دادو کی منچھر جھیل اور بدین کا ”ماڈل ولیج“

دادو کی منچھر جھیل اور بدین کا ”ماڈل ولیج“
دادو کی منچھر جھیل اور بدین کا ”ماڈل ولیج“

  

2013ءکے عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے منشور یکے بعد دیگرے منظر عام پر آرہے ہیں، مگر سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جس کی عمر کا نصف حصہ فوجی جرنیلوں کی حکمرانی میں بسر ہوا ہے ، عام انتخابات کا ڈھانچہ کبھی اور کسی دور میں سیاسی جماعتوں کے منشور پر استوار نہیں ہو سکا اور ان کی حیثیت سبز باغات کی رہی ، عوام نے بھی انہیں سنجیدہ نہیں لیا اور سبز باغ ہی سمجھا ۔ عام طور پر جن لوگوں نے انتخابات کے بعد حکومت بنائی، وہ اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی کوپارٹی منشور کے مطابق ڈھالنے اور بروئے کار لانے میں ناکام رہے اور ہر حلقہ انتخاب میں وہاں کے منتخب نمائندے کی پسند نا پسند کے مطابق ، بشرطیکہ وہ حکمران جماعت کا حامی ہو، ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے، پھر ترقیاتی فنڈز کو منتخب نمائندے کی صوابدید کے مطابق استعمال کرنے کا چلن عام ہوا ،جس کے نتیجے میں ہر شہر اور گاﺅں میں منتخب نمائندے اور سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر میگا کرپشن کی بنیاد پڑی۔

9مارچ 2013ءکو صدر آصف علی زرداری نے حیدرآباد میں موٹروے ایم نائن ، بہن بے نظیر بستی پروگرام کے تحت گوٹھ سنجر چانگ میں سڑک کی تعمیر اور تھانہ بولا خان ضلع دادو میں دراوت ڈیم کی تعمیر کے منصوبوں کا افتتاح کیا ۔ ان منصوبوں سے مستقبل میں عوام کی خوشحالی اور ترقی کے دعوﺅںکی خبر 10مارچ کے تمام اخبارات میں چھپی ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ 10مارچ کے ہی سندھی اخبار”کاوش“ نے ایک دلچسپ خبردادو کی منچھر جھیل کے تعلق سے بھی شائع کی ہے، جس کے سلسلے میں اربوں روپوں کے تین مختلف منصوبے مختلف حکومتوں کے ادوار میں شروع کئے گئے،مگر 17 سال میں کسی ایک منصوبے پر بھی کام مکمل نہیں ہوسکا۔ بھان سعید آباد سے ہاشم پنھور نے رپورٹ دی ہے کہ منچھر جھیل کی بحالی اب ایک خواب بن گئی ہے۔ اربوں روپے کے تین مختلف منصوبے 17سال میں بھی مکمل نہیں ہوسکے۔ اس سلسلے میں حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ایم این وی ڈرین کے گندے اور زہریلے پانی کا رُخ جھیل میں کئے جانے کے سبب 1995ئمیں ایشیا میں میٹھے پانی کی یہ سب سے بڑی جھیل تباہی کاشکار ہوچکی تھی ۔

