4 کمسن بچوں کے قتل کی تحقیقات چار ہفتوں کے اندر مکمل کی جائیں مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ

4 کمسن بچوں کے قتل کی تحقیقات چار ہفتوں کے اندر مکمل کی جائیں مقبوضہ کشمیر ...

 سری نگر (کے پی آئی( مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے ہندوارہ کے مضافاتی گاؤں دودھی پورہ میں 2006کے دوران 4 کمسن بچوں کے قتل کی چار ہفتوں کے اندر تحقیقات مکمل کرنے اور پولیس رپورٹ میں ملزم قرار دئے گئے فوجی افسر اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مکمل شواہد پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ گزشتہ روز جسٹس بنسی لا ل بھٹ کی عدالت میں22فروری 2006کو دودھی پورہ ہندوارہ میں 4 کمسن بچوں کے قتل کے مقدمے کی سماعت ہوئی اس موقعے پر پولیس نے اپنی تازہ رپورٹ پیش کی۔ جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ سانحہ کے روز کیپٹن دتہ جوکہ اب 13آر آر فوجی یونٹ کے میجر ہیں ،کی سربراہی میں علاقے میں آپریشن ہوا ۔اس حوالے سے فوج کا یہ موقف بتایا گیا کہ مذکورہ یونٹ جب دودھی پورہ پہنچا تو وہاں جنگجوؤں نے فائرنگ کی جس کے بعد گولیوں کے تبادلے میں دودھی پورہ کے چار کمسن بچے آکر جان بحق ہوئے ۔تاہم مقامی لوگ فوج کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فوج نے بلا وجہ کرکٹ کھیل رہے معصوم بچوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ جان بحق ہوگئے ۔اس سلسلے میں 2006سے آج تک پولیس نے مکمل رپورٹ پیش نہیں کی تاہم اب جمعہ کو ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ کیپٹن دتہ اس وقت فوجی دستے کی سربراہی کررہے تھے ۔اس موقعے پر متاثرین کی طرف سے کیس کی پیروی کررہے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ایڈوکیٹ امروز نے بتایا کہ تحقیقاتی ایجنسی نے پہلے ہی بہت سارا وقت لیا ہے اور اب مزید وقت کی گنجائش نہیں ہے ۔لہذا اس رپورٹ میں ظاہر کئے گئے فوجی اہلکاروں اور افسران کے خلاف باضابطہ طور کارروائی شروع کی جائے ۔عدالت عالیہ نے وکلا کے دلائل سماعت کرنے اور پولیس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس کیس کی تحقیقات 4ہفتوں کے اندر اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی ساتھ ہی رپورٹ کے مطابق فوجی افسران اور اہلکاروں کے رول کی مکمل تحقیقات کرنے کا حکم دیا ۔کیس کی اگلی سماعت4ہفتوں کے بعد مقرر کی گئی ہے ۔

مزید : عالمی منظر