تین کشمیری نوجوانوں کے حراستی قتل کے جرم میں ایک بھارتی فوجی اہلکار کو عمر قید کی سزا

تین کشمیری نوجوانوں کے حراستی قتل کے جرم میں ایک بھارتی فوجی اہلکار کو عمر ...

 سری نگر (کے پی آئی( بھارتی فوج کی عدالت نے تین کشمیری نوجوانوں کے حراستی قتل کے جرم میں ایک فوجی اہلکار کو عمر قید کی سزا دے دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق 2010کے اوائل میں سرحدی ضلع کپوارہ کے مژھل سیکٹر میں فرضی جھڑپ میں بارہمولہ ضلع سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کو دوران حراست قتل کر دیا گیا تھا۔ اس جرم میں ملوث ایک اور فوجی اہلکار کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے ۔یہ سزا فوجی عدالت نے دی ہے تاہم اس کیس کی فائل دوبارہ فوج کی شمالی کمان کو منظوری کیلئے ارسال کی گئی ہے۔ اس سے قبل شمالی کمان نے مذکورہ ٹیری ٹوریل آرمی اہلکار کے اس واقعے میں رول کی تحقیقات کیلئے فائل واپس کورٹ مارشل کو ارسال کی تھی ۔واضح رہے کہ اس سے قبل اس واقعہ میں ملوث کرنل سمیت 5اہلکاروں کوعمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔فوج کی 4راجپوتانہ ریجمنٹ نے نادی ہل بارہمولہ کے شہزاد احمد خان،ریاض احمد لون اور محمد شفیع لون کو 30اپریل2010کو مژھل سیکٹر میں ایک فرضی مڈبھیڑ میں ہلاک کیا جبکہ انہیں دراندازی کرنے والے جنگجوؤں کے بطور ظاہر کیا گیا اور ان ہلاکتوں سے اپنے نام ترقیاں اور ایوارڑ حاصل کئے گئے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کیس میں یہ چھٹی سزا ہے ۔اس سے قبل دو افسران اور چار اہلکاروں کو ان نوجوانوں کو قتل کرنے کا مجرم قرار دے کر سزا سنائی دی گئی ۔ٹیری ٹوریل آرمی اہلکار کی شناخت عباس حسین شاہ کے بطور ہوئی ہے ۔ادھمپور میں قائم شمالی کمان کے ایک اعلی فوجی آفیسر نے کو بتایا کہ فوجی عدالت نے کیس کی کارروائی کا سر نو جائزہ لیا اور اسے مکمل کیا۔دفاعی ذرائع نے مزید کہاکہ مذکورہ ٹیری ٹوریل آرمی اہلکارکو بھی وہی سزا دی گئی جو دیگر5مجرمان کو دی گئی ۔عباس کو بھی عمر قید اور نوکری سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے ۔یاد رہے کہ ان ہلاکتوں کے بعد پولیس نے ایک کیس درج کیا جبکہ فوج نے اپنی محکمانہ تحقیقات بھی شروع کی ۔اور عبوری تحقیقات میں کمانڈنگ آفیسر اور راجپوتانہ ریجمنٹ کے 4اہلکاروں کو ان ہلاکتوں میں ملوث پایا گیا ۔فوج نے دسمبر2013میں جنرل کورٹ مارشل کا حکم دیا جس میں کرنل ڈی کے پٹھانیہ ،میجر اپندرا سنگھ،صوبے دار ستبیر سنگھ ،حوالدار بیر سنگھ ،سپاہی نریندر سنگھ کو عمر قید کی سزا دی گئی تاہم عباس حسین شاہ کو بری کیا گیا تھا ۔نومبر2014میں یہ فائل کمانڈنگ ان چیف کمانڈ کو حتمی کارروائی کی منظوری اور سزاؤں پرعمل درآمد کیلئے ارسال کی گئی ۔تاہم تین ماہ بعد فوج کے جنرل کورٹ مارشل نے دو افسران اور چار اہلکاروں کو اس فرضی مڈبھیڑ میں سزا سنائے جانے سے متعلق فائل کو شمالی کمان نے ٹیری ٹوریل آرمی اہلکار کی ان ہلاکتوں میں رول کو لے کر مکمل تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کیلئے واپس کی ۔تاہم اب مذکورہ ٹی اے اہلکار کو بھی اسی کیس کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی اور اسے بھی نوکری سے بر طرف کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ مژھل فرضی جھڑپ کے انکشاف کے بعد وادی بھر میں ایک زور دار ایجی ٹیشن شروع ہوئی جو کئی مہینوں تک جاری رہی ۔

مزید : عالمی منظر