 اس جھیل کی بحالی کے لئے پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے 1995ءمیں ورلڈ بینک کے تعاون سے ڈرین کا گندا اور زہریلا پانی جھیل میں چھوڑنے کا سلسلہ بند کرنے اور یہ پانی سمندر میں گرانے کے لئے ایم این وی ڈرین سے دریا کے اُس پار قاضی احمد کے نزدیک لیفٹ بینک آﺅٹ فال ڈرین (LBOD) تک 40ارب روپے کی لاگت سے رائٹ بینک آﺅٹ فال ڈرین (RBOD) کے سیم نالے کا پہلا منصوبہ تیار کیا، جس کا ٹھیکہ ایف ڈبلیو او کو دیا گیا اور پہلی سالانہ قسط کے طور پر اُسے چار ارب روپے فراہم کر دیئے، جس سے ایف ڈبلیو او نے ٹھیکیدار کے ذریعے ایم این وی ڈرین سے RBOD کے سیم نالے کا کام شروع کرایا۔ ابھی یہ کام جاری ہی تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت آنے کے بعد 2001ءمیں اسے منسوخ کرد یا گیا اور RBODکا رُخ موڑ کر دریائے سندھ کی دائیں جانب سے سمندر تک گندا اور زہریلا پانی لے جانے کی نئی سکیم تیار کی گئی۔ یہ ٹھیکہ بھی FWOکو دیا گیا اور یہ کام 2010ءتک مکمل ہونا تھا ، مگر جب 75فیصد کام ہوچکا تھا تو 2008ءمیں پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے RBODتھری سیم نالے کے اس منصوبے کو، جس پر 28ارب روپے خرچ ہوچکے تھے، ختم کرکے ایم این وی ڈرین کے گندے اور زہریلے پانی کو میٹھا اور قابل استعمال بنانے کے لئے ڈرین کے ایک مقام آر ڈی 20پر ساڑھے تین ارب روپے کی لاگت سے بڑا فلٹر پلانٹ لگانے کا نیا منصوبہ تیار کیا ، لیکن ٹھیکیدار کو رقم کے اجراءکے باوجود فلٹر پلانٹ کا کام شروع نہیں ہو سکا۔ یوں17سال کے دوران منچھر جھیل کو تباہی سے بچانے اور بحال کرنے کے لئے تیار کئے گئے تین حکومتوں کے تینوں منصوبے مکمل نہ ہوسکے ۔

کہاجاتا ہے جنرل ضیاءالحق کی حکومت نے 1980ءمیںحمل جھیل سے منچھر جھیل تک ایم این وی ڈرین کی اسکیم تیار کی تھی اور یہ کام 1990ءمیں مکمل ہوا، تاہم بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کچھ کارخانوںکا زہریلا اور ڈرینج کا گندا پانی سیم نالوں کے ذریعے اس میں ڈالا جانے لگا، جس کے اثرات1995ءکے بعد ظاہر ہوئے اور پتہ چلا کہ خوبصورت منچھر جھیل کا میٹھا پانی نہ صرف خراب ہوچکا ہے، بلکہ مچھلیاں مرنے لگی ہےں۔ کہاجاتا ہے کہ منچھر جھیل میں مچھلیوں کی 240اقسام پائی جاتی تھیں، جو ختم ہوگئیں۔ اس پر دادو ، حیدرآباد اور کراچی میں علاقے کے لوگوں نے، جن کا گزر بسر منچھر جھیل پر تھا ، احتجاجی مظاہرے کئے۔ سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا، مگر 17سال کے بعد بھی منچھر جھیل کی بحالی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اس رپورٹ سے یہ سمجھنا دشوار نہیں ہے کہ آنے والی حکومت کے لئے منچھر جھیل کو بچانے کے نام پر اربوں روپے کی لاگت سے نیا منصوبہ بنانے یا مزید اربوں روپے خرچ کرکے گزشتہ کام مکمل کرانے کے راستے کھلے ہوئے ہیں:

”صلائے عام ہے ، یا ران نکتہ داں کے لئے“

منچھر جھیل کو تباہی سے بچانے کی 17سال پر محیط ہوش ربا داستان کی دلچسپ خبر جیسی ایک خبر بدین کے ماڈل ولیج کے بارے میں 28فروری کو ”عبرت“ میں شائع ہوئی ہے ، جس کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے دور میں بدین کے زیرو پوائنٹ پر سمندر کے نزدیک ملاحوں کو عزت کے ساتھ رہنے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے 50کروڑ روپے کی لاگت سے ماڈل ولیج کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا ، جہاں315مکانات کے علاوہ مسجد، سکول اور واٹر سپلائی سکیم تعمیر ہونی تھی۔ 2006ءمیں اُس وقت کے وزیراعلیٰ ارباب رحیم نے ماڈل ولیج کا سنگِ بنیاد بھی رکھا اور فنڈز کا اجراءبھی ہوا ، لیکن 7سال میں یہ منصوبہ مکمل تو کیا، صحیح انداز سے شروع بھی نہیں ہو سکا، جبکہ کہاجاتا ہے کہ پارٹی کے جیالوں نے ٹھیکیدار سے ملی بھگت کرکے50کروڑ روپے ٹھکانے لگادیئے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -