اکیسویں صدی میں اسلامی دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ نشاۃ ثانیہ کے لئے متحرک طور پر کام کرنا چاہئے: فیصل طاہر خان 

اکیسویں صدی میں اسلامی دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ نشاۃ ثانیہ کے لئے متحرک طور ...
اکیسویں صدی میں اسلامی دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ نشاۃ ثانیہ کے لئے متحرک طور پر کام کرنا چاہئے: فیصل طاہر خان 

  

مکہ مکرمہ (محمدعامل عثمانی)  جدہ میں کاروبار کی حکمت عملی سے متعلق مشیر اور ایک بین الاقوامی اسپیکر  فیصل طاہر خان نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اس پہلو پر روشنی ڈالی کہ    اسلامی دنیا 21 ویں صدی دنیا  میں کس طرح نشاۃ ثانیہ حاصل کرسکتی ہے؟  انہوں نے کہا ، "اسلامی دنیا میں بڑی صلاحیت ہے جس کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسلامی دنیا  ، دنیا کی تقریبا 25 فیصد آبادی کا حصہ  ہے اور ہم سب کو حکمت عملی سے سوچنا ہوگا کہ کیا ہم عالمی ترقیاتی پیداوار ، عالمی تجارت ، ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس ، ایجوکیشن سیکٹر، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی   اور دیگر شعبوں میں جدت کے ساتھ   عالمی آبادی کے 25 فیصد میں حصہ ڈال رہے ہیں  ؟ 

فیصل نے کہا کہ "عالم اسلام کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور مہارت حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ وہ اپنے معاشروں میں مثبت کردار ادا کرسکیں جس کا اثر پوری اسلامی دنیا میں سنوبال کا جیسا ہوگا ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ بلاکچین ، مصنوعی ذہانت ، بگ ڈیٹا ، سائبر سکیوریٹی اور انٹرنیٹ آف تھنکز پر توجہ دینی چاہئے اور ان ٹیکنالوجیز میں اپنا معقول عالمی حصہ لینے کی تیاری کرنا چاہئے ۔ 

معیشت کے بارے میں فیصل نے کہا کہ بیشتر خام مال ، معدنیات اور تجارتی راستے اسلامی دنیا میں ہیں '' ہمیں اپنی ان صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے اوراپنی صحیح  قدر و قیمت اور مسابقتی فائدہ پر مبنی اپنی معیشتوں کو درست سمت ڈالنا چاہئے  ،  "اس وقت کی ضرورت ہے کہ مضبوط اسلامی ممالک کو دیگر کمزور ممالک کی معاشیات ، تعلیم ، صحت ، بنیادی ڈھانچے ، سیکیورٹی ، پینے کے صاف پانی کے نظام میں انکی معاونت کرنی چاہیے اورہمارے پیارے نبی ﷺ  کی تعلیمات کے مطابق اور دیگر آزمائشی اوقات میں بھی  ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں اور صحیح معنوں میں ایک جسم بن جائیں  ۔ 

فیصل نے کہا کہ "عالم اسلام کو چاہئے کہ وہ اپنے وسائل کو اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے زیادہ احتیاط کے ساتھ استعمال کریں اور بعض تنازعات  پر ایک دوسرے سے جھگڑنے اور الجھنے کے بجایے درگزر کا راستہ اختیار کرتے ہیوے انہیں اپنے وسائل کو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لئے ایک دوسرے کی تعمیر میں استعمال کرنا چاہئے۔ 

انہوں نے کہا کہ "ہم سب کو عالمی سطح پر اسلام کی اصل امیج کو پیش کرنے کے لئے اجتماعی طور پر کام کرنا چاہئے کیونکہ اسلام امن ، ہم آہنگی ، محبت ، نگہداشت ، احسان ، ہمدردی  کا درس دیتا ہے ۔ اسلاموفوبیا کی شکل میں جو بھی غلط فہمیاں مغرب میں پھیلی ہیں ان کے تدارک کی کوشش کرنی چاہیے۔ “ 

فیصل طاہر خان نے اپنے اختتامی کلمات میں اسلامی دنیا کو متحد ہونے کا مشورہ دیا تاکہ 21 ویں صدی میں انسانیت کی ترقی میں نمایاں حصہ لیا جاسکے ۔

مزید :

تارکین پاکستان -