واسا میں گھپلے کرنیوالے 20افسروں کو چارج شیٹ کر دیا گیا

واسا میں گھپلے کرنیوالے 20افسروں کو چارج شیٹ کر دیا گیا

 لاہور(جاوید اقبال)منیجنگ ڈائریکٹر واسا نصیر چوہدری نے2سوبوگس ترقیاتی سکیمیں بنا کر قومی خزانے سے کروڑوں روپے نکلوا کر ہڑپ کر جانیوالے 20اعلیٰ افسروں کو چار ج شیٹ کر دیا۔چار شیٹ کیے جانیوالے اعلیٰ افسروں میں سابق منیجنگ ڈائریکٹر آپریشن اقتدار شاہ ،2ڈائریکٹرز،3ایکسئین،4ایس ڈی اوز،3سب انجنئیرز،ایک سپر وائزر اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے 4افسروں سمیت 2کلرکوں کو چار ج شیٹ جاری کی گئی ہے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس محمد جمشید بٹ کی سر براہی میں 4رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کو حکم جاری کیا گیا ہے کہ اس بڑے سکینڈل کی تحقیقات کر کے4روز میں رپورٹ پیش کی جائے۔ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مذکورہ افسروں نے اتھارٹی کے جعلی دستخط کر کے فرضی سکیمیں بنائیں اور فنانس ڈیپارٹمنٹ سے 2کروڈ 34لاکھ روپے نکلو ا کر ہڑپ کر لئے۔بتا یا گیا ہے کہ بتایا گیا ہے کہ اس سکینڈٖل کا مرکزی کردار داتا گنج بخش ٹاؤن کا ایکسئین سہیل سندھو ہے جس نے سکیمیں منظور کروانے کیلئے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اقتدار شاہ اور ڈائریکٹر فنانس ناہید گل بلوچ کے جعلی دستخط لیے ۔گزشتہ روز ایم ڈی واسا نصیر چوہدری نے ان افسران کو چارج شیٹ جاری کر دی ہے چار ج شیٹ کیے جانیوالے افسروں میں ڈائریکٹرکنسٹرکشن ڈویژن طارق محمود،ڈائریکٹر داتا گنج بخشں نجیب رضاخان وارثی سہیل اسلم سندھو جہ کہ اس وقت ایکسئین گرین ٹاؤن ہے،فیصل شہزاد خرم،ایس ڈی او شوکت علی،ایس ڈی او اقبال ظفر،اسد علی ،ظفر رضا،سب انجئیرز میں علی حید ر نقوی،نائص خالدتنویر،سپر وائزرجمشید،فنانس ڈیپارٹمنٹ کا اکاؤنٹس آفیسروجاہت انور،ڈپٹی ڈائریکٹر غلام حسین،لیڈی اکاؤنٹ اسسٹنٹ علیشا،جونئیر کلرک شہباز اشفاق کے نام شامل ہیں۔ایم ڈی کی طرف سے جاری کی گئی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ملزمان نے داتا گنج بخش ٹاؤن میں 200سے زائد بوگس اور فرضی سکیمیں بنائی ہیں ۔افسروں کے جعلی دستخط کر کے 2کروڑ 34لاکھ خزانے سے نکلوا لیے۔انہیں کہا گیا ہے کہ 2دن کے اندر صفائی پیش کریں بصورت دیگر کمیٹی کی حتمی رپورٹ آنے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔اس حوالے سے چارج شیٹ تمام افسرون کو وصول کر ا دی۔ایم ڈی واسا نصیر چوہدری نے کہا ہے کہ کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور کریمینل ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ضرورت پڑے پر معاملہ نیب میں بھی بھجوایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ واسا میں کالی بھیڑوں کو کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1