کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کے کام کی تعریف کیوں نہیں کرتے؟ پھر جلد ہی ایسے نتائج سامنے آگئے جو معجزے سے کم نہیں تھے

کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کے کام کی تعریف کیوں نہیں کرتے؟ پھر جلد ہی ایسے ...
کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کے کام کی تعریف کیوں نہیں کرتے؟ پھر جلد ہی ایسے نتائج سامنے آگئے جو معجزے سے کم نہیں تھے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:120
کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کے کام کی تعریف و ستائش کیوں نہیں کرتے؟ ایک کمپیوٹر پروگرامنگ (Computer Programming) فرم کے صدر نے مجھ سے کہا میں اس کے متعدد منتظمین میں سے ایک کے ساتھ بات چیت کروں، صدر نے اس منتظم کے بارے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ”تکنیکی لحاظ سے لنڈا بی (Linda B) اپنے کام میں خوب ماہر ہے لیکن اپنے عملے کے ساتھ اس کا رویہ منفی نوعیت کا ہے، شاید تم سے بات چیت کے بعد وہ اپنے روئیے میں درستی پیدا کر لے۔“
فرم میں اس خاتون کی شہرت ایک ایسے منتظم کی سی تھی جو اپنے عملے کی کارکردگی کی کبھی تعریف نہیں کرتی اور نہ ہی اپنے عملے کو سراہتی اور نہ ہی انہیں شاباش دیتی ہے۔ میں نے اس سے استفسار کیا کہ اس نے یہ منفی حکمت عملی کیونکر اپنا رکھی ہے؟
اس نے میری بات کا جواب دیتے ہوئے کہا ”میرا اندازہ ہے کہ مجھے ملازمین کے ضمن میں تمہاری ”غذائی اور مفید انا اور احساس برتری“ پر مبنی فلسفے کے متعلق بخوبی علم ہے لیکن اس فلسفے اور حکمت عملی کونہ اپنانے کے لیے میری پاس 3 معقول وجوہات موجود ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر میں اپنے ملازمین کو یہ بتادوں کہ وہ اپنا کام احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں، تو وہ اپنے کام میں غفلت برتیں گے اور اس طرح ان کی کارکردگی کا معیار کم ہو جاتا ہے۔ اگر میں ان کی اچھی کارکردگی پر انہیں شاباش دوں تو وہ گھٹیا کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، اور پھر یہ ملازمین غیر حاضریاں بہت زیادہ کرنے لگتے ہیں اور کام کے دوران فضول گفتگو اور گپ شپ میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات میرا عملہ صحیح کام نہیں کرتا، پھر آپ اپنے ملازمین کی گھٹیا کارکردگی کی تعریف کریں گے تو وہ یقینی طور پر گھٹیا کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے“۔
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا: ”اپنے عملے کے کام کی تعریف نہ کرنے کی تیسری وجہ کیا ہے؟“
اس کا جواب تھا: ”اگر میں اپنے عملے میں غذائی اور مفید انا اور احساس برتری پیدا کردوں تو پھر میرا عملہ مجھے سے زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کرے گا، کم اوقات کار پر اصرار کرے گا، اور آسان کام کا طلبگار ہوگا۔“
اس ضمن میں میری لنڈا ی (Linda Bَُ) کے ساتھ تفصیلاً گفتگو ہوئی۔ اور پھر آخر کار کچھ پس و پیش کے بعد اس امر پر راضی ہوگئی کہ وہ اپنے عملے میں کچھ نہ کچھ حد تک غذائی اور مفید انا اور احساس برتری پیدا کرے گی۔ پھر جلد ہی ایسے نتائج سامنے آگئے جو اس کی نظر میں معجزے سے کم نہیں تھے۔ اس نے مجھے بتایا: 
”جیسے ہی میں نے اپنے عملے کی کارکردگی کے ضمن میں انہیں شاباش دینا شروع کی، ان کے کام کی تعرف و توصیف شروع کی، تو میں نے محسوس کیا کہ ملازمین اب مجھ سے پہلے کی نسبت زیادہ تعاون کر رہے ہیں، اپنے کام کی انجام دہی میں لطف محسوس کر رہے ہیں اور ان کی پیداواری کارکردگی میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوگیا ہے۔ مجھے انتہائی حیرت ہے کہ تمہارا طریقہ کار گر ثابت ہوا ہے۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -