ا یرانی صدر کے مشیر کوعراق سے متعلق بیان مہنگا پڑ گیا

ا یرانی صدر کے مشیر کوعراق سے متعلق بیان مہنگا پڑ گیا

 تہران ( آن لائن ) ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے ایک مشیرعلی یونسی کو ان کا عراق سے متعلق وہ بیان سخت مہنگا پڑا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ایران ایک عظیم سلطنت اور بغداد اس کا دارالحکومت ہے۔\' علی یونسی کے اس متنازعہ بیان پر ایران کی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] میں بھی ایک نیا ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ ارکان شوریٰ کی اکثریت نے یونسی کو ان کے عہدے سے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔فارسی خبر رساں ایجنسی \"رجا نیوز\" نے رکن پارلیمنٹ حمید رسائی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے \"علی یونسی کا عراق کو ایران کی عظیم سلطنت کا دارالحکومت قرار دینا ناقابل معافی جرم ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی خود ہی انہیں عہدے سے ہٹا دیں۔\"ایرانی رکن شوریٰ نے حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایران کو نام نہاد شنہشاہیت بنانے والوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کی عالمی شہرت اور ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ایک دوسرے رکن پارلیمنٹ اسماعیل کوثری نے ’’فارس‘‘ خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علی یونسی کا بیان قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کا موجب بنا ہے۔ اس لیے انہیں فوری طورپر عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔خیال رہے کہ حال ہی میں ایرانی صدر کے مشیر برائے اقلیتی امور علی یونسی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو کوئی معمولی ملک نہ سمجھا جائے بلکہ ایران ایک عظیم الشان شہنشاہیت ہے اور بغداد اس کا دارالحکومت ہے۔ ان کے اس بیان پر ایران کے قدامت پسند اور اصلاح پسند حلقوں کیدرمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی۔علی یونسی کے بیان پرنہ صرف ایران کیاندر سخت رد عمل سامنے آیا ہے بلکہ اس کی مخالفت کی بازگشت عراق کے ایوانوں میں بھی سنی گئی ہے۔ سابق عراقی صدر ایاد علاوی نے یونسی کے بیان کو’’اشتعال انگیز‘‘ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ علی یونسی کا بیان ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کا عکاس نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ علی یونسی کے بیان پراپنا موقف واضح کرے۔ایاد علاوی کا کہنا تھا کہ ایران یا کوئی بھی دوسرا ملک عراق کو اپنی ملکیت یا مملکت ایران کا حصہ نہیں قرار دے سکتا۔ جو شخص یہ بات کہتا ہے وہ اشتعال پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔

مزید : عالمی منظر