جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس:ثابت کریں اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلئے جج نے پیسے دیئے،سپریم کورٹ

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس:ثابت کریں اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلئے جج نے پیسے ...
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس:ثابت کریں اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلئے جج نے پیسے دیئے،سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس سے متعلق سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہاکہ ثابت کریں اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلئے جج نے پیسے دیئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزکیخلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی رکوانے کیلئے درخواستوں پر سماعت جاری ہے،جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ سماعت کررہا ہے ۔حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن نقائص پر مبنی درخواست پر کارروائی کر سکتا ہے،عدالت نے استفسار کیاکہ یہ بتائیں کونسل کے سامنے جج کیخلاف آمدن سے زائد ذرائع کا مواد کیا تھا؟،حکومتی وکیل نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز نے 09-2008 میں بطوروکیل آمدن ظاہر کی،عدالت نے کہاکہ ثابت کریں اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلئے جج نے پیسے دیئے۔

فروغ نسیم نے کہاکہ میں آپ کابہت احترام کرتا ہوں ،15 سال کاہمارا عزت واحترام کارشتہ ہے،جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ احترام کا رشتہ برقرار رہے گا،سب چاہتے ہیں کیس کاجلد فیصلہ ہو،فروغ نسیم نے کہاکہ وضاحت دینی ہے جائیدادیں کیسے خریدی گئیں،آج کے دن تک اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ہوسکتا ہے فاضل جج کی اہلیہ زیرکفالت ہو،اہلیہ کواپنے والدین سے کچھ ملے،کیاوہ بتانابھی خاوندکی ذمہ داری ہے؟

جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ کسی عمارت کی بنیادغلط ہوتوغلط ڈھانچے پرعمارت کھڑی نہیں ہوسکتی،فروغ نسیم نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زائد ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں تو اس کا تعین کس فورم پرہوگا؟،حکومتی وکیل نے کہاکہ سروس آف پاکستان کے تحت یہ جواب خاوند نے دینا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آپ کا مقدمہ پراپرٹیزکی ملکیت سے متعلق ہے،کسی کے رہنے سہنے کے انداز کا مقدمہ آپ کا نہیں ہے،ریفرنس میں منی لانڈرنگ،فارن ایکس چینج کی منتقلی کی بات کی گئی۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ صدارتی ریفرنس کے الزامات کا جائزہ جوڈیشل کونسل نے لینا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کونساریکارڈ ہے جس سے اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زیادہ لگتے ہیں؟،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ 1990کے بعدایسامیکانزم بنایاگیاجس کے تحت کوئی حساب نہیں ہے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -