اس تصویر کی حقیقت جان کر آپ کا ایمان مزید تازہ ہو جائے گا

اس تصویر کی حقیقت جان کر آپ کا ایمان مزید تازہ ہو جائے گا
اس تصویر کی حقیقت جان کر آپ کا ایمان مزید تازہ ہو جائے گا

  

روم (نیوز ڈیسک) مجسمہ ساز انسانی مجسمے ہمیشہ سے بناتے آئے ہیں لیکن سن 79 عیسوی میں اٹلی کے ایک آتش فشاں نے زندہ انسانوں کو اپنے لاوے کی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں کئی صدیوں بعد ماہرین آثار قدیمہ کے سامنے وہ مجسمے آگئے کہ جوآتش فشاں کا شکار بننے والے انسانوں کے آخری لمحات کی درناک کہانی بیان کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:دنیا میں پہلی بار مردانہ تولیدی عضو کی پیوند کاری کاکامیاب تجربہ

اٹلی میں موجودہ نیپلز کے علاقے میں آج سے تقریباً 19 صدیاں قبل ماﺅنٹ ویسوﺅیئس نامی آتش فشاں پھٹ پڑا اور آتشی راکھ تقریباً 20 میل کی بلندی تک فضا میں اٹھنے کے بعد قریبی شہروں پامپے اور ہیرکولینیم پر آگری۔ ہزاروں لوگ لاوے اور آتشی راکھ تلے دب کر ہلاک ہوگئے۔ صدیوں بعد جب ماہرین آثار قدیمہ نے بدقسمت شہروں کی کھدائی کی تو پتھروں کی 25 میٹر دبیز تہہ کے نیچے دبا ہوا شہر اور اس کے مکین مل گئے۔

 آتش فشاں کی ٹنوں کے حساب سے راکھ نے انسانوں کو زندہ درگور کردیا تھا۔ کوئی اپنے گھر میں راکھ تلے دب گیا تھا تو کوئی بازار میں خریداری کرتے ہوئے زندہ دفن ہوگیا تھا۔ دونوں شہروں کے گلیوں بازاروں، کھیتوں کھلیانوں اور سڑکوں چوراہوں پر دبنے والے ہزاروں انسان مجسموں کی صورت میں دریافت ہوئے۔ ان مجسموں کی صورت میں بدقسمت انسانوں کی قدرتی آفت سے بچنے کی آخری کوششیں اور ان کے دردناک تاثرات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگئے تھے۔ اب ان مجسموں کو برباد شدہ شہروں کے دریافت ہونے والے گلی کوچوں میں ہی سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا ہے اور انہیں دیکھنے والے دردناک تباہی کا نشانہ بننے والے انسانوں کو دیکھ کر حیرت، خوف اور دہشت سے مغلوب ہورہے ہیں۔قران پاک میں بھی اس قوم کا قصہ بیان کیا گیا ہے کہ اس پر عذاب نازل کیا گیا  .

مزید : ڈیلی بائیٹس