یہ نہیں ہوسکتا سروس آف پاکستان کے ملازم کے بچے رولزرائس گاڑی چلائیں،1969 کا قانون اتنا برا تھا تو اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ ختم کردیتی،بیرسٹر فروغ نسیم

یہ نہیں ہوسکتا سروس آف پاکستان کے ملازم کے بچے رولزرائس گاڑی چلائیں،1969 کا ...
یہ نہیں ہوسکتا سروس آف پاکستان کے ملازم کے بچے رولزرائس گاڑی چلائیں،1969 کا قانون اتنا برا تھا تو اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ ختم کردیتی،بیرسٹر فروغ نسیم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سے متعلق کیس میں حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ یہ نہیں ہوسکتا سروس آف پاکستان کے ملازم کے بچے رولزرائس گاڑی چلائیں،1969 کا قانون اتنا برا تھا تو اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ ختم کردیتی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزکیخلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی رکوانے کیلئے درخواستوں پر سماعت جاری ہے، جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ سماعت کررہا ہے ۔حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ جج کیخلاف ڈسپلنری کارروائی کونسل کر سکتی ہے،جسٹس عمر عطابندیال نے استفسارکیاکہ الزام یہ ہے کہ لندن کی جائیدادیں کیسے خریدی گئیں؟، آرٹیکل 10 اے پربھی مطمئن کریں،صدارتی ریفرنس میں تشویش جائیدادخریدنے کے ذرائع ہیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیاکہ اگرتسلیم کرلیں توپھرتمام ججزسے ٹیکس کاجوڈیشل کونسل پوچھے گی؟،فروغ نسیم نے کہاکہ جوڈیشل کونسل جج کے ٹیکس گوشواروں کا جائزہ لے سکتی ہے،عدالت نے استفسار کیاکہ ایف بی آرکہہ دے اہلیہ نے جائیدادیں اپنے وسائل سے حاصل کیں، پھرصورتحال کیا ہوگی؟۔

جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ آپ کا مقدمہ ٹیکس قانون کے آرٹیکل 116 کی خلاف ورزی کا ہے، آپ تو ٹیکس قانون کے ماسٹر ہیں،حکومتی وکیل نے کہاکہ مرکزی مقدمہ یہ ہے کہ کن وسائل سے جائیداد خریدی گئی،آرٹیکل 116 کی خلاف ورزی ایک چھوٹا سا نقطہ ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کیااس بات کاامکان ہے ایف بی آراہلیہ سے ذرائع پوچھ لے،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ ایف بی آر پوچھے اور اہلیہ جواب دے توکیس ختم ہوجائےگا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ پھراصرارکیوں کررہے ہیں کہ جواب قاضی فائزعیسٰی ہی دیں۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ اس مقدمے میں 9 ماہ گزر چکے ہیں،فروغ نسیم نے کہاکہ یہ نہیں ہوسکتا سروس آف پاکستان کے ملازم کے بچے رولزرائس گاڑی چلائیں،1969 کا قانون اتنا برا تھا تو اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ ختم کردیتی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -