سویڈن جولین اسانج سے لندن میں ہی پوچھ گچھ پر تیار

سویڈن جولین اسانج سے لندن میں ہی پوچھ گچھ پر تیار

 لندن (آن لائن )سویڈن کے استغاثہ نے جنسی استحصال کے الزامات کے سلسلے میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج سے لندن میں پوچھ گچھ کرنے کی پیشکش کی ہے۔سویڈن کے استغاثہ نے 2010 میں جنسی استحصال کے معاملے میں ان کی گرفتاری سے پہلے ان سے سویڈین میں ہی تفتیش کرنے کی بات کہی تھی۔جولین اسانج کو ڈر ہے کہ اگر وہ پوچھ گچھ کے لیے سویڈن گئے تو انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ جولین اسانج کی ویب سائٹس وکی لیکس کی جانب سے بعض خفیہ معلومات شائع کرنے کے سلسلے میں وہ امریکہ کو مطلوب ہیں۔جولین اسانج کے ایک وکیل پر سیمیولسن نے سیوڈن کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ ’وہ تفتیش میں پورا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسانج کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے‘۔اس معاملے کے چیف استغاثہ میرینینی نے بتایا ہے کہ سویڈن کے قانون کے تحت اگست میں جولین اسانج پر عائد بعض اہم الزامات کی مدت ختم ہوجائے گی۔ان کا کہنا تھا ’میں ہمیشہ سے یہ سمجھتی تھی کہ جولین اسانج سے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں بات کرنے سے انٹرویو کی کوالٹی متاثر ہوگی‘۔’لیکن کیونکہ اب وقت کم ہے تو ہمیں وہیں انٹرویو کرنا ہوگا‘۔میرینینی کا خیال تھا کہ پوچھ گچھ کے لیے اسانجے کو سٹاک ہوم لایا جائے۔سویڈن کے قانون کے مطابق بعض الزامات کی تفتیش کے لیے ایک محدود وقت ہوتا ہے اور جولین اسانج پر جو الزامات ہیں ان کی تفتیش کے لیے وکلاء4 کے پاس اگست تک کا وقت ہے۔مسٹر اسانج کا تعلق آسٹریلیا سے اور پیشے سے وہ ایک صحافی اور سماجی کارکن ہیں،حالانکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ جمعہ کو ہونے والی اس پیش و رفت سے سویڈن کی سپریم کورٹ میں اسانج کا وہ کیس کس طرح متاثر ہوگا جس کے تحت سرپم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ وکی لیکس کے بانی کی اس درخواست کی سماعت کرے گی جس میں اسانج نے مطالبہ کیا ہے کہ سویڈن سمیت یورپی ممالک میں ان کی گرفتاری سے متعلق وارنٹ خارج کیا جائے۔سویڈن کی پریس میں اس معاملے کو بہت بڑا چڑھا کو کور نہیں کیا گیا ہے کیونکہ سویڈن میں مشتبہ افراد کی شناخت چھپانے پر زور دیا جاتا ہے اور اخبارات اور ٹی وی رپورٹس بیشتر اوقعات مشتبہ ملزموں کے نام واضح نہیں کرتے ہیں۔ لیکن اسانج سے لندن میں پوچھ گچھ کرنے کے فیصلے سے متعلق وہاں کی میڈیا میں شہ سرخیوں میں ہے۔جولین اسانج کا تعلق آسٹریلیا سے اور پیشے سے وہ ایک صحافی اور سماجی کارکن ہیں۔ ان پر ابھی باقاعدہ اس مقدمے میں فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے لیکن استغاثہ ان سے ریپ اور جنسی استحصال کے الزام کے سلسلے میں تفتیش کرنا چاہتی ہے۔سویڈن میں انھیں دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام کا سامنا ہے۔ اسانج اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے دونوں خواتین کی مرضی سے ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا تھا۔میرینینی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسانجے کی قانونی ٹیم سے درخواست کی ہے کہ وہ لندن میں ان کے ڈین این اے کا نمونے لیں اور ان سے پوچھ گچھ کریں۔اسانج کے وکیل سیمیولسن کا کہنا ہے ان کی اس درخواست سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی ہے کیونکہ اسانج 2010 میں برطانیہ کی پولیس کو اپنے ڈی این اے کا نمونے دے چکے ہیں۔جولیان اسانج کے لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لینے کے بعد ایکواڈور نے انہیں ملک میں پناہ دینے کی پیشکش کی تھی۔سنہ 2012 میں برطانوی سپریم کورٹ کی جانب سے اسانج کی سویڈن حوالگی کے کیس کو دوبارہ نہ کھولنے کے فیصلے کے بعد ایکواڈور کے سفارت خانے نے جولین اسانج کو سیاسی پناہ دے دی تھی،نومبر نے سویڈن کی عدالت نے اسانجے کی گرفتاری کے وارنٹ جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا اور استغاثہ کی اس بات کے لیے تنقید کی تھی کہ وہ اسانج سے تفتیش کرنے کے لیے متبادل مقامات کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے۔اگر اسانج کو سویڈن کے حوالے کردیا جاتا ہے تو انہیں وہاں پہنچتے ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔سنہ 2012 میں برطانوی سپریم کورٹ کی جانب سے اسانج کی سویڈن حوالگی کے کیس کو دوبارہ نہ کھولنے کے فیصلے کے بعد ایکواڈور کے سفارت خانے نے جولین اسانج کو سیاسی پناہ دے دی تھی۔اسانج کو خدشہ ہے کہ اگر انھیں سویڈن بھیجا گیا تو وہاں سے انھیں امریکہ لے جا کر ان پر امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر لانے کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات وکی لیکس کو فراہم کرنے والے امریکی اہلکار بریڈلی میننگ کو اس جرم میں 35 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔

مزید : عالمی منظر