کئی مقامات پر لوگ احتجاج کرتے بھی دکھائی دیئے۔

ڈان نیوز کے مطابق 

کے مطابق آئل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے کہا ہے کہ ‘ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی معلومات کی مہم شدید تشویش کا باعث ہے‘۔

اس نے کہا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں میں ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم سیکٹر کی طرف بہت زیادہ جھوٹی معلومات اور الزام تراشی کا کھیل دیکھا گیا ہے جو یہ غیرضروری اور متضاد ہے‘۔

او سی اے سی نے کہا کہ ملک میں پٹرول کی موجودہ قلت کی موروثی وجوہات پر نظرثانی اور اس کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے جس میں مارچ میں درآمدی پابندی بھی شامل ہے، وزارت توانائی کی جانب سے اپریل میں اس پابندی کو ختم کرنے اور درآمدات کے لیے منظوری میں تاخیر کی ہدایت کی گئی تھی۔

ن کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ایک عام سپلائی چین 45 سے 60 دن تک ہوتی ہے جبکہ اپریل کی فروخت کے مقابلہ میں جون کی فروخت میں 82 فیصد کا اضافہ نمایاں ہے خاص طور پر جب پیٹرول کی درآمد پر بھاری انحصار ہوتا ہے جس کے ساتھ سپلائی کی مختلف پیچیدگیاں بھی جڑی ہیں جیسے بین الاقوامی سپلائرز / تاجروں کے ذریعہ مناسب مقدار کا حصول، سمندری فریٹ مارکیٹ میں بڑی تعداد میں مصنوعات کیریئر (جہازوں) کی دستیابی، بندرگاہوں پر رکاوٹیں وغیرہ۔

اس نے دعوی کیا ہے کہ ڈاؤن اسٹریم پٹرولیم سیکٹر ملک کے ذمہ دار کارپوریٹ شہری ہے اور پاکستان میں توانائی کی سلامتی کو برقرار رکھنے میں اس کی بہت بڑی شراکت کے پیش نظر اسے احترام کے ساتھ برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

قومی -بزنس -