سیاسی قیدیوں کو بلا شرط رہاکیاجائے‘ نعیم خان

سیاسی قیدیوں کو بلا شرط رہاکیاجائے‘ نعیم خان

 سری نگر (کے پی آئی(نیشنل فرنٹ کے چیئر مین نعیم احمد خان نے کہا ہے کہ کشمیری لوگ نہ صرف فورسز اور ان کے اعانت کاروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں بلکہ اب بھارتی میڈیا کی طرف سے بھی انہیں زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو کشمیر کا نام آتے ہی تمام پیشہ ورانہ اخلاقیات بھول جاتا ہے۔ سنگھ پورہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نعیم خان نے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور بلا شرط رہائی کا زور دار الفاظ میں مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ایک مو4134ر اعتماد سازی کا اقدام ثابت ہوسکتا ہے۔نعیم خان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام قیدیوں کو نزدیکی جیلوں میں شفٹ کیا جانا چاہئے جو ریاست اور بھارت کی دور دراز جیلوں میں سڑنے کیلئے سالہا سال سے پڑے ہوئے ہیں اور ایسا کرنے سے سینکڑوں مائیں،بہنیں اور بچے راحت کی سانس لے سکتے ہیں۔ نعیم خان نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہاکہ500سے زیادہ کشمیری حریت پسند اپنے ہموطنوں کیلئے آزادی کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں جیلوں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی مختلف جیلوں میں ایام اسیری کاٹ رہے حریت پسند کشمیریوں کو عدالتوں کے سامنے بھی پیش نہیں یا جارہا ہے کیونکہ حکام کو معلوم ہے کہ وہ کشمیری بے گناہ قیدیوں کیخلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ انہیں بے بنیاد اور من گھڑت کیسوں میں پھنسایا گیا ہے۔نعیم خان نے کہا قابض قوتوں کے ہاتھوں کشمیری عوام کا متاثر ہونا اور ان کی مشکلات کا سلسلہ ہر گذرنے والے دن کے ساتھ جاری ہے اور اس پر بلند بانگ دعوں کے باوجود کوئی روک نہیں لگ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی ظلم و جبر کی وجہ سے کم و بیش 30ہزار کشمیری خواتین کو گذشتہ اڑھائی دہائی کے دوران جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا ہے،ہزاروں کشمیری خواتین ایسی ہیں جو اس لئے متاثر ہیں کہ ان کے بیٹے یا بھائی فورسز کے ہاتھوں شہید کئے گئے جبکہ ہزاروں کی تعداد ایسی بھی ہے جن کے شوہروں کو حراست میں لینے کے بعد گمشدہ بنایا گیا اور اب انہیں آدھی بیوائیں کہا جاتا ہے جو انتہائی کسمپری کی حالت میں زندگیاں گذار رہے ہیں۔ جملہ شہدائے کشمیرکو یاد کرتے ہوئے نعیم احمد خان نے کہا کہ عظیم قربانیوں کا تقاضا ہے کہ لوگ ان کی حفاظت کیلئے جٹ جائیں اور اپنی روز مرہ کی سرگرمیاں انجام دیتے وقت بھی اپنے محسنوں کو یاد رکھیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...