وہ وقت جب خلائی جہاز زمین سے ٹکرا گیا تھالیکن اس میں سوار روسی خلاءباز کی لاش کا کیا حشر ہوا؟ جان کر ہی روح کانپ جائے

وہ وقت جب خلائی جہاز زمین سے ٹکرا گیا تھالیکن اس میں سوار روسی خلاءباز کی لاش ...
وہ وقت جب خلائی جہاز زمین سے ٹکرا گیا تھالیکن اس میں سوار روسی خلاءباز کی لاش کا کیا حشر ہوا؟ جان کر ہی روح کانپ جائے

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) زمین پر حادثات کے سبب ہر سال لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک بار ایک خلائی جہاز کے زمین سے آ ٹکرانے کا بھی حادثہ ہو چکا ہے جس میں سوار ایک روسی خلاءباز کی موت واقع ہو گئی تھی اور اس کی لاش کا ایسا حشر ہو گیا تھا کہ سن کر ہی روح کانپ اٹھے۔

 ڈیلی سٹار کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 1967ءمیں پیش آیا تھا جب ولادی میر کوماروف نامی یہ خلاءباز کیپسول میں موجود تھا جو خلاءسے انتہائی رفتار کے ساتھ زمین پر آ گرا تھا۔اس حادثے میں خلائی جہاز میں اتنی حدت پیدا ہوئی کہ ولادی میر کوماروف کی لاش اس قدر جل گئی کہ اس کی باقیات بھی پگھل کر ایک سیاہ مادے کی شکل اختیار کر گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ایک ناقص طریقے سے تیار کی گئی خلائی وہیکل تھی جو حادثے کا شکار ہوئی۔ جب یہ کیپسول زمین کے مدار میں تیزی سے زمین کی طرف گرنا شروع ہوا تو کوماروف کو یقین تھا کہ اب وہ مرنے جا رہا ہے، وہ کیپسول کے اندر بس اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا۔جب اس خلائی وہیکل کا ایندھن ختم ہوا اور اس نے گرنا شروع کیا تو کوماروف نے سوویت یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار الیگزی کوسیجن کے ساتھ فون پر بات کی۔ ان کی فون پر ہونے والی یہ گفتگو امریکی خفیہ ایجنسی (دی نیشنل سکیورٹی ایجنسی)سن رہی تھی۔ 

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سوویت عہدیدار اور خلاءباز کی گفتگو ترکی کے شہر استنبول میں واقع اپنے فوجی اڈے پر سن رہی تھی۔ بعد ازاں ایک امریکی مصنف نے اسی گفتگو کی بنیاد پر بتایا کہ روسی خلاءباز اس فون کال میں روتا رہاتھا۔ اس نے سوویت عہدیدار کو بتایا کہ ”میں جانتا ہوں کہ میں مرنے جا رہا ہوں۔“ کال میں سوویت عہدیدار نے بھی روتے ہوئے کوماروف کو بتایا کہ ”تم ایک ہیرو ہو۔“اس فون کال کے وقت دیگر لوگوں کے علاوہ کوماروف کی بیوی بھی سوویت عہدیدار کے پاس تھی اور اس نے بھی اپنے شوہر سے آخری بار بات کی۔ خاتون نے اپنے شوہر کو بتایا کہ ”میں ہمارے بچوں کو بتاﺅں گی کہ تمہارا باپ ایک بہادر شخص تھا۔“امریکی انٹیلی جنس کے لوگ کوماروف کو سن رہے تھے کہ وہ کس طرح پاگلوں کی طرح رو رہا تھا اور ان لوگوں کو لعن طعن کر رہا تھا جو اسے اس ناقص خلائی جہاز میں بٹھانے کے ذمہ دار تھے۔

 مصنف نے کتاب میں یہ بھی بتایا ہے کہ ولادی میر کوماروف معروف سوویت خلاءباز یوری گاگرین کا بہت اچھا دوست تھا۔ یوری گاگرین خلاءمیں جانے والا پہلا انسان تھا۔ کوماروف اس خلائی جہاز میں سوار ہونے اور خلاءمیں جانے سے پہلے ہی جانتا تھا کہ یہ خلائی جہاز ناقص ہے اوراس پر سفر خطرناک ہو سکتا ہے تاہم وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر اس نے اس جہاز میں سفر سے انکار کیا تو اس کی جگہ اس کے دوست یوری گاگرین کو بھیج دیا جائے گا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ یوری گاگرین مرے، چنانچہ وہ اس خلائی جہاز میں سفر کرنے پر رضامند ہو گیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -سائنس اور ٹیکنالوجی -