” دیکھتے ہیں ان کی ترقی کیسے ہو تی ہے ، ان پر ۔۔۔“شہری کو1966 میں زمین کی الاٹمنٹ کا معاملہ ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ڈی سی ملتان پر شدید برہم ، بڑا حکم دیدیا 

” دیکھتے ہیں ان کی ترقی کیسے ہو تی ہے ، ان پر ۔۔۔“شہری کو1966 میں زمین کی ...
” دیکھتے ہیں ان کی ترقی کیسے ہو تی ہے ، ان پر ۔۔۔“شہری کو1966 میں زمین کی الاٹمنٹ کا معاملہ ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ڈی سی ملتان پر شدید برہم ، بڑا حکم دیدیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )ہائیکورٹ میں بھارت سے ہجرت کرکے آنے والے کو 55 سال بعد بھی زمین الاٹ نہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کو توہین عدالت کا نوٹس جبکہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کمشنر ریونیو کو بھی 21 جون کیلئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا گیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق 1966 میں پوجا رام کی 47 ایکڑ زمین ہجرت کر کے پاکستان آنے والے برکت کو الاٹ ہوئی ، بورڈ آف ریونیو نے الاٹمنٹ پر اعتراض لگا یا جسے برکت نے 1967 میں عدالت میں چیلنج کیا ، مختلف عدالتوں میں کیس ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا، 2016 میں فیصلہ برکت کے حق میں آیا، برکت کے انتقال کے بعد پوتے شوکت نے لاہور ہائیکورٹ میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست دی، چیف سیٹلمنٹ کمشنر نے برکت کو 1966 میں کی گئی الاٹمنٹ کینسل کر دی ۔ 

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو پانچ سے چھ دہائیوں سے در در کے دھکے کھانے پڑے ، مختلف حیلے بہانوں سے درخواست گزاروں کو مقدمات میں الجھا رکھا ہے ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اب بھی کوئی جعلی سا بندہ کھڑا کر کے سول کورٹ میں دعویٰ کر دیا ہو گا ،نامکمل رپورٹ اور جھوٹ رپورٹ پیش کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس دے رہاہوں ، ڈپٹی کمشنر ملتان علی شہزاد نے مکمل رپورٹ پیش نہیں کی ، ڈی سی ملتان نے عدالت سے حقائق چھپائے ، پہلی مقدمے بازی سپریم کورٹ تک گئی ،حکومت نے عدالتی حکم پر عمل نہ کیا ، درخواست گزار نے حکام کے آرڈرز کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ، عدالت نے ڈی سی کا کالعدم قرار کیا ، عدالت کے واضح احکامات کے باوجود عمل نہ کرنا واضح توہین عدالت ہے ، رجسٹرار آفس ڈی سی اور اے سی ملتان کے خلاف توہین عدالت کی علیحدہ فائل تیار کرے ، یہ لوگ اندر جائیں گے ، ان کی سر وس ریکارڈ پر توہین عدالت کا نوٹس لگا رہے ہیں ، دیکھتے ہیں ان کی ترقی کیسے ہوتی ہے ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